نئی دہلی، 23 جون (یو این آئی) بنگلہ دیش کے وزیراعظم طارق رحمان کا پیر کی رات چین کے ساحلی شہر ڈالیان پہنچنے پر ہوا شاندار استقبال سفارتی رسمی کارروائیوں سے بڑھ کر رشتوں کی گہرائی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
چین بنگلہ دیش کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار اور ترقیاتی فنڈ میں سب سے بڑا تعاون کرنے والا ملک ہے۔ اپنے اس اہم دورے کے دوران مسٹر رحمان کی جانب سے چین کی قیادت کے ساتھ کئی پروجیکٹوں کو حتمی شکل دیے جانے اور جے-17 لڑاکا طیاروں کی خریداری پر تبادلہ خیال کرنے کا امکان ہے۔ اس دورے کو بے حد احتیاط سے تیار کیا گیا ہے، جس کے تحت مسٹر رحمان کا پہلا پڑاؤ کوالالمپور تھا، جس کے بعد وہ ڈالیان میں ایک کانفرنس میں شامل ہوئے اور پھر وہ بیجنگ میں دوطرفہ بات چیت کے لیے آگے بڑھیں گے۔ ایسا اس لیے کیا گیا تاکہ ہندوستان عدم اطمینان محسوس نہ کرے، جس نے خود بھی بنگلہ دیشی وزیراعظم کو دورے کی دعوت دی ہے۔
وزارت خارجہ میں سابق سکریٹری (ایسٹ) محترمہ ریوا گانگولی داس نے ‘یو این آئی’ کو بتایا، "چین کی طرف سے تیار کی جانے والی سفارتی آؤٹ لائن اور چین کے وزیراعظم لی کیانگ اور صدر شی جن پنگ کے ساتھ میٹنگوں میں مسٹر رحمان جن اہم امور پر تبادلہ خیال کریں گے، وہ بے حد اہم ہوں گے۔” انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ بنگلہ دیش کے وزیراعظم کے اس سال کے آخر میں دہلی آنے کی بھی امید ہے۔ سفارت کاروں کا ماننا ہے کہ مسٹر رحمان کے سفارتی دوروں کا یہ سلسلہ نہ صرف ہندوستان اور چین کے درمیان توازن قائم کرنے کے لیے ہے، بلکہ یہ ان کی ‘بنگلہ دیش فرسٹ’ خارجہ پالیسی کو بھی مضبوط کرتا ہے۔ اس کے تحت بنگلہ دیش کسی ایک سپر پاور کے ساتھ پوری طرح جڑنے کے بجائے اپنی شراکت داریوں میں تنوع چاہتا ہے۔
علامتوں سے ہٹ کر دیکھیں تو اس دورے کے پیچھے کے معاشی اور اسٹریٹجک اسباب اسے اور بھی اہم بناتے ہیں۔ بنگلہ دیش اس وقت چین سے چار ارب ڈالر سے زیادہ کی براہ راست مالی امداد حاصل کرنے کی کوشش میں ہے، جبکہ چین کی حمایت یافتہ اداروں (ایشیئن انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک اور نیو ڈیولپمنٹ بینک) کے پاس نو ارب ڈالر سے زیادہ کی دیگر تجاویز بھی زیر غور ہیں۔ چین کے ساتھ بات چیت کے تحت اہم پروجیکٹوں میں طویل عرصے سے زیر التوا تیستا ندی جامع انتظام اور بحالی پروجیکٹ، مونگلا بندرگاہ کی توسیع (جس کی جدید کاری پہلے ہندوستان نے کی تھی) اور چٹاگانگ کے قریب انوارا میں ایک چینی معاشی اور صنعتی زون شامل ہیں۔
اس صنعتی زون میں سڑکوں، بندرگاہ کی سہولیات کے ساتھ ساتھ کارخانے بھی شامل ہوں گے۔ ایک بار مکمل ہونے پر، انوارا صنعتی زون جنوبی ایشیا میں چین کی ‘بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو’ (بی آر آئی) سے جڑے سب سے اہم مینوفیکچرنگ مراکز میں سے ایک بن سکتا ہے۔ چین، جو پہلے ہی چٹاگانگ (بنگلہ دیش کی سب سے بڑی بندرگاہ) کے قریب بنگلہ دیش کے لیے ایک بحری اڈہ بنا چکا ہے، اب مونگلا (دوسری سب سے بڑی بندرگاہ) پر بھی اپنی پکڑ بنانا چاہتا ہے، کیونکہ چین کی طرف سے تعمیر کردہ دوسری ‘پایرا بندرگاہ’ ہائیڈرولوجیکل چیلنجوں کی وجہ سے ناکام ثابت ہوئی ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ خلیج بنگال کے مرکز میں واقع دو بندرگاہوں میں سرمایہ کاری کے ذریعے چین کا اس خطے میں ماضی کے مقابلے کہیں زیادہ اثر و رسوخ ہو سکتا ہے۔
مسٹر رحمان کے اس دورے میں الیکٹرک وہیکل ٹیکنالوجی، قابلِ تجدید توانائی، بینکنگ تعاون اور ممکنہ طور پر ایک کرنسی کے تبادلے کے نظام سمیت تقریباً ایک درجن معاہدوں پر دستخط ہونے کی امید ہے۔ یہ اقدامات یوآن (رینمنبی) کو بین الاقوامی سطح پر قائم کرنے اور ترقی پذیر ممالک کے ساتھ معاشی انضمام کو گہرا کرنے کی چین کی وسیع کوششوں کا حصہ ہیں۔ تاہم، سب سے اہم پیشرفت معاشی نہ ہو کر اسٹریٹجک ہو سکتی ہے۔ مانا جا رہا ہے کہ بنگلہ دیش چین سے 2.2 ارب ڈالر میں 20 ‘جے-10 سی ای’ لڑاکا طیاروں کی خریداری کو حتمی شکل دے رہا ہے۔ اگر یہ سودا پورا ہوتا ہے، تو یہ دہائیوں میں بنگلہ دیش کی فضائیہ کو جدید بنانے کا سب سے بڑا قدم ہوگا اور وہ پاکستان کے بعد اس طیارے کا استعمال کرنے والا دوسرا جنوبی ایشیائی ملک بن جائے گا۔
وزارت دفاع کے اعلیٰ حکام نے کہا، "بنگلہ دیش ایک مہنگے لڑاکا طیارے پر سرمایہ کاری کیوں کرنا چاہتا ہے، جبکہ اسے کسی بھی ملک سے اور یقیناً ہم سے کوئی فوجی خطرہ نہیں ہے، یہ ایک معمہ ہے۔” حکام نے یہ بھی بتایا کہ جدید راڈارز کی وجہ سے جے-17 یا اسی طرح کے چوتھی نسل کے جیٹ طیاروں کی ہر پرواز کو ٹریک کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا، "پھر بھی، اس خریداری کا مطلب بنگلہ دیش، چین اور اس کے دیگر صارف پاکستان کے درمیان ٹریننگ اور لاجسٹکس پر تعاون کو گہرا کرنا ہوگا۔”
بنگلہ دیش ہندوستان کے حساس ‘سلی گوڑی کوریڈور’ کے بالکل پاس واقع ہے—وہ تنگ زمینی علاقہ جو مرکزی ہندوستان کو اس کی شمال مشرقی ریاستوں سے جوڑتا ہے۔ اس اسٹریٹجک طور پر حساس علاقے کے پاس جدید چینی ساخت کے لڑاکا طیاروں کے آپریشن اور پاکستان و چین کے ساتھ لاجسٹکس اور ٹریننگ میں قریبی تعاون کا امکان یقینی طور پر ہندوستان کے لیے سکیورٹی سے متعلق خدشات بڑھاتا ہے۔
سال 2024 میں محترم شیخ حسینہ کے عہدہ چھوڑنے کے بعد آئے سیاسی متبادل کے بعد سے ہندوستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں کچھ سرد مہری آئی ہے۔ تجارت، ویزا، حوالگی کے مسائل اور سرحدی انتظام پر اختلافات کی وجہ سے پچھلی یونس انتظامیہ کے دوران بداعتمادی کی فضا پیدا ہوئی تھی، جو محترمہ حسینہ کے دور میں کافی حد تک غائب تھی۔ بنگلہ دیش اور ہندوستان دونوں کے سفارت کاروں کو امید ہے کہ طارق رحمان دور کی شروعات کے ساتھ ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات میں بہتری آئیگی ۔ تاہم، بیگم خالدہ ضیاء کے دورِ حکومت کی تاریخی مثال بھی سامنے ہے، جب دونوں ممالک کے تعلقات انتہائی نچلی سطح پر پہنچ گئے تھے اور ہندوستان نے بنگلہ دیش پر دہشت گرد ماڈیولز برآمد کرنے اور ہندوستان کے شمال مشرق کے باغیوں کو اپنی سرزمین پر محفوظ پناہ گاہیں بنانے کی اجازت دینے کا الزام لگایا تھا۔ اس لیے مسٹر رحمان کے لیے چیلنج صرف سرمایہ کاری کو راغب کرنا نہیں ہے، بلکہ چین کے ساتھ معاشی اور دفاعی تعاون کو ‘اسٹریٹجک جھکاؤ’ بننے سے روکنا بھی ہے۔
بنگلہ دیش کے رہنما اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کے ملک کی خوشحالی دونوں ایشیائی سپر پاورز کے ساتھ پیداواری تعلقات برقرار رکھنے پر منحصر ہے۔ چین سرمائے اور بنیادی ڈھانچے کی فنانسنگ کا ایک اہم ذریعہ ہے، جبکہ ہندوستان جغرافیہ، رابطے، تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ مسٹر رحمان کے پہلے غیر ملکی دورے کی کامیابی بالآخر بیجنگ میں دستخط کیے گئے مفاہمت ناموں کی تعداد سے نہیں، بلکہ اس بات سے پرکھی جائے گی کہ کیا ڈھاکہ چین اور ہندوستان دونوں کو یہ یقین دلانا جاری رکھ سکتا ہے کہ ایک کے ساتھ وابستگی دوسرے کی قیمت پر نہیں ہے۔









