سنہا کی انتظامیہ کو متاثرہ خاندانوں کو فوری امداد فراہم کرنے کی ہدایت
ایجنسیاں
جموں/۷ جولائی
جموں و کشمیر کے ضلع ڈوڈہ کے قصبہ ٹھاٹھری کے بالائی علاقوں میں منگل کو شدید بارش کے باعث اچانک سیلاب آ گیا، جس کے نتیجے میں متعدد مکانات، دکانوں اور گاڑیوں کو جزوی نقصان پہنچا۔
حکام کے مطابق اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔
گزشتہ دو روز کے دوران ڈوڈہ اور کشتواڑ کے جڑواں اضلاع میں یہ اچانک سیلاب کا تیسرا واقعہ ہے، جہاں مسلسل شدید بارشوں نے پہاڑی علاقوں میں معمولاتِ زندگی متاثر کر دیے ہیں۔
حکام نے بتایا کہ بالائی علاقوں میں شدید بارش کے باعث آنے والے سیلاب کے ساتھ بڑے پتھر، مٹی اور ملبہ ٹھاٹھری قصبے میں آ گیا۔
مٹی کے تودے گرنے اور پتھروں کے بہاؤ سے متعدد رہائشی اور تجارتی عمارتوں کو جزوی نقصان پہنچا، جبکہ سڑک کنارے کھڑی کئی گاڑیاں ملبے تلے دب گئیں۔ مقامی لوگوں کا دعویٰ ہے کہ بعض گاڑیاں سیلابی ریلے میں بہہ کر دریائے چناب میں جا گریں۔تاہم متاثرہ گاڑیوں کی درست تعداد اور مجموعی نقصان کا سرکاری طور پر ابھی تک اندازہ نہیں لگایا جا سکا ہے۔
اچانک سیلاب کے باعث ڈوڈہ۔کشتواڑ شاہراہ بھی ٹھاٹھری کے مقام پر بند ہو گئی، جس سے علاقے میں ٹریفک کی آمدورفت متاثر ہوئی۔
ضلع انتظامیہ نے پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر ملبہ ہٹانے، سڑک بحال کرنے اور نقصانات کا جائزہ لینے کا کام شروع کر دیا ہے۔
یہ واقعہ ایک روز قبل ہونے والے اس سیلاب کے بعد پیش آیا ہے جس میں مسلسل بارشوں کی وجہ سے زیرِ تعمیر۵۴۰ میگاواٹ کوار ہائیڈرو الیکٹرک پاور پروجیکٹ کے قریب ڈوڈہ۔کشتواڑ شاہراہ کو نقصان پہنچا تھا۔
ڈپٹی کمشنر ڈوڈہ کرشن لال نے بتایا کہ ضلع انتظامیہ نے بارش سے متعلق تمام واقعات پر فوری کارروائی کرتے ہوئے متاثرہ سڑکوں کو بحال کر دیا۔انہوں نے کہا، ’’آج صبح ہونے والی بارش کے بعد تحصیل ٹھاٹھری کے پریم نگر علاقے میں پہاڑی کا ایک معمولی حصہ کھسک گیا تھا۔ سڑک پر مٹی اور ملبہ جمع ہو گیا تھا، تاہم صبح ہی اسے صاف کرکے ٹریفک بحال کر دی گئی۔‘‘
لال نے مزید بتایا کہ تحصیل چرالہ اور بگنا لنک روڈ پر بھی شدید بارش کے باعث پتھر اور مٹی آ گئی تھی، لیکن ان سڑکوں کو بھی صاف کر دیا گیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر نے عوام سے اپیل کی کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور نہ ہی غلط معلومات پھیلائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ واقعات بادل پھٹنے کے نہیں بلکہ شدید بارش کے نتیجے میں پیش آئے ہیں۔
لال نے کہا، ’’ایسے واقعات کو بادل پھٹنا قرار دینا درست نہیں۔ یہ شدید بارش کے باعث پیش آنے والے حالات ہیں، جن میں پہاڑی اضلاع میں ڈھلوانوں سے مٹی اور چھوٹے پتھر نیچے آ جاتے ہیں۔ انتظامیہ پوری طرح چوکس ہے اور جہاں بھی ایسی صورتحال پیدا ہوتی ہے فوری کارروائی کرتی ہے۔‘‘
ڈی سی ڈوڈہ نے عوام سے کہا کہ کسی بھی اطلاع پر یقین کرنے یا اسے آگے بڑھانے سے پہلے ضلع کنٹرول روم یا ضلعی انتظامیہ سے اس کی تصدیق ضرور کریں۔
اس دوران جموں کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے منگل کو ڈوڈہ انتظامیہ کو ہدایت دی کہ بادل پھٹنے کے نتیجے میں آنے والے اچانک سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو فوری امداد اور ہر ممکن معاونت فراہم کی جائے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، ’’میں نے ڈپٹی کمشنر ڈوڈہ سے ٹھاٹھری علاقے میں بادل پھٹنے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لیا۔ کئی مکانات اور دکانوں کو نقصان پہنچا ہے، تاہم خوش قسمتی سے کسی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔‘‘
سنہا نے کہا کہ انہوں نے ڈپٹی کمشنر کو متاثرہ خاندانوں کو فوری راحت اور امداد فراہم کرنے کی ہدایت دی ہے، جبکہ قومی شاہراہ این ایچ۲۴۴ سمیت بحالی کے کاموں اور سڑک کی صفائی کو تیز کرنے پر بھی زور دیا ہے۔
ادھر جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سنیل شرما نے بھی ڈول، کوار اور ٹھاٹھری علاقوں میں اچانک سیلاب سے پیدا ہونے والی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، جس کے باعث مقامی آبادی کو شدید مشکلات اور وسیع پیمانے پر خلل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
شرما نے کہا کہ انہوں نے جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر سے بات کی ہے اور انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں پینے کے پانی، بجلی اور سڑک رابطوں سمیت تمام بنیادی سہولیات کی فوری بحالی کو یقینی بنایا جائے تاکہ جلد از جلد معمولات زندگی بحال ہو سکیں۔
حزب اختلاف کے لیڈر نے جموں و کشمیر حکومت سے بھی اپیل کی کہ متاثرہ خاندانوں کو مناسب معاوضہ، راحت اور ہر ممکن امداد بلا تاخیر فراہم کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ راحت اور بازآبادکاری کی کارروائیوں کو ترجیحی بنیادوں پر انجام دیا جانا چاہیے تاکہ عوام کی مشکلات کو کم سے کم کیا جا سکے۔
متاثرہ خاندانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے سنیل شرما نے کہا کہ آفت سے متاثر ہونے والے ہر فرد کی مدد کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جانے چاہییں اور یہ یقینی بنایا جائے کہ امداد بروقت اور شفاف انداز میں ہر مستحق گھرانے تک پہنچے۔










