نئی دہلی؍۱۲؍اگست
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بدھ کے روز کہا کہ اپوزیشن بحث کے لیے تیار ہو تو وہ تمام سوالات کے جواب دینے کے لیے تیار ہیں مسٹر شاہ نے پارلیمنٹ کے احاطے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا،’اپوزیشن لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو لکھ کر دے کہ وہ بحث کے لیے تیار ہے وہ آج دوپہر تین بجے سے لے کر جمعرات کی شام تین بجے تک بحث کے دوران اٹھائے گئے اپوزیشن کے تمام سوالات کے جواب دینے کے لیے تیار ہیں‘۔
وفاقی وزیر داخلہ نے اپوزیشن کو نشانہ بناتے ہوئے کہا’میں اس بات پر بھی بحث کروں گا کہ آپ کو بحث کیوں نہیں چاہیے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی حکومت، قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے ) کی حکومت ہر چیز پر بحث کے لیے تیار ہے، لیکن وہ پارلیمنٹ کو چلنے نہیں دیتے ہیں‘‘۔
شاہ نے کہا’’اپوزیشن پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں کارروائی چلنے ہی نہیں دے رہا ہے، تو وہاں جا کر کیا ہوگا؟ میں کسی بھی سوال کا جواب پارلیمنٹ میں دینے کے لیے تیار ہوں‘‘۔ شاہ نے کہا’’آج تین بجے سے بحث شروع ہو جائے گی، کل دوپہر تین بجے میں جواب دے دوں گا۔ میں خود بحث میں بیٹھوں گا۔ اب اپوزیشن کو طے کرنا ہے کہ انہیں بحث کرنی ہے، یا ہنگامہ آرائی کرنی ہے۔ حکومت کے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ میں اس پر بھی بحث کروں گا کہ آپ نے ایوان کو کیوں نہیں چلنے دیا‘‘؟
وزیر داخلہ نے کہا’’اپوزیشن تو یہی مطالبہ کر رہا ہے، ہم نے ’ہاں‘ کہہ دیا ہے۔ میں پارلیمنٹ میں کسی بھی سوال کا جواب دینے کے لیے تیار ہوں۔ مگر وہ بحث ہی نہیں ہونے دینا چاہتے۔ اب عوام طے کرے کون بھاگ رہا ہے؟ آج بھی میں کہتا ہوں، میں ایوان میں ہی بیٹھوں گا، سب کو سنوں گا اور سب چیزوں کا جواب دوں گا‘‘۔
قابلِ ذکر ہے کہ اپوزیشن دارالحکومت میں۲۰ جولائی کو مظاہرہ کر رہے طلباء کے خلاف پولیس کارروائی کی جواب دہی طے کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں ہنگامہ آرائی اور شور شرابہ کر رہا ہے، جس سے کارروائی مسلسل متاثر ہو رہی ہے۔ کل مانسون سیشن کا آخری دن ہے۔
دوسری جانب لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے طلباء کے خلاف پولیس کارروائی پر وزیر داخلہ امت شاہ سے پارلیمنٹ میں جواب دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تقریر نہیں، سوالات کے جواب چاہئیں۔
گاندھی نے بدھ کے روز پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا’’مسٹر شاہ نے بچوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا یا نہیں۔ دونوں ہی صورتوں میں انہیں استعفیٰ دینا چاہیے۔ ہمیں اب امت شاہ کی تقریر نہیں چاہیے۔ ہمیں جواب چاہیے۔ ہمارے طلباء پر گولی کس نے چلائی؟ گولی چلانے کا حکم کس نے دیا؟ کس نے ایک طالب علم کی آنکھ کی بینائی چھینی؟ کیلوں والی لاٹھیوں کے استعمال کا حکم کس نے دیا‘‘؟
انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ حکم وزارتِ داخلہ سے آیا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا مسٹر شاہ نے بچوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا یا نہیں۔ مسٹر گاندھی نے کہا کہ دونوں ہی صورتوں میں مسٹر شاہ کو استعفیٰ دینا چاہیے۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا’’سچ یہ ہے کہ امت شاہ کی امیج کا غبارہ پھٹ چکا ہے۔ ان کے اندر پارلیمنٹ آنے کی ہمت ہی نہیں ہے‘‘۔
گاندھی نے میڈیا سے بھی سوال کیا کہ جب مسٹر شاہ بولتے ہیں تو کیا میڈیا انہیں بیچ میں روکتا ہے؟ انہوں نے پوچھا،’’امت شاہ میں ایسی کیا خاص بات ہے کہ پورا میڈیا خاموشی سے کھڑا رہتا ہے؟’’ انہوں نے کہا کہ جب ملک کے طلباء وزیر اعظم نریندر مودی اور مسٹر شاہ سے نہیں ڈر رہے ہیں تو میڈیا کو بھی ان سے ڈرنا نہیں چاہیے۔
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر نے کہا’’مسٹر شاہ میں پارلیمنٹ آنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔ وہ۲۰ دنوں سے غائب ہیں۔ اپنے چیمبر میں بیٹھے رہتے ہیں لیکن ایوان میں نہیں آتے۔ ان کے قافلے میں تقریباً۳۰ گاڑیاں چلتی ہیں، گھر کے آگے ہزاروں پولیس والے کھڑے رہتے ہیں کہ کوئی بچہ نہ آ جائے۔ ان کی شبیہ والے غبارے کی ہوا نکل چکی ہے۔ اب زبردستی اس میں ہوا بھرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘‘
۔۔۔۔۔۔









