نیویارک، 22 جون (یو این آئی) امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی تجزیاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان تقریباً 4 ماہ تک جاری رہنے والی جنگ اور اس کے خاتمے کے لیے طے پانے والے حالیہ معاہدے کے باوجود مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتِ حال میں کوئی بڑی تبدیلی رونما نہیں ہوئی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدرنے فروری میں ایران کے خلاف فوجی کارروائی کو مشرقِ وسطیٰ میں بڑی تبدیلی لانے اور ایران سے لاحق خطرات کے خاتمے کی کوشش قرار دیا تھا، تاہم تقریباً 100روز بعد بھی ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکا اور اس کے مستقبل کا فیصلہ آئندہ مذاکرات پر چھوڑ دیا گیا ہے۔
ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام بھی برقرار ہے، جب کہ خطے میں اس کے اتحادی گروپ اب بھی سرگرم ہیں، ایران کا سیاسی نظام بھی اپنی جگہ قائم ہے، اگرچہ ملک میں نئی قیادت سامنے آئی ہے۔
دوسری جانب اسرائیل اور حزب اللّٰہ کے درمیان جھڑپیں بھی بدستور جاری ہیں، معاہدے سے ایران کو اہم معاشی فوائد حاصل ہوسکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ امریکہ کی فوجی برتری کے بجائے تنازع کو مزید بڑھانے سے گریز کی عکاسی کرتا ہے۔
ادھر ایرانی قیادت امریکی اور اسرائیلی حملوں کا مقابلہ کرنے اور جوابی کارروائی کی صلاحیت کو اپنی کامیابی قرار دے رہی ہے۔







