لندن، 24 جون (یو این آئی) اقوام متحدہ کی بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کی وجہ سے خلیجی خطے میں پھنسے ہوئے 11,000 سے زیادہ ملاحوں کو نکالنے کی تیاری کر رہی ہے۔
آئی ایم او کے سیکرٹری جنرل آرسینیو ڈومینگیز نے کہا کہ ’بڑے پیمانے پر آپریشن‘ ایران، عمان، امریکہ، خطے کے دیگر ساحلی ممالک اور سمندری صنعت کے ساتھ مل کر کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا، ’’ہم نے ضروری حفاظتی ضمانتیں حاصل کر لی ہیں اور ان کارروائیوں کے لیے محفوظ بحری آمدورفت کے حالات کی مکمل تصدیق کر لی ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کے لیے گزشتہ ہفتے ایک عبوری معاہدے پر دستخط ہوئے تھے، تاہم مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی مختلف شقوں پر امریکہ اور ایران کے درمیان اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔
امریکہ کا مؤقف ہے کہ معاہدے میں یہ ضمانت شامل ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کا معائنہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کرے گی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’’ایران نے مستقبل میں طویل مدت تک اعلیٰ ترین سطح کے جوہری معائنوں پر مکمل رضامندی ظاہر کر دی ہے، جس سے ’جوہری دیانت داری‘ یقینی بنے گی۔‘‘
مسٹر ٹرمپ کی اس پوسٹ سے کچھ وقت پہلے ایران نے کہا تھا کہ گزشتہ برس امریکہ اور اسرائیل کی بمباری کا نشانہ بننے والے جوہری مراکز کا معائنہ اقوامِ متحدہ کی جوہری نگرانی کی ایجنسی نہیں کر سکے گی۔
اس کے جواب میں ایک امریکی عہدیدار نے کہا، ’’ ایرانیوں نے اپنے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کے باقیات کے مؤثر آئی اے ای اے معائنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ ایرانی حکومت جاپنے گھریلو لوگوں کے لئے جو کہنا چاہے کہہ سکتی ہے۔
ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے منگل کو پاکستان کے دورے کے دوران کہا کہ ایران "کسی بھی حالت میں اپنی دفاعی صلاحیتوں پر کسی کے ساتھ بات چیت نہیں کرے گا۔”
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے مسٹر پزشکیان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بیلسٹک میزائلوں کے بارے میں کوئی بات چیت نہیں ہوئی اور یہ معاملہ ’بات چیت کی میز پر تھا ہی نہیں‘۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے منگل کومتحدہ عرب امارات سے اپنے خلیجی دورے کا آغاز کیا۔ وہ کویت اور بحرین کا بھی دورہ کریں گے، جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں اور ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر تبادلۂ خیال کریں گے۔
مسٹرروبیو نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر کوئی بھی ملک ٹول یا فیس عائد نہیں کر سکتا۔ ایران اس آبی گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کرنے کی حمایت کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’یہ ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے۔ کسی بھی ملک کو بین الاقوامی راستے پر ٹول یا فیس لگانے کی اجازت نہیں۔ یہی موجودہ بین الاقوامی قانون ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ اس معاملے پرہمیں یہاں کسی کو قائل کرنے کی ضرورت ہے۔ میرا ماننا ہے کہ اس خطے کے تمام ممالک ہمارے مؤقف سے متفق ہوں گے۔
پھنسے ہوئے ملاحوں کے انخلا کا انحصار اس بات پر ہے کہ آبنائے ہرمز کھلی رہے۔
آئی ایم او کے سربراہ مسٹر ڈومنگیز نے کہا کہ سیلرز کی مدد کے لیے طے پانے والا یہ معاہدہ ’’بحری سلامتی کی بحالی اور شہری جہازرانی پر ہونے والے ناقابلِ قبول حملوں کے خاتمے کی جانب ایک فیصلہ کن قدم‘‘ ہے۔
انہوں نے کہا، ’’ہزاروں بے گناہ ملاحوں کی مہینوں پر محیط مشکلات اور ذہنی دباؤ، نیز پوری دنیا پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کے بعد، میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کا بے حد اطمینان کے ساتھ خیرمقدم کرتا ہوں۔‘‘
بی بی سی کے تصدیقی یونٹ کے ذریعے تجزیہ کئے گئے جہاز- ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق، منگل کو 200 سے زیادہ آئل ٹینکر آبنائے ہرمز کے اندر منتظر نظر آئے۔







