تیز ہواؤں کا امکان‘ بعض علاقوں میں سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ کا امکان
ایجنسیاں
سرینگر؍ یکم جولائی
جنوب مغربی مانسون نے بدھ کے روز جموں و کشمیر اور لداخ کے بیشتر حصوں میں پیش قدمی کرتے ہوئے پورے موسمیاتی سب ڈویژن کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ محکمۂ موسمیات سری نگر کے مطابق یہ پیش رفت معمول کی تاریخ۳۰ جون کے مقابلے میں ایک دن بعد ہوئی۔
محکمۂ موسمیات کے مطابق گزشتہ۲۴ گھنٹوں کے دوران جموں ڈویژن کے مختلف علاقوں میں وسیع پیمانے پر بارش ریکارڈ کی گئی۔
محکمۂ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ یکم سے۴ جولائی تک جموں و کشمیر کے بیشتر علاقوں میں عمومی طور پر ابر آلود موسم رہے گا اور کئی مقامات پر ہلکی سے درمیانی بارش یا گرج چمک کے ساتھ بارش ہونے کا امکان ہے۔ اس دوران بعض مقامات پر شدید بارش، مختصر دورانیے کی موسلا دھار بارش، گرج چمک اور تیز ہوائیں چلنے کی بھی توقع ہے۔
۵سے ۸ جولائی کے دوران موسم عمومی طور پر گرم اور مرطوب رہنے کی توقع ہے، جبکہ مختلف سے کئی مقامات پر ہلکی سے درمیانی بارش یا گرج چمک کے ساتھ بارش ہو سکتی ہے۔ جموں ڈویژن کے چند الگ تھلگ علاقوں میں مختصر دورانیے کی شدید بارش کا بھی امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
محکمہ نے ایک ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ چند مقامات پر شدید یا مختصر دورانیے کی موسلا دھار بارش کے باعث جموں ڈویژن کے حساس علاقوں، پیر پنجال سلسلے، چناب وادی اور جنوبی کشمیر سے ملحقہ علاقوں میں مقامی سطح پر اچانک سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور مٹی کے تودے گرنے کے واقعات پیش آ سکتے ہیں۔
آزاد موسمی مبصر فیضان عارف نے کہا کہ مانسون کی سرگرمیوں کے علاوہ اس ہفتے مزید تین کمزور مغربی ہوائیں (ویسٹرن ڈسٹربنس) بھی یکے بعد دیگرے مرکز کے زیر انتظام علاقے کو متاثر کریں گی۔
عارف نے بتایا کہ پہلی مغربی ہوائیں اس وقت خطے کو متاثر کر رہی ہیں اور کل تک کمزور پڑ جائیں گی۔ دوسری مغربی ہوائیں کل رات سے اثر انداز ہوں گی اور ہفتہ کی صبح تک فعال رہیں گی، جبکہ تیسری مغربی ہوائیں ہفتہ کی دوپہر سے اتوار تک خطے پر اثر انداز رہیں گی۔
ماہر موسمیات نے کہا’’کمزور مغربی ہوائیں اور مانسون کی ہوائیں مل کر کام کریں گی، جس سے وقتاً فوقتاً درمیانی سے شدید بارشوں کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ ان دونوں نظاموں کے مشترکہ اثرات کے باعث مختصر دورانیے کی انتہائی شدید بارشوں، حتیٰ کہ بعض مقامات پر بادل پھٹنے جیسے واقعات کا خطرہ بھی بڑھ جائے گا‘‘۔
منگل کے روز وادیٔ کشمیر شدید گرمی کی لہر کی لپیٹ میں رہی، جہاں بیشتر علاقوں میں دن کا زیادہ سے زیادہ درجۂ حرارت معمول سے۵ سے۶ ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔










