ایل جی سنہا کی قابل اعتراض مواد فوری ہٹانے اور کتابوں کی خریداری کے لیے نیا ضابطۂ کار تیار کرنے کی ہدایت
’خلاف ورزی پر اداروں کے سربراہان کو ذاتی طور پر ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا،ذمہ داروں کےخلاف سخت کارروائی کی جائےگی ‘
(ویب ڈیسک )
سرینگر؍ ۷ جولائی
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے پیر کو ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے تعلیمی اداروں میں مبینہ طور پر ملک مخالف اور علیحدگی پسندانہ مواد پر مشتمل کتابوں اور لٹریچر کی گردش کے معاملے میں اب تک کی گئی کارروائی کا جائزہ لیا اور اس سلسلے میں سخت اقدامات کی ہدایت دی۔
اجلاس میں چیف سیکریٹری اٹل ڈولو، ایڈیشنل چیف سیکریٹری محکمہ بجلی اشونی کمار، پرنسپل سیکریٹری محکمہ داخلہ چندرکر بھارتی، لیفٹیننٹ گورنر کے پرنسپل سیکریٹری ڈاکٹر مندیپ کے بھنڈاری، انٹیلی جنس بیورو کے ایڈیشنل ڈائریکٹر پنکج ٹھاکر، ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (سی آئی ڈی) نتیش کمار اور کمشنر سیکریٹری محکمہ اسکولی تعلیم رام نواس شرما سمیت دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔
حکام نے لیفٹیننٹ گورنر کو بتایا کہ حالیہ کارروائیوں کے دوران ایسی کتابیں برآمد ہوئی ہیں جن میں مبینہ طور پر علیحدگی پسندی کی حمایت یا اس کی تشہیر کی گئی ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اس لٹریچر کی خریداری، منظوری یا تقسیم میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
معاملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے متعلقہ محکموں کو ہدایت دی کہ ایسا مؤثر نظام وضع کیا جائے جس کے تحت جامعات، سرکاری و نجی کالجوں، اسکولوں، سرکاری و نجی لائبریریوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں کسی بھی قسم کی ملک مخالف، علیحدگی پسند یا قابل اعتراض کتاب، جریدہ، رسالہ یا دیگر مواد کی خریداری، تقسیم یا دستیابی کو مکمل طور پر روکا جا سکے۔
سنہا نے ہدایت دی کہ تمام تعلیمی اداروں کے سربراہ مقررہ مدت کے اندر اس بات کی تصدیق کریں کہ ان کے اداروں میں اس نوعیت کا کوئی مواد موجود نہیں ہے، جبکہ تمام اداروں کا جامع آڈٹ اور معائنہ بھی کرایا جائے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے متعلقہ حکام کو یہ بھی ہدایت دی کہ جامعات اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کی ویب سائٹس اور ڈیجیٹل ذخائر کا جائزہ لیا جائے اور اگر وہاں کوئی قابل اعتراض مواد موجود ہو تو اسے فوری طور پر ہٹا دیا جائے۔
اہل جی نے اس بات پر زور دیا کہ آئندہ ایسے واقعات کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے اور اسکولوں، کالجوں اور جامعات کے لیے کتابوں اور تدریسی مواد کی خریداری سے متعلق ایک جامع معیاری عملی طریقۂ کار (ایس او پی) تیار کیا جائے۔
اس ضابطۂ کار میں کتابوں کی مؤثر جانچ کا نظام شامل ہوگا، جس کے تحت ممتاز ماہرین تعلیم، دانشوروں اور سینئر افسران پر مشتمل ایک پینل وقتاً فوقتاً تصادفی بنیادوں پر کتابوں اور تدریسی مواد کا جائزہ لے گا تاکہ کسی بھی ایسے مواد کو تعلیمی اداروں تک پہنچنے سے روکا جا سکے جو ملک مخالف یا علیحدگی پسند بیانیے کو فروغ دیتا ہو۔
لیفٹیننٹ گورنر نے خبردار کیا کہ اس معاملے میں کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور اگر مستقبل میں ایسی کوئی خلاف ورزی سامنے آئی تو متعلقہ ادارے کے سربراہ کو ذاتی طور پر ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔
سنہا نے کہا کہ انتظامیہ تعلیمی ماحول کے تحفظ کے لیے پوری طرح پرعزم ہے اور تعلیمی ادارے صرف تعلیم، قوم سازی اور آئینی اقدار کے فروغ کے مراکز ہونے چاہئیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ قابل اعتراض لٹریچر کے ذریعے طلبہ کو گمراہ کرنے یا انتہاپسندی کی طرف مائل کرنے کی کسی بھی کوشش کے لیے زیرو ٹالررنس کی پالیسی اپنائی جائے گی۔
یہ اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہوا ہے جب چند روز قبل جموں و کشمیر کے سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں میں فراہم کی گئی دو کتابوں میں مبینہ طور پر علیحدگی پسندانہ اور ملک مخالف مواد پائے جانے کے بعد بڑا تنازع کھڑا ہو گیا تھا۔ ان کتابوں میں بعض علیحدگی پسند شخصیات کی تعریف، کشمیر کے بارے میں متنازع اصطلاحات کے استعمال اور دیگر قابلِ اعتراض مندرجات پر اعتراضات سامنے آئے تھے۔
معاملہ سامنے آنے کے بعد انتظامیہ نے دونوں کتابیں فوری طور پر واپس لینے کے احکامات جاری کیے، محکمہ اسکولی تعلیم کے آٹھ افسران کو معطل کیا، ایک محکمانہ انکوائری کا حکم دیا اور بعد ازاں پولیس نے اس معاملے میں یو اے پی اے اور دیگر متعلقہ دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کرکے تحقیقات کا آغاز کیا۔ اس سلسلے میں سمگرا شکشا کے دفتر اور کتابوں کے ناشر سے متعلق مقامات پر بھی تلاشی کارروائیاں کی گئیں۔
اسی پیش رفت کے تسلسل میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے پیر کو اعلیٰ سطحی اجلاس میں تمام سرکاری و نجی تعلیمی اداروں، جامعات اور لائبریریوں کا جامع آڈٹ کرانے، قابلِ اعتراض مواد فوری ہٹانے، اور کتابوں و تعلیمی مواد کی خریداری کے لیے سخت جانچ کے ساتھ نیا معیاری عملی طریقۂ کار وضع کرنے کی ہدایت جاری کی۔










