نئی دہلی، 22 جون( یو این آئی) کانگریس نے کہا ہے کہ مودی حکومت دیہی مزدوری کے اعداد و شمار میں ہیرا پھیری کرکے مصنوعی اضافے سے الجھن پیدا کر رہی ہے، جبکہ حقیقی مزدوری کا اضافہ پچھلے چار برسوں میں سب سے کمزور سطح پر ہے کانگریس کے شعبہ مواصلات کے انچارج مسٹر جےرام رمیش نے پیر کو سوشل میڈیا ایکس پر لکھا کہ کانگریس نے 2024 میں ہی متنبہ کر دیا تھا کہ حکومت نے ریزرو بینک کے ذریعے روزگار کی تشریح بدل کر مالیاتی سال 2018 کے بعد 16.8 کروڑ نئی نوکریاں پیدا ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ اب حکومت دیہی مزدوری کے اعداد و شمار کے ساتھ بھی ویسا ہی کھیل کھیل رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستانی معیشت کی سست روی کی بنیادی وجہ حقیقی مزدوری کا ٹھہراؤ ہے، جس سے کھپت کا اضافہ گھٹا ہے اور نجی سرمایہ کاری متاثر ہوئی ہے۔ اس کا اثر ملک کے مزدور طبقے پر بھی پڑا ہے۔ مسٹر رمیش نے الزام لگایا کہ جون 2025 سے مارچ 2026 کے درمیان دیہی مزدوری کی شرح نمو میں دکھایا گیا تیز اضافہ طریقہ کار میں تبدیلی کا نتیجہ ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ لیبر بیورو نے بغیر کسی عوامی اطلاع کے نیا سیمپلنگ فریم ورک اپنایا جس کے تحت شمال مشرقی ریاستوں، قومی دارالحکومت دہلی اور گوا کے مزدوروں کو نمونے میں شامل کیا گیا۔ ان کے مطابق ان علاقوں کی اوسط مزدوری پرانے نمونے کے مقابلے میں 50 سے 55 فیصد زیادہ ہے، جس سے اعداد و شمار میں مصنوعی اچھال دکھائی دے رہا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ حقیقی مزدوری کی شرح نمو تقریباً 4.3 فیصد ہے، جو گزشتہ چار برسوں میں سب سے کمزور اضافہ ہے اور یہ پورا معاملہ "اعداد و شمار میں ہیرا پھیری کی سیاست” کو ظاہر کرتا ہے۔










