سرینگر؍۲۴؍اگست
شمالی کشمیر کے اہم ضلع صدر مقام بارہمولہ میں لوگوں کی یہ مانگ دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے کہ وندے بھارت ایکسپریس، جو فی الحال سرینگر سے جموں توی تک دستیاب ہے، کو بارہمولہ تک توسیع دی جائے۔ شمالی کشمیر کے رہائشیوں اور سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ جدید اور تیز رفتار ریل سروس کا فائدہ وادی کے شمالی حصے کے لوگوں کو بھی ملنا چاہئے اور بارہمولہ کو وندے بھارت کے نیٹ ورک میں شامل کیا جانا چاہئے۔
یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وزارت ریلوے نے جموں توی اور سرینگر کے درمیان تیسری وندے بھارت ایکسپریس چلانے کی منظوری دی ہے۔ نئی ٹرین اُدھم پور کے راستے چلے گی اور اُدھم پور کو اس کا اسٹاپ مقرر کیا گیا ہے۔ اس طرح جموں اور سرینگر کے درمیان چلنے والی وندے بھارت ٹرینوں کی تعداد تین ہو جائے گی۔
مرکزی وزیر مملکت برائے وزیراعظم دفتر اور اُدھم پور کے رکن پارلیمان ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ریلوے وزیر اشونی ویشنو کا خط سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا۔ خط میں ریلوے وزیر نے جموں توی اور سرینگر کے درمیان شہید کیپٹن تشار مہاجن اُدھم پور کے راستے تیسری وندے بھارت ایکسپریس چلانے کی منظوری سے آگاہ کیا ہے۔ نئی سروس ٹرین نمبر 26407/26408 کے طور پر چلائے جانے کی اطلاع ہے۔
جتیندر سنگھ نے کہا کہ اُدھم پور کے مقامی لوگوں کے پُرزور مطالبے اور ان کی جانب سے کی گئی درخواست کے جواب میں وزارت ریلوے نے نئی وندے بھارت ایکسپریس میں اُدھم پور کو اسٹاپ کے طور پر شامل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے اس فیصلے کو علاقے کے عوام کی امنگوں کے تئیں وزیر اعظم نریندر مودی کی حساسیت کا اظہار قرار دیتے ہوئے ریلوے وزیر اشونی ویشنو کا شکریہ ادا کیا۔
دوسری جانب شمالی کشمیر میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ جب بارہمولہ بھی اُدھم پور۔سرینگر۔بارہمولہ ریل لنک کا اہم حصہ ہے اور وادی کے شمالی علاقوں کی بڑی آبادی اس ریل رابطے پر منحصر ہے تو وندے بھارت کو بارہمولہ تک کیوں نہیں بڑھایا جا رہا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف روزانہ سفر کرنے والوں بلکہ طلبہ، مریضوں، تاجروں اور سیاحوں کو بھی بڑی سہولت حاصل ہوگی۔
بارہمولہ تک وندے بھارت کی توسیع سے شمالی کشمیر کے وسیع علاقے کو تیز رفتار اور زیادہ قابل اعتماد سفری سہولت میسر آ سکتی ہے۔ موجودہ سروس کے باعث جہاں وسطی اور جنوبی کشمیر کے مسافروں کو براہ راست فائدہ حاصل ہو رہا ہے، وہیں شمالی کشمیر کے مسافروں کو اس سہولت سے محروم رہنا پڑ رہا ہے۔ شمالی کشمیر کے حلقوں کا مطالبہ ہے کہ علاقائی رابطے میں مساوات کو یقینی بنانے کے لیے بارہمولہ کو بھی اس جدید ریل سروس سے جوڑا جائے۔
یہ مطالبہ اس لیے بھی اہم ہے کہ سرینگر۔جموں قومی شاہراہ خراب موسم، برف باری، بارش اور پسیاں گرنے کے باعث اکثر متاثر ہوتی رہتی ہے۔ ایسے حالات میں ریل رابطہ ایک نسبتاً قابل اعتماد متبادل فراہم کرتا ہے۔ وزارت ریلوے کے مطابق جموں۔سرینگر وندے بھارت سروس نے مسافروں، سیاحوں اور تاجروں کے لیے رابطے کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ خطے کی معیشت اور سیاحت کو بھی فروغ دیا ہے۔
جموں اور سرینگر کے درمیان براہ راست وندے بھارت سروس رواں سال ۳۰ ؍اپریل کو شروع ہوئی، جب سرینگر۔کٹرہ سروس کو جموں توی تک توسیع دی گئی۔ اس سے پہلے یہ ٹرین سرینگر اور ماتا ویشنو دیوی کٹرہ کے درمیان چل رہی تھی۔ موجودہ وندے بھارت سروسز کو مسافروں کی جانب سے بھرپور پذیرائی ملنے کے بعد ہر ٹرین کے کوچز کی تعداد ۸ سے بڑھا کر ۲۰ کر دی گئی تھی۔ وزارت ریلوے کے مطابق دونوں سروسز شروع ہی سے تقریباً مکمل گنجائش کے ساتھ چل رہی ہیں۔
جموں۔سرینگر ریل کوریڈور تقریباً ۲۶۶ کلومیٹر طویل ہے اور وندے بھارت نے دونوں شہروں کے درمیان سفر کا وقت تقریباً ساڑھے چار گھنٹے تک محدود کر دیا ہے۔ اس براہ راست رابطے نے پہلی مرتبہ جموں اور کشمیر کو مسافر ریل کے ذریعے براہ راست جوڑ دیا ہے۔
اس ریل رابطے کی ایک بڑی خصوصیت دریائے چناب پر تعمیر کیا گیا دنیا کا بلند ترین ریلوے آرچ پل ہے، جو دریا کی سطح سے تقریباً ۳۵۹ میٹر بلند ہے۔ اس کے علاوہ دریائے انجئی پر بھارت کا پہلا کیبل اسٹیڈ ریلوے پل بھی اسی منصوبے کا حصہ ہے۔ یو ایس بی آر ایل میں متعدد سرنگیں اور سیکڑوں پل شامل ہیں، جنہوں نے کشمیر کو ملک کے وسیع ریلوے نیٹ ورک سے جوڑنے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔
ادھر شمالی کشمیر کے لوگوں کا کہنا ہے کہ بارہمولہ تک وندے بھارت چلانے سے اس ریل رابطے کا فائدہ مزید وسیع آبادی تک پہنچ سکتا ہے۔ بارہمولہ نہ صرف شمالی کشمیر کا اہم تجارتی مرکز ہے بلکہ کپواڑہ، بانڈی پورہ اور دیگر شمالی علاقوں کے لوگوں کے لیے بھی ایک اہم سفری مرکز ہے۔ وندے بھارت سروس کو یہاں تک بڑھانے سے تجارت، سیاحت، تعلیم اور علاج کے لیے سفر کرنے والے لوگوں کو تیز تر سفری سہولت ملنے کے ساتھ شمالی کشمیر کی اقتصادی سرگرمیوں کو بھی تقویت مل سکتی ہے۔
وزارت ریلوے پہلے ہی قاضی گنڈ اور بارہمولہ کے درمیان ریلوے لائن کی گنجائش بڑھانے کے لیے ڈبلنگ کا کام جاری رکھنے کی اطلاع دے چکی ہے، جبکہ اُڑی۔بارہمولہ ریل لائن کی توسیع بھی منصوبہ بندی اور تفصیلی منصوبہ رپورٹ کے مرحلے میں ہے۔ ایسے میں شمالی کشمیر کے عوام کی نظریں اب اس بات پر ہیں کہ وندے بھارت ایکسپریس کو بارہمولہ تک توسیع دینے کے ان کے مطالبے پر بھی کب غور کیا جاتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
(ندائے مشرق خبر)









