سرینگر/۱۵ ؍اگست
وزیرِ اعلیٰ ‘عمر عبداللہ نے ہفتہ کے روز کہا کہ ان کی حکومت جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت اور دیگر آئینی ضمانتوں کو بحال کرنے کے اپنے عزم پر قائم ہے، جنہیں اگست۲۰۱۹ میں ختم کردیا گیا تھا۔
وزیر اعلیٰ نے پاکستان کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) میں جاری احتجاج کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ان کی جماعت کے بزرگ۱۹۴۷ میں قبائلی حملہ آوروں کے خلاف مزاحمت کرنے کے اپنے فیصلے میں درست تھے۔
بخشی اسٹیڈیم میں یومِ آزادی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عبداللہ نے کہا، ’’میں عوام کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں، ہم آپ کی نمائندگی کرتے رہیں گے اور جموں و کشمیر کو اس سطح تک پہنچانے کے لیے کام کریں گے جس کا خواب ان لوگوں نے دیکھا تھا جو آزادی کے لیے لڑے اور شہید ہوئے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا، ’’ان کی قربانیوں کا احترام کرنے کے لیے ہم ان خوابوں کو حقیقت میں بدلیں گے جو وہ اپنے ورثے کے طور پر ہمارے لیے چھوڑ گئے، خواہ وہ خصوصی حیثیت کی واپسی ہو، جموں و کشمیر کے لیے آئینی ضمانتوں کی بحالی ہو، ریاستی حیثیت دوبارہ حاصل کرنا ہو یا ترقی کے ایک نئے دور کی قیادت کرنا ہو۔‘‘
پاکستان کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں جاری احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ موجودہ صورتِ حال نیشنل کانفرنس کے بانی شیخ محمد عبداللہ اور ان کے ساتھیوں کے اس فیصلے کو درست ثابت کرتی ہے جس کے تحت انہوں نے۱۹۴۷ میں پاکستان کی حمایت یافتہ قبائلی حملہ آوروں کے خلاف لڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔
عمرعبداللہ نے کہا، ’’جب میں سرحد پار کی صورتِ حال دیکھتا ہوں تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ ہمارے بزرگ، جنہوں نے کہا تھا ’حملہ آور خبردار، ہم کشمیری ہیں تیار‘، درست تھے۔‘‘انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کے رہنما ماسٹر عبدالعزیز نے حملے کو روکنے کی کوشش کے دوران مظفرآباد میں اپنی جان گنوائی۔
عمر عبداللہ نے یہ بھی کہا کہ اگر مرکز نے۲۰۱۹ میں خصوصی آئینی ضمانتیں منسوخ نہ کی ہوتیں تو پاکستان کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے لوگ آج جموں و کشمیر کے ساتھ دوبارہ جڑنے کے لیے احتجاج کر رہے ہوتے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’آج جب ہم خطِ قبضہ کے اس پار جموں و کشمیر کے اس حصے کو دیکھتے ہیں تو وہاں درد، غم اور تشویش نظر آتی ہے۔ میرے ذہن میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ شاید اگر۲۰۱۹ میں ہمارے حالات تبدیل نہ کیے گئے ہوتے تو جموں و کشمیر کے اس حصے کے لوگ آج ہمارے ساتھ دوبارہ جڑنے کے لیے احتجاج کر رہے ہوتے۔‘‘
عمرعبداللہ نے کہا، ’’جموں و کشمیر کا وہ حصہ ہمارا ہے۔ ہم وہاں کے لوگوں کو اپنا ہی سمجھتے ہیں۔ جموں و کشمیر اسمبلی میں آج بھی ان کے لیے نشستیں خالی رکھی گئی ہیں، اس امید کے ساتھ کہ ایک دن وہ لوگ ان خالی نشستوں کو استعمال کر سکیں گے۔‘‘
وزیراعلیٰ نے جمہوریت اور وفاقیت کو بھارت کی دو سب سے بڑی طاقتیں قرار دیا۔انہوں نے کہا، ’’ہر قیمت پر جمہوریت کا تحفظ، ہر قیمت پر جمہوریت کو مضبوط کرنا اور ہر قیمت پر جمہوریت کو زندہ رکھنا ہماری بہت بڑی ذمہ داری ہے۔‘‘
عمر عبداللہ نے کہا کہ بھارت کاغذ پر ہی نہیں بلکہ روح کے اعتبار سے بھی ریاستوں کا وفاق ہے۔انہوں نے کہا، ’’جب ہم وفاقیت کی بات کرتے ہیں تو اس وفاقیت کو مضبوط کرنے کا آغاز جموں و کشمیر سے ہوتا ہے۔ جو کچھ ہم سے چھینا گیا ہے اسے واپس کیا جانا چاہیے تاکہ یہ وفاقیت اور شناخت صرف الفاظ تک محدود نہ رہیں بلکہ عملی طور پر بھی نظر آئیں۔‘‘
تاہم عبداللہ نے کہا کہ وفاقیت کو مضبوط کرنے کا مطلب صرف مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کو ریاست میں تبدیل کرنا نہیں بلکہ ریاستوں کو مزید مضبوط بنانا بھی ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا، ’’جب مرکزی ایجنسیاں ریاستوں کے معاملات میں مداخلت شروع کرتی ہیں تو وفاقیت کمزور ہوتی ہے۔ جب کسی ریاست کے اختیارات کم کیے جاتے ہیں، ان کی روح نکال دی جاتی ہے اور انہیں مرکزی ایجنسیاں استعمال کرتی ہیں تو وفاقیت کو نقصان پہنچتا ہے اور اس کا نتیجہ اکثر سڑکوں پر نظر آتا ہے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دہلی کی سڑکوں پر حالیہ طلبہ احتجاج بھی اسی مسئلے کا نتیجہ تھا۔انہوں نے کہا، ’’ہمارے وفاقی ڈھانچے کے تحت تعلیم اور صحت دونوں ریاستوں کی ذمہ داریاں تھیں۔ لیکن امتحانات کا طریقہ تبدیل کردیا گیا۔ این ای ای ٹی ‘این ٹی اے اور جے ای ای جیسے امتحانات متعارف کرائے گئے اور ریاستوں سے میڈیکل اور انجینئرنگ کالجوں میں داخلے دینے کا حق لے لیا گیا۔ اس کا نتیجہ دہلی میں اسی سلسلے کے خلاف احتجاج اور تحریکوں کی صورت میں سامنے آیا۔‘‘
وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ قومی اداروں کے لیے قومی سطح کے امتحانات منعقد کرنا درست ہے، لیکن ریاستوں کو اپنے اداروں کے لیے امتحانات منعقد کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں بھرتی کے امتحانات میں دھاندلی کے الزامات کے باعث بھی نوجوان سڑکوں پر آنے پر مجبور ہوئے۔
عمر عبداللہ نے کہا، ’’حقیقت یہ ہے کہ کسی چیز یا نظام کی ساکھ ختم کرنا چند منٹوں کا کام ہے، لیکن اس ساکھ کو دوبارہ قائم کرنے میں برسوں لگ جاتے ہیں۔‘‘
عمر عبداللہ نے کہا کہ جمہوریت میں حکومت، اپوزیشن اور میڈیا تینوں کا کردار انتہائی اہم ہے۔انہوں نے کہا، ’’حکومت کا کام کام کرنا ہے؛ اپوزیشن کا کام حکومت کو جواب دہ بنانا ہے، خواہ اسمبلی کے اندر ہو یا باہر؛ اور میڈیا کا کام دونوں کو جواب دہ بنانا ہے۔‘‘
تاہم نیشنل کانفرنس کے رہنما نے کہا کہ سب سے بڑا کردار حکومت کا ہے۔ انہوں نے مزید کہا، ’’اپوزیشن بھی اپنی ذمہ داریوں سے پیچھے نہیں ہٹ سکتی اور اس بات کو صرف الفاظ میں نہیں بلکہ عملی طور پر نافذ کرنا ہوگا۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(ندائے مشرق خبر)









