نئی دہلی، 06 اگست (یو این آئی) دہلی پردیش کانگریس کے ترجمان ڈاکٹر نریش کمار نے دارالحکومت میں بارش کے بعد مختلف علاقوں میں پانی جمع ہونے ریاستی حکومت پر شدید حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر بارش کے ساتھ ہی حکومت کے بڑے بڑے دعوے پانی میں بہہ جاتے ہیں، جبکہ عوام کو بدحال نظام کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔
ڈاکٹر نریش کمار نے کہا کہ تعمیرات عامہ کے وزیر پرویش صاحب سنگھ سوشل میڈیا پر منتخب تصاویر اور ویڈیوز دکھا کر اپنی حکومت کی کامیابیوں کی تشہیر میں مصروف ہیں، لیکن دہلی کی حقیقی صورتحال اس سے بالکل مختلف ہے۔ دارالحکومت کی تقریباً 1,700 غیر مجاز کالونیاں پانی جمع ہونے سے متاثر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف غیر مجاز کالونیاں ہی نہیں، بلکہ دہلی کے متعدد دیہات بھی پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ ہرن کودنا، باپرولا، منڈکا، گھیوڑا سمیت کئی دیہی علاقوں میں لوگوں کی عام زندگی متاثر ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ آج آئی ٹی او، دہلی ہائی کورٹ کے اطراف، انڈیا گیٹ، بی ڈی مارگ، اروندو مارگ، نجف گڑھ روڈ، سنگم وہار، مہیپال پور، دھولا کنواں، منٹو برج، کشمیری گیٹ کے نچلے حصوں اور یمنا کے کنارے واقع علاقوں میں بھی پانی بھرنے کی صورتحال دیکھنے کو ملی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اگر صرف منتخب تصاویر دکھا کر اپنی پیٹھ تھپتھپائے گی، تو اس سے دہلی والوں کی پریشانیاں کم نہیں ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت لوگوں کے مسائل کا حل نکالنے کے بجائے ان کے زخموں پر نمک چھڑکنے کا کام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک ہی بارش میں پوری دہلی کی عام زندگی کا درہم برہم ہو جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت کے دعوؤں اور زمینی حقیقت میں بڑا فرق ہے۔ دہلی کے عوام کو تشہیر اور ویڈیوز نہیں، بلکہ پانی جمع ہونے سے مستقل راحت، بہتر نکاسیِ آب کا نظام اور موثر انتظامی کارروائی چاہیے۔
ڈاکٹر نریش کمار نے دہلی حکومت سے مطالبہ کیا کہ دارالحکومت کے تمام پانی جمع ہونےوالے متاثرہ علاقوں کا فوری سروے کرایا جائے، غیر مجاز کالونیوں اور دیہاتوں میں نکاسیِ آب کے نظام کو جنگی بنیادوں پر درست کیا جائے، برسات کے پانی کی نکاسی کے لیے مستقل حکمتِ عملی بنائی جائے اور جن علاقوں میں ہر سال پانی بھرتا ہے، وہاں بالخصوص مہم چلا کر مسئلے کا مستقل حل نکالا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بارش کے موسم میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ، پمپنگ اسٹیشنوں اور نالوں کی صفائی کے نظام کو بھی موثر بنایا جائے، تاکہ لوگوں کو راحت مل سکے۔




