میلبورن، 8 اگست (یواین آئی) آسٹریلیا کے ہیڈ کوچ اینڈریو میکڈونلڈ نے اشارہ دیا ہے کہ اگلے سال آئی پی ایل میں ٹیم کے ٹیسٹ کھلاڑیوں کی شرکت کے حوالے سے کچھ سخت فیصلے کرنے پڑ سکتے ہیں، کیونکہ شیڈول بہت مصروف ہے اور ایشز سے قبل تیز گیندبازوں کا انتظام خاص طور پر اہم ہوگا۔
آسٹریلیا جمعرات کو ڈارون اور میکے میں بنگلہ دیش کے خلاف میچوں کے ساتھ اگلے 12 ماہ کے دوران 20 ٹیسٹ اور 14 وائٹ بال مقابلوں پر مشتمل مصروف شیڈول کا آغاز کرے گا۔ اس دوران زمبابوے اور جنوبی افریقہ میں چھ ون ڈے، جنوبی افریقہ میں تین ٹیسٹ، انگلینڈ کے خلاف آٹھ وائٹ بال میچ، نیوزی لینڈ کے خلاف چار گھریلو ٹیسٹ، ہندوستان کا پانچ ٹیسٹ میچوں کا دورہ، مارچ میں انگلینڈ کے خلاف 150ویں سالگرہ کا خصوصی ٹیسٹ اور جون، جولائی میں انگلینڈ کا پانچ ٹیسٹ میچوں کا دورہ شامل ہے۔ اس کے علاوہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا فائنل بھی شیڈول میں شامل ہوسکتا ہے۔ اگست کے آخر میں نیوزی لینڈ کے خلاف وائٹ بال سیریز اور اکتوبر، نومبر میں ون ڈے ورلڈ کپ بھی متوقع ہے۔
آسٹریلیا کے موجودہ پہلی ترجیح کے ٹیسٹ اور ون ڈے کھلاڑیوں میں پیٹ کمنز، مچل اسٹارک، جوش ہیزل ووڈ، کیمرون گرین اور ٹریوس ہیڈ آئی پی ایل کی فہرست میں شامل ہیں، تاہم ریٹینشن کی مدت اور رواں سال کے آخر میں ہونے والی نیلامی کے بعد صورتحال بدل سکتی ہے۔ ون ڈے وکٹ کیپر اور ٹیسٹ کے متبادل کھلاڑی جوش انگلس بھی لکھنؤ کی موجودہ ٹیم کا حصہ ہیں۔
میکڈونلڈ نے کہا کہ آئی پی ایل ان کے کئی کھلاڑیوں کے مینجمنٹ پلان کا حصہ ہے، کیونکہ دنیا کے بہترین ٹی20 مقابلوں میں کھیلنے سے کھلاڑیوں کی کارکردگی کو فائدہ پہنچتا ہے، تاہم اس میں توازن برقرار رکھنا ضروری ہے۔
گزشتہ سیزن میں اسٹارک، ہیزل ووڈ اور کمنز کو آئی پی ایل میں دیر سے پہنچنے پر ان کی فرنچائزز کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا، کیونکہ یہ کھلاڑی کرکٹ آسٹریلیا کی نگرانی میں انجری سے متعلق مسائل سے نمٹ رہے تھے۔
میکڈونلڈ نے کہا کہ آسٹریلیا کے تجربہ کار تیز گیندبازوں کے لیے کھیل سے دور رہ کر اپنی فٹنس اور جسمانی حالت بہتر بنانے کا وقفہ اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت کا مقصد تیز گیندبازوں کو جسمانی طور پر خود کو دوبارہ تیار کرنے کا موقع دینا ہے تاکہ وہ 20 یا 21 اہم میچوں میں اپنی بہترین کارکردگی پیش کرسکیں۔








