سرینگر/۱۵ ؍اگست
جموں و کشمیر اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف سنیل شرما نے ہفتہ کے روز وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی یومِ آزادی کی تقریر کو ’’غیر ذمہ دارانہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ افسوسناک ہے کہ وزیرِ اعلیٰ ایک بار پھر وادی میں ابہام کی فضا پیدا کرنا چاہتے ہیں۔
شرما نے یہ بھی کہا کہ اگست۲۰۱۹ میں دفعہ۳۷۰ کی منسوخی کے بعد ہی کشمیر میں وفاقی ڈھانچہ مزید مضبوط ہوا ہے۔
بخشی اسٹیڈیم میں۸۰ ویں یومِ آزادی کی تقریب کے دوران وزیرِ اعلیٰ کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے شرما نے پی ٹی آئی ویڈیوز سے گفتگو میں کہا، ’’وزیرِ اعلیٰ کی تقریر قدرے افسوسناک تھی۔ میں کہوں گا کہ یہ ایک بدقسمتی اور غیر ذمہ دارانہ تقریر تھی، کیونکہ یہ کوئی سیاسی پلیٹ فارم نہیں ہے۔ اس مقام سے ملک کی وحدت، سالمیت اور خودمختاری کے بارے میں بات ہونی چاہیے تھی، فوجیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا جانا چاہیے تھا، شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا جانا چاہیے تھا اور بالخصوص ترنگے کے وقار اور احترام کو اجاگر کیا جانا چاہیے تھا۔‘‘
حزب اختلاف کے لیڈر نے کہا کہ عمرعبداللہ کو اپنی حکومت کی کارکردگی یا مستقبل کی منصوبہ بندی کے بارے میں بات کرنی چاہیے تھی، لیکن یہ دونوں چیزیں ’’بالکل غائب‘‘ تھیں۔
جموں خطے کے پاڈر،ناگسینی حلقے سے بی جے پی کے رکن اسمبلی سنیل شرما نے الزام عائد کیا کہ عمر عبداللہ ملک کے وفاقی ڈھانچے کی مضبوطی پر سوال اٹھانا چاہتے ہیں۔
شرمانے کہا، ’’میں وزیرِ اعلیٰ سے کہنا چاہتا ہوں کہ۵؍اگست۲۰۱۹ کے بعد ہی وفاقی ڈھانچہ مضبوط ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہر کشمیری ’وندے ماترم‘ گنگنا رہا ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ وزیرِ اعلیٰ کی تقریر اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ وہ اس پلیٹ فارم کا ’’غلط استعمال‘‘ کرکے آخر کیا پیغام دینا چاہتے ہیں۔
حزب اختلاف کے لیڈر نے کہا، ’’میں اس بات سے بہت دکھی ہوں کیونکہ آج عوام، خصوصاً بے روزگار نوجوانوں کو امید تھی کہ وزیرِ اعلیٰ ان کے لیے اور تمام طبقات کے لیے کچھ بڑا کہیں گے۔‘‘مرکز کی جانب سے۲۰۱۹میں منسوخ کی گئی آئینی ضمانتوں کا عمر عبداللہ کی جانب سے حوالہ دیے جانے پر شرما نے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ کشمیر میں ابہام کی فضا پیدا کرنا چاہتے ہیں۔
بی جے پی رہنما نے کہا، ’’پارلیمنٹ، جو جمہوریت کا سب سے بڑا مندر ہے، نے دفعہ۳۷۰ کو منسوخ کیا۔ سپریم کورٹ نے اسے جائز قرار دیا۔ اب وہ (عبداللہ) اس مقام سے کیا دکھانا چاہتے ہیں؟ وہ ایک بار پھر کشمیر میں ابہام کی فضا پیدا کرنا چاہتے ہیں، جو افسوسناک ہے۔‘‘
تاہم شرما نے عمر عبداللہ کے الحاق سے متعلق بیان کا خیر مقدم کیا۔
انہوں نے کہا، ’’پورا بھارت اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ جموں و کشمیر بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے۔ یہاں کے لوگ اس ملک کی طاقت اور قوت ہیں۔ صرف یہاں کے لوگ ہی نہیں بلکہ خطِ قبضہ کے پار غیر قانونی قبضے میں رہنے والے لوگ بھی ہمارے لیے اسی طرح اٹوٹ ہیں اور ہم انہیں اپنا ساتھی سمجھتے ہیں۔‘‘
وزیرِ اعلیٰ نے اپنی تقریر میں پاکستان کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں ہونے والے احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ موجودہ صورتِ حال نیشنل کانفرنس کے بانی شیخ محمد عبداللہ اور ان کے ساتھیوں کے۱۹۴۷ میں پاکستان کی حمایت یافتہ قبائلی حملہ آوروں کے خلاف لڑنے کے فیصلے کو درست ثابت کرتی ہے۔
یومِ آزادی پر عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے شرما نے کہا کہ یہ وہ موقع ہے جب ہمیں ان لوگوں کو یاد کرنا چاہیے جنہوں نے ملک کی آزادی کے لیے اپنی جانیں خوشی سے قربان کردیں، جن میں بھگت سنگھ، چندرشیکھر آزاد اور سبھاش چندر بوس جیسے عظیم رہنما شامل ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہفتہ کا دن کشمیر کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا کیونکہ بخشی اسٹیڈیم میں قومی گیت وندے ماترم گایا گیا۔
شرما نے کہا، ’’آج بخشی اسٹیڈیم کے اس تاریخی میدان میں وندے ماترم گنگنایا گیا۔ ہر شخص احترام سے کھڑا ہوا اور اسے گنگنایا۔ میرے خیال میں کشمیر کی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا ہے۔ یہ بہت اچھی بات ہے اور میں جموں و کشمیر کے تمام باشندوں کو اس پر مبارکباد دیتا ہوں۔ یہ ان نوجوانوں کو بھی خراجِ عقیدت ہے جنہوں نے ہماری حفاظت کے لیے اپنی جانیں قربان کیں اور اپنا خون بہایا۔‘‘
وزیرِ اعظم نریندر مودی کی جانب سے خواتین کے لیے ریزرویشن کے معاملے پر تمام اپوزیشن جماعتوں سے حمایت طلب کیے جانے کے بارے میں سوال کے جواب میں شرما نے کہا کہ۲۰۲۹ کے انتخابات کے لیے یہ ضروری ہے۔انہوں نے کہا، ’’اس سے خواتین کو ہر شعبے میں سب سے آگے آنے کا موقع ملے گا۔ خواتین کے لیے ریزرویشن بھارت کی سیاست اور ہمارے قانون ساز نظام کے لیے ضروری ہے۔‘‘
ایل او پی نے کہا، ’’جب وزیرِ اعظم نے اس مرتبہ تمام اپوزیشن جماعتوں کے سامنے آئین میں ترمیم کی تجویز رکھی تو ان کا واحد مقصد خواتین کو بااختیار بنانا تھا۔‘‘
کشمیری پنڈت ملازمین کو دہشت گردوں کی جانب سے دھمکی آمیز خطوط موصول ہونے سے متعلق سوال کے جواب میں شرما نے کہا کہ بھارت ایک ملک کے ساتھ بالواسطہ اور غیر اعلانیہ جنگ لڑ رہا ہے، اس لیے سرحد پار سے ایسی کوششیں جاری رہتی ہیں۔
حزب اختلاف کے لیڈر نے کہا، ’’میرا ماننا ہے کہ بھارتی حکومت اور سکیورٹی فورسز نے سکیورٹی کے نقطۂ نظر سے ایک بڑی تبدیلی پیدا کی ہے۔ تاہم وہ ملک (پاکستان) بھی مسلسل کوشش کر رہا ہے، بالخصوص کشمیری پنڈتوں کو نشانہ بنانے کی، کیونکہ آج یہ برادری یہاں اپنی املاک کا حق مانگ رہی ہے، اپنی ملازمتوں کا حق حاصل کر رہی ہے اور یہاں دوبارہ آباد ہونے کی کوشش کر رہی ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ دہشت گرد تنظیمیں اور پاکستان اس تبدیلی سے ’’پریشان‘‘ ہیں۔
شرما نے دعویٰ کیا، ’’ان کے عناصر، جو اب بھی یہاں ایک ڈھانچے اور نیٹ ورک کی صورت میں موجود ہیں، کوششیں کر رہے ہیں۔ لیکن وہ ناکام ہوں گے، کیونکہ بھارتی حکومت اور وزارتِ داخلہ کی انسدادِ دہشت گردی کی پالیسی پوری قوت کے ساتھ جاری ہے۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔
(ایجنسیاں )









