لال قلعہ کی فصیل سے خطاب میںمینوفیکچرنگ، زراعت، ٹیکنالوجی، انفراسٹرکچر، دفاع، سبز معیشت اور نرم طاقت پر زور
سرینگر/۱۵ ؍اگست
وزیرِ اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز بھارت کو۲۰۴۷ تک ایک ترقی یافتہ ملک بنانے کے سفر کو تیز کرنے کے لیے سات نکاتی اصلاحاتی فریم ورک ’’سپت دھارا‘‘ پیش کیا، جس میں مینوفیکچرنگ، زرعی و غذائی پیداوار اور فوڈ پروسیسنگ، ٹیکنالوجی و اختراع، لاجسٹکس، دفاع، سبز و نیلی معیشت اور نرم طاقت پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔
۸۰ویں یومِ آزادی کے موقع پر لال قلعے کی فصیل سے قوم سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے اُس دور کو یاد کیا جب بھارت کی طاقت کو ’’سپت سندھُو‘‘ کے نام سے جانا جاتا تھا اور کہا کہ اب ملک کو ایک ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر کے لیے طاقت کے نئے دھاروں کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا، ’’اب ایک ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر کے لیے ہمیں ایک نئے دھارے کی ضرورت ہے۔‘‘
مودی نے کہا، ’’آج لال قلعے کی فصیل سے میں قوم کے سامنے طاقت کے ان سات دھاروں کو پیش کرتا ہوں۔‘‘انہوں نے کہا کہ اگلے۵سے۷برسوں میں ان سات دھاروں کی قوت اور طاقت سے بھارت کو نئی بلندی، نئی رفتار اور نئے اہداف حاصل کرنے کی صلاحیت دی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ قوم کی تعمیر میں ملک کی نوجوان طاقت کی مکمل صلاحیت بروئے کار لائی جائے گی۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ’’سپت دھارا‘‘ کی پہلی طاقت مینوفیکچرنگ ہے۔ انہوں نے مینوفیکچرنگ کے شعبے کو آگے بڑھانے اور چھوٹے پرزوں سے لے کر بڑی مصنوعات تک ہر چیز بھارت میں تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
مودی نے کہا، ’’ہمیں ایک مکمل ویلیو چین قائم کرنا ہوگا۔ ڈیزائن سے لے کر مینوفیکچرنگ تک بھارت کو دنیا کے لیے ایک قابلِ اعتماد عالمی سپلائی چین شراکت دار کے طور پر اپنی شناخت قائم کرنا ہوگی۔‘‘
وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت کو لاگت، معیار اور پیمانے کے حوالے سے عالمی معیار تک پہنچنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ بھارتی صنعت کاروں کو لاگت، معیار اور پیداوار کے پیمانے میں عالمی معیارات پر پورا اترنا ہوگا، جبکہ کارخانے مسابقتی، مصنوعات صارف دوست اور پیکیجنگ پرکشش ہونی چاہیے۔
مودی نے کہا، ’’ہر صنعت کار، ہر کاروباری اور ہر ایم ایس ایم ای سے میں کہنا چاہتا ہوں کہ عالمی منڈی میں ہماری شناخت اعتماد اور معیار کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔‘‘ انہوں نے زور دیا کہ معیار پر ’’کوئی سمجھوتہ‘‘ نہیں ہونا چاہیے۔
سپت دھارا کا دوسرا دھارا زراعت اور فوڈ پروسیسنگ ہے۔ مودی نے بھارتی کسانوں کو عالمی منڈیوں تک رسائی فراہم کرنے پر زور دیا۔
انہوں نے کہا، ’’دنیا کی منڈیاں اب ہمارے کسانوں کے لیے کھلی ہوئی ہیں۔ آزاد تجارتی معاہدوں کے باعث ہمیں بہت بڑی منڈی تک رسائی حاصل ہورہی ہے۔ ہمیں وہاں پہنچنا ہوگا۔‘‘انہوں نے کہا کہ ملک کو ’’کھیت سے برآمدی منڈی تک‘‘ کا سفر طے کرنا ہوگا۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ روایتی بھارتی پکوان، باجرہ، مصالحہ جات، پھل اور پھول اور کیمیکل سے پاک زرعی پیداوار عالمی برانڈ بن سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ بین الاقوامی معیار پر پورا اتریں۔
مودی نے ٹیکنالوجی اور اختراع کو سپت دھارا کا تیسرا دھارا قرار دیتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت، کوانٹم ٹیکنالوجی، خلائی ٹیکنالوجی، روبوٹکس اور ڈیٹا سینٹرز جیسی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز نئے مواقع پیدا کررہی ہیں اور بھارت کو اختراع کا مرکز بننا چاہیے۔انہوں نے کہا، ’’ہم نے یو پی آئی اور ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر میں اپنی شناخت بنائی ہے۔‘‘
وزیر اعظم نے بھارت کی ڈیجیٹل پبلک ٹیکنالوجیز کو دنیا کے ہر کونے تک پہنچانے پر زور دیا۔مودی نے کہا، ’’بھارت کو اگلی نسل کی مواصلاتی ٹیکنالوجی میں قیادت کرنی ہوگی۔ بھارت میں تیار کردہ 6G ہر کونے تک پہنچنا چاہیے؛ یہی ہمارا ہدف ہونا چاہیے۔‘‘
سپت دھارا کی چوتھی طاقت گتی شکتی کو قرار دیتے ہوئے مودی نے بغیر رکاوٹ اور تیز رفتار رابطہ کاری کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کہا، ’’ہمارے شہروں کو تیز رفتار ریل کے ذریعے آپس میں جوڑا جانا چاہیے۔‘‘مودی نے بندرگاہوں کی بنیاد پر ترقی پر بھی زور دیا اور کہا کہ بندرگاہیں صرف سامان کی لوڈنگ اور ان لوڈنگ کی جگہیں نہیں رہنی چاہئیں بلکہ انہیں ترقی کے انجن بننا چاہیے۔
وزیرِ اعظم نے دفاعی طاقت کو سپت دھارا کی پانچویں طاقت قرار دیا اور دفاعی شعبے میں خود کفالت اور بھارت کو اگلی نسل کی دفاعی ٹیکنالوجیز کا عالمی سپلائر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا، ’’جب دنیا اپنے بارے میں سوچ رہی ہو تو بھارت محض دنیا کے لیے ایک منڈی بن کر نہیں رہ سکتا۔‘‘
مودی نے کہا، ’’ہمیں عالمی سپلائر بننا ہوگا۔ ہمیں ہائپرسونک دفاعی ٹیکنالوجیز میں قیادت حاصل کرنی ہوگی۔‘‘انہوں نے ڈرونز، اینٹی ڈرون نظام اور ہائپرسونک دفاعی ٹیکنالوجیز تیار کرنے پر بھی زور دیا اور سائبر سکیورٹی کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو اجاگر کیا۔انہوں نے کہا، ’’بھارت کو دفاعی شعبے میں خود کفیل ہونا ہوگا۔‘‘
وزیر اعظم نے کہا کہ سپت دھارا کا چھٹا دھارا سبز اور نیلی معیشت ہے، جو سبز روزگار کے مواقع بھی پیدا کرے گی۔انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ سبز ہائیڈروجن، قابلِ تجدید توانائی، توانائی ذخیرہ کرنے، سبز نقل و حرکت اور سبز مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں عالمی پیمانے پر کام کرے اور عالمی چیلنجوں کے حل پیش کرتا رہے۔
مودی نے بھارت کی طویل ساحلی پٹی کے پیشِ نظر نیلی معیشت میں بھی بڑے مواقع کا ذکر کیا، جن میں ماہی گیری، ساحلی سیاحت اور سمندری ٹیکنالوجی شامل ہیں۔
نرم طاقت کو سپت دھارا کا ساتواں دھارا قرار دیتے ہوئے مودی نے یوگا کی عالمی مقبولیت اور مذہبی و روحانی مراکز، آیوروید اور جامع صحت کے شعبوں میں بھارت کی طاقت کو اجاگر کیا۔انہوں نے کہا، ’’یوگا دنیا کے لیے ایک توانائی بن رہا ہے اور بھارت کے لیے اعتماد کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔‘‘
وزیر اعظم نے کہا کہ ’’ہیل اِن انڈیا‘‘ مہم، دستکاری، ثقافت، فلمیں، وی ایف ایکس، اینیمیشن، گیمنگ اور ڈیجیٹل مواد ایسے شعبے ہیں جہاں بھارت عالمی طاقت پیدا کرسکتا ہے۔
مودی نے غیر ملکی سیاحوں کو مزید راغب کرنے کے لیے زیادہ کوششوں کی بھی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے پاس وسیع جنگلاتی وسائل اور۱۰۰سے زائد قومی پارکس ہیں، لیکن ملک نے بین الاقوامی سیاحوں کو راغب کرنے کی اپنی مکمل صلاحیت ابھی استعمال نہیں کی۔
مودی نے زور دیا کہ سپت دھارا کو الگ الگ شعبہ جاتی اقدامات کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا، ’’سپت دھارا کی سات طاقتوں کا مقصد صرف ایک شعبے میں ترقی کرنا نہیں ہے۔‘‘ ان کے مطابق بھارت کو اپنی ترقیاتی امنگوں کو پورا کرنے اور اپنے مقرر کردہ اہداف کی سطح کو عبور کرنے کے لیے جامع نقطۂ نظر اختیار کرنا ہوگا۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ ان سات دھاروں کی مشترکہ طاقت بھارت کو نئی بلندیوں تک پہنچانے اور۲۰۴۷ تک ترقی یافتہ ملک بننے کے ہدف کی جانب پیش رفت تیز کرنے میں مدد دے گی۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ بھارت نے گزشتہ۱۲ برسوں میں تیزی سے ترقی کی ہے اور ڈیجیٹل، مینوفیکچرنگ، بنیادی ڈھانچے اور سماجی بہبود کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔مودی نے کہا، ’’آزادی کے بعد پہلی مرتبہ ملک نے ترقی کی اس رفتار کا مشاہدہ کیا ہے۔‘‘
وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ گزشتہ۱۲ برسوں میں دفاعی پیداوار چار گنا، الیکٹرانک مینوفیکچرنگ سات گنا، ہائی ٹیک ریلوے کوچوں کی پیداوار۲۱گنا اور موبائل فون مینوفیکچرنگ۳۳ گنا بڑھ گئی ہے۔انہوں نے ڈیجیٹل اور اختراعی شعبے میں بھی متعدد کامیابیوں کو اجاگر کیا۔مودی نے کہا کہ انٹرنیٹ صارفین کی تعداد چار گنا، پیٹنٹ کی منظوری چار گنا اور ڈیجیٹل لین دین میں۱۰۰فیصد اضافہ ہوا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک )








