غزہ، 14 اگست (یواین آئی) مقبوضہ مغربی کنارے کے ایک گاؤں میں تقریباً ایک درجن فلسطینی خاندانوں کو اسرائیلی فوج کی جانب سے اسرائیلی آبادکاروں کو ہٹانے کے لیے کی جانے والی کارروائی کے دوران اپنے گھر خالی کرنے کا حکم دیا گیا۔
آبادکاروں نے اتوار سے علاقے کے تین گھروں میں رہنے والے فلسطینی خاندانوں کا محاصرہ کر رکھا تھا اور ان کی بجلی اور پانی کی سپلائی بھی منقطع کردی تھی۔
قصریٰ کے میئر عبدالاعظیم وادی نے بی بی سی کو بتایا کہ گاؤں کو بند فوجی علاقہ قرار دیا گیا ہے اور اسرائیلی فوج ان فلسطینی گھروں میں سے بعض کو بیرکوں کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ اسرائیلی فوج نے کہا کہ کارروائی کا مقصد ’’رہائشیوں کا تحفظ‘‘ ہے۔
اسرائیلی حکومت کے ترجمان ڈیوڈ مینسر نے آبادکاروں کی کارروائی کو ’’قابل مذمت‘‘ اور ’’ناقابل قبول‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت واقعے کی تحقیقات کرے گی، ذمہ دار افراد کو گرفتار کیا جائے گا اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
موجودہ اسرائیلی حکومت کے دور میں یہودی بستیوں کی تیزی سے توسیع کے باعث آبادکاروں کے حوصلے بڑھے ہیں اور فلسطینیوں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کرنے کی کوششوں کے ساتھ آبادکاروں کے تشدد میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ بین الاقوامی قانون کے تحت تمام اسرائیلی بستیاں غیر قانونی ہیں۔
قصریٰ میں محاصرے کا شکار ابو ریدی اور حسن خاندانوں کے تین گھروں میں سے دو کے رہائشیوں نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعرات کو انہیں گھر خالی کرنے کا حکم دیا گیا۔ ان کے مطابق گھر خالی کرنے والے افراد اب تیسرے گھر میں منتقل ہوگئے ہیں۔







