منگل, اکتوبر 20, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اہم ترین

آئی وی ایف علاج کے دوران خاتون کی موت، اہلِ خانہ کا طبی غفلت کا الزام، مجرمانہ تحقیقات کا مطالبہ

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-07-02
in اہم ترین, تازہ تریں, ٹاپ سٹوری
A A
آئی وی ایف علاج کے دوران خاتون کی موت، اہلِ خانہ کا طبی غفلت کا الزام، مجرمانہ تحقیقات کا مطالبہ
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

 

 حیدر پورہ کے نجی فرٹیلیٹی مرکز کے باہر احتجاج؛ بے ہوشی کی دوا کی مبینہ زائد مقدار سے موت کا دعویٰ، مرکز کے مالک ڈاکٹر کی گرفتاری کا مطالبہ

شہر کے کچھ مخصوص علاقوں میں قائم آئی وی ایف مراکزکیا وضع کردہ ضوابط کے تحت کام کررہے ہیں ؟تمام مراکز کا آڈٹ کیا جائے 

متعلقہ

’ملک کی داخلی سلامتی کا منظرنامہ بدل چکا ہے ‘

بچوں کیلئے انٹرنیٹ پر عمر کی بنیاد پر پابندی مسترد ‘ رسائی بنیادی حق قرار

(ویب ڈیسک)

سرینگر؍ یکم جولائی

            سری نگر کے ایک نجی فرٹیلیٹی مرکز میں آئی وی ایف علاج کے دوران۳۵ سالہ خاتون حنیفہ کی موت کے بعد ان کے اہلِ خانہ نے شدید احتجاج کرتے ہوئے معالج ڈاکٹر پر سنگین طبی غفلت کا الزام عائد کیا ہے اور واقعے کی مجرمانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

            متوفیہ حنیفہ کا تعلق ضلع بانڈی پورہ سے تھا اور ان کی شادی ضلع بارہمولہ کے واگورہ علاقے میں ہوئی تھی۔ وہ علاج کی غرض سے حیدر پورہ میں واقع ہرکار آئی وی ایف اینڈ میٹرنٹی سینٹر گئی تھیں۔

            خاتون کے شوہر نے ایک مقامی خبر رساں ایجنسی  کو بتایا کہ ان کی اہلیہ کو کوئی سابقہ طبی عارضہ لاحق نہیں تھا اور وہ مکمل صحت مند حالت میں علاج کے لیے مرکز پہنچی تھیں۔

            اہلِ خانہ کے مطابق، طبی عمل کے دوران بے ہوشی کی دوا دیے جانے کے فوراً بعد ان کی حالت اچانک بگڑ گئی۔ ان کا الزام ہے کہ ڈاکٹروں نے انہیں اصل صورتحال سے آگاہ کرنے کے بجائے خاتون کو شیرین باغ اسپتال منتقل کیا۔

            متوفیہ کے شوہر کا دعویٰ ہے کہ شیرین باغ اسپتال کے ڈاکٹروں نے انہیں بتایا کہ خاتون کو وہاں لانے سے پہلے ہی ان کی موت واقع ہو چکی تھی۔انہوں نے کہا’’ہم انہیں آئی وی ایف علاج کے لیے یہاں لائے تھے۔ وہ مکمل صحت مند تھیں اور اپنے قدموں پر چل کر اسپتال میں داخل ہوئی تھیں۔ یہ جان کر ہمیں شدید صدمہ پہنچا کہ دوسرے اسپتال پہنچنے سے پہلے ہی ان کا انتقال ہو چکا تھا‘‘۔

            واقعے کے بعد ہرکار آئی وی ایف اینڈ میٹرنٹی سینٹر کے باہر اہلِ خانہ نے احتجاج کیا اور مرکز کی انتظامیہ پر ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کا الزام لگایا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب وہ مرکز پہنچے تو معمول کے کام کے دن کے باوجود عمارت بند تھی۔

            احتجاج کرنے والے رشتہ داروں نے سوال اٹھایا کہ اتنے سنگین واقعے کے فوراً بعد ایک طبی ادارہ کیوں بند کر دیا گیا۔ انہوں نے محکمہ صحت سے مطالبہ کیا کہ غیر جانبدارانہ تحقیقات مکمل ہونے تک مرکز کو سیل کیا جائے اور قصوروار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

            اہلِ خانہ نے مرکز کے مالک ڈاکٹر سجاد وانی کو خاتون کی موت کا براہِ راست ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے ان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔خاندان کا مخصوص الزام ہے کہ بے ہوشی کی دوا کی مبینہ زائد مقدار حنیفہ کی موت کا سبب بنی۔

            مذکوہ آئی وی ایف اینڈ میٹرنٹی سینٹر اور معالج ڈاکٹر کا مؤقف جاننے کے لیے متعدد مرتبہ رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم خبر درج کیے جانے تک ان کی جانب سے کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔

            اس واقعے نے اہلِ خانہ میں علاج کے طریقۂ کار، مریضہ کو دوسرے اسپتال منتقل کرنے کے فیصلے اور ان کی موت کے حالات سے متعلق سنگین سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ خاندان نے حقائق سامنے لانے، ذمہ داری کا تعین کرنے اور قصورواروں کے خلاف کارروائی کے لیے مقررہ مدت کے اندر ایک آزاد اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے آئی وی ایف مرکز کے مالک کی گرفتاری کا مطالبہ بھی دہرایا۔

            اس واقعے کے بعد ضلع صحت افسر (ڈی ایچ او) سری نگر نے تحقیقات شروع کر دی ہیں اور ابتدائی طور پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ متعلقہ آئی وی ایف مرکز مناسب طور پر رجسٹرڈ نہیں تھا۔ اگر یہ بات تحقیقات میں درست ثابت ہوتی ہے تو معاملہ محض ایک طبی غفلت تک محدود نہیں رہتا بلکہ انتظامی ناکامی کا بھی سنگین سوال بن جاتا ہے۔

            اصل سوال صرف یہ نہیں کہ حنیفہ کی موت کیسے ہوئی، بلکہ یہ بھی ہے کہ ایسا مرکز چل کیسے رہا تھا؟

            گزشتہ چند برسوں میں سری نگر، خاص طور پر حیدر پورہ، بمنہ، راجباغ اور بعض دیگر علاقوں میں متعدد نجی آئی وی ایف اور فرٹیلیٹی مراکز قائم ہوئے ہیں۔ بانجھ پن کے علاج کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث یہ شعبہ تیزی سے وسعت اختیار کر رہا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ سوال بھی اہم ہے کہ ان مراکز کو قائم کرنے کی اجازت کس ادارے نے دی؟ کیا ان کی منظوری اسسٹڈ ری پروڈکٹیو ٹیکنالوجی (ریگولیشن) ایکٹ،۲۰۲۱ اور متعلقہ قوانین کے مطابق دی گئی؟ کیا ہر مرکز نے مطلوبہ انفراسٹرکچر، تربیت یافتہ ماہرین، ایمرجنسی سہولیات، آپریشن تھیٹر کے معیارات، اینستھیزیا کی محفوظ سہولت، آئی سی یو بیک اپ اور دیگر لازمی شرائط پوری کی تھیں؟ کیا ان کا باقاعدہ معائنہ ہوا تھا؟ اور اگر ہوا تھا تو کس بنیاد پر؟

            اگر ایک زیر تعمیر عمارت میں کوئی طبی مرکز چل رہا تھا تو اس کی اجازت کس نے دی؟ کیا متعلقہ محکموں نے موقع پر جاکر معائنہ کیا تھا؟ اگر کیا تھا تو کن بنیادوں پر اسے مناسب قرار دیا گیا؟ اگر معائنہ نہیں کیا گیا تو یہ لاپروائی کس کی تھی؟

            یہ سوال بھی نہایت اہم ہے کہ اگر مرکز واقعی رجسٹرڈ نہیں تھا یا مطلوبہ ضابطوں پر پورا نہیں اترتا تھا، تو وہ عوام کو طبی خدمات کیسے فراہم کر رہا تھا؟ کیا متعلقہ نگرانی کرنے والے ادارے اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے تھے یا نظام میں کہیں سنگین خامیاں موجود ہیں؟

            اگر تحقیقات سے ثابت ہوتا ہے کہ بے ہوشی کی دوا کے استعمال میں طبی غفلت ہوئی، تو یقیناً ذمہ داری متعلقہ معالجین اور طبی عملے پر عائد ہوگی۔ لیکن اگر یہ بھی ثابت ہو جائے کہ مرکز کو قانونی تقاضے پورے کیے بغیر کام کرنے دیا گیا، یا نگرانی کے ذمہ دار اداروں نے اپنی ذمہ داری ادا نہیں کی، تو پھر صرف ایک ڈاکٹر کو موردِ الزام ٹھہرانا کافی نہیں ہوگا۔ ایسی صورت میں انتظامی سطح پر جوابدہی بھی اتنی ہی ضروری ہوگی۔

            یہ معاملہ کسی ایک آئی وی ایف مرکز تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ حکومت کو چاہیے کہ وادی کشمیر میں قائم تمام آئی وی ایف اور فرٹیلیٹی مراکز کا جامع آڈٹ کرائے، ان کی رجسٹریشن، لائسنس، طبی سہولیات، ماہر عملے، ایمرجنسی انتظامات اور قانونی تقاضوں کا ازسرنو جائزہ لے، اور جو مراکز معیار پر پورا نہ اتریں، ان کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کرے۔

            حنیفہ اب واپس نہیں آسکتیں، لیکن اگر اس واقعے سے نظام میں موجود خامیوں کی نشاندہی ہو اور ان کی اصلاح کی جائے تو مستقبل میں شاید کسی اور خاندان کو ایسے ناقابلِ تلافی صدمے سے بچایا جا سکے۔ اس لیے ضروری ہے کہ تحقیقات مکمل طور پر غیر جانبدار، شفاف اور وقت مقررہ کے اندر ہوں، تمام ذمہ داروں کا تعین کیا جائے، اور جو بھی قصوروار ثابت ہو، خواہ وہ طبی عملہ ہو یا متعلقہ نگران ادارہ، قانون کے مطابق اس کے خلاف کارروائی کی جائے۔ یہی حنیفہ کے اہل خانہ کے ساتھ انصاف ہوگا اور یہی عوام کے اعتماد کی بحالی کا واحد راستہ ہے۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

بارہمولہ میں ٹرین کی زد میں آکر شہری جاں بحق، کپوارہ میں ڈمپر کی ٹکر سے۶سالہ بچی ہلاک

Next Post

سرینگر جموں شاہراہ پر نئی ٹنل ٹی ۳ ؍اور اور وایاڈکٹ پایہ تکمیل

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

’ملک کی داخلی سلامتی کا منظرنامہ بدل چکا ہے ‘
اہم ترین

’ملک کی داخلی سلامتی کا منظرنامہ بدل چکا ہے ‘

2026-10-18
اگر والدین آئی اے ایس افسر ہیں تو بچوں کو ریزرویشن کیوں؟ سپریم کورٹ کا سوال
اہم ترین

بچوں کیلئے انٹرنیٹ پر عمر کی بنیاد پر پابندی مسترد ‘ رسائی بنیادی حق قرار

2026-10-18
 لداخ میں تعطل برقرار، مرکز سیاسی حل کے لیے پُرعزم، بات چیت جاری رکھنے کی اپیل
اہم ترین

 لداخ میں تعطل برقرار، مرکز سیاسی حل کے لیے پُرعزم، بات چیت جاری رکھنے کی اپیل

2026-10-18
’کشمیر میں انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں اولین ترجیح برقرار رہیں گی‘
اہم ترین

عوام کو تیز رفتار خدمات کی فراہمی ‘ جواب دہی یقینی بنانے پر زور

2026-10-18
نوجوان کی پولیس تھانے میں موت‘عدالت کی پولیس اہلکار کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت
اہم ترین

 کشتواڑ میں نابالغ لڑکی کی موت کیس میں فرد جرم داخل

2026-10-18
’ منشیات کے مسئلہ براہِ راست تعلق دہشت گردی سے ہے‘
اہم ترین

جموں میں مبینہ منشیات فروش  گرفتار‘۳۸۵گرام ہیروئن برآمد

2026-10-18
لہیہ میںفوجی ٹینک دریا کے بہاؤ میں بہہ گئی ‘۵ فوجی اہلکار ہلاک
اہم ترین

مرکز نے لداخ کی پہاڑی  ترقیاتی کونسلوں کے ڈھانچے  اور انتخابی قواعد میں ترمیم کر دی

2026-10-18
سری نگر ہوائی اڈے پر پیر اور منگل کی رن وے بندش کا فیصلہ واپس
اہم ترین

آئی ٹی آئی اداروں کی جدید  کاری کیلئے۴۷۵ کروڑ روپے  منظوری پر عمر کا مرکزکا شکریہ

2026-10-18
Next Post
سرینگر جموں شاہراہ پر نئی ٹنل ٹی ۳ ؍اور اور وایاڈکٹ پایہ تکمیل

سرینگر جموں شاہراہ پر نئی ٹنل ٹی ۳ ؍اور اور وایاڈکٹ پایہ تکمیل

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.