نئی دہلی، 22 اگست (یو این آئی) نیشنل بایو ڈائیورسٹی اتھارٹی (این بی اے) نے بایو ریسورسز کے استعمال سے حاصل شدہ ایکسیس اینڈ بینیفٹ شیئرنگ (اے بی ایس) رقم کے تحت 27 ریاستی بایو ڈائیورسٹی بورڈز اور تین مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی بایو ڈائیورسٹی کونسلوں کو 2.80 کروڑ روپے جاری کیے ہیں۔
وزارتِ ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی نے ہفتہ کے روز یہ معلومات دیتے ہوئے بتایا کہ یہ رقم پھول گوبھی، مرچ، بھنڈی اور ٹماٹر کی مختلف ہائبرڈ قسموں سے جڑے بائیو ریسورسز کے استعمال کے لیے حاصل شدہ اے بی ایس رقم سے جاری کی گئی ہے۔ این بی اے کو اس معاملے میں 2.94 کروڑ روپے موصول ہوئے تھے۔
وزارت کے مطابق، گجرات کو سب سے زیادہ 44.59 لاکھ روپے، مغربی بنگال کو 41.24 لاکھ، مدھیہ پردیش کو 32.73 لاکھ، اڈیشہ کو 32.57 لاکھ اور بہار کو 30.86 لاکھ روپے جاری کیے گئے ہیں۔ اس رقم کا استعمال پیپل بائیو ڈائیورسٹی رجسٹروں کی دستاویزی اور اپڈیٹنگ، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، متاثرہ ایکو سسٹم کی بحالی، بایو ڈائیورسٹی ہیریٹیج سائٹس کو مضبوط کرنے، بایو ڈائیورسٹی مینجمنٹ کمیٹیوں کی صلاحیت بڑھانے نیز مقامی برادریوں کے روزگار میں سدھار جیسی سرگرمیوں کے لیے کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ کرناٹک میں واقع انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ-انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹی کلچرل ریسرچ کو دو مائیکرو بیئل انواع کے استعمال کے لیے حاصل شدہ اے بی ایس رقم میں سے 2.01 لاکھ روپے جاری کیے گئے ہیں۔









