قانون سازوں نے جمہوری جمہوریہ کانگو (ڈی آر سی) کے ساتھ امریکہ کے ’’اسٹریٹجک پارٹنرشپ معاہدے‘‘ پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔ ان کے مطابق اس معاہدے کے تحت ڈی آر سی کے آئین میں تبدیلیاں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے اور امریکی کمپنیوں کو کان کنی کے ٹھیکوں پر ترجیحی حق دیا جا رہا ہے، جبکہ ملک میں بڑے پیمانے پر تشدد اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں۔
انہوں نے ایسی رپورٹس کی بھی نشاندہی کی کہ امریکہ نے وہاں کان کنی کے مقامات کے تحفظ کے لیے ایک نیم فوجی فورس کی مالی معاونت کی اور ممکنہ طور پر ایک ایسے کاروباری شخص پر عائد پابندیاں ختم کرنے کی تیاری کر رہا ہے، جس کا ماضی میں بدعنوانی کے اسکینڈلز سے تعلق رہا ہے، تاکہ کوبالٹ کے معاہدے کی راہ ہموار کی جاسکے۔
قانون سازوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ اہم معدنیات کے لیے مجوزہ کم از کم قیمتیں طے کرنے کا نظام کارٹل جیسے اقدامات کی حدود میں داخل ہوسکتا ہے، جو امریکی مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی کا باعث بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر معدنیات کی ترسیل کے سراغ اور چینی شرکت سے متعلق سخت قوانین نہ بنائے گئے تو یہ اقدامات چین کا انحصار کم کرنے کے بجائے عالمی سپلائی چین پر اس کی گرفت مزید مضبوط کرسکتے ہیں۔
ہف مین، سانچیز، جیکسن اور ان کے ساتھیوں نے نو مختلف معاملات پر وضاحت طلب کی ہے، جن میں مزدوروں اور ماحولیاتی معیار پر عمل درآمد، کان کنی کی کمپنیوں میں امریکی ایکویٹی حصص سے متعلق مفادات کے ٹکراؤ کو روکنے کے طریقہ کار اور گہرے سمندر میں کان کنی کے منصوبوں کے ماحولیاتی جائزے کیے جانے یا نہ کیے جانے کے سوالات شامل ہیں۔
قانون سازوں کا مجموعی مؤقف ہے کہ خفیہ طور پر کیے جانے والے، عوامی پیسے سے مالی اعانت حاصل کرنے والے اور اندرونی افراد کے ممکنہ منافع سے متعلق رپورٹس کی زد میں آنے والے معاہدے اس ’’شفاف اور جوابدہ مذاکراتی عمل‘‘ کے بالکل برعکس ہیں جسے وہ اہم معدنیات کی پالیسی کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں۔
خط پر دستخط کرنے والے 54 ارکان میں جیرڈ ہف مین، لنڈا سانچیز، جوناتھن جیکسن، الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز، الہان عمر، رو کھنہ، جوڈی چو اور خواکین کاسترو، ڈنگل، واٹسن کولمین سمیت ایوان نمائندگان کے مزید 44 ڈیموکریٹ ارکان شامل ہیں۔










