نئی دہلی 18 جون (یو این آئی) امریکہ-ایران معاہدے اورآبنائے ہرمز کے کھلنے کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں آئی گراوٹ کے پیش نظر ملک میں پیٹرول اور ڈیژل کی قیمتوں میں کمی آنے کی امید لگانے والے لوگوں کے لیے ابھی راحت کی خبر نہیں ہے اور حکومت نے کہا ہے کہ اس بارے میں تیل مارکیٹنگ کمپنیاں بین الاقوامی صورتحال کے مطابق مناسب فیصلہ کریں گی۔
حکومت نے کہا ہے کہ ملک میں پیٹرول، ڈیژل، قدرتی گیس اور ایل پی جی کی سپلائی مستحکم ہے اور ایل پی جی بیک لاگ گھٹ کر 3.1 دن رہ گیا ہے۔ پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت میں جوائنٹ سکریٹری سجاتا شرما نے جمعرات کو یہاں مغربی ایشیا کی صورتحال پر بین وزارتی بریفنگ میں پیٹرول اور ڈیژل کی قیمتوں میں کمی سے متعلق سوالات کے جواب میں کہا کہ جہاں تک خام تیل کی قیمت کی بات ہے وہ 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا تھا لیکن ابھی وہ کم ہو رہا ہے اور تیل مارکیٹنگ کمپنیاں اس کا نوٹس لے رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریٹیل قیمتوں کے بارے میں بدلتی ہوئی بین الاقوامی صورتحال کے مطابق مناسب فیصلے کیئے جائیں گے۔
محترمہ شرما نے کہا کہ ہندوستان 40 سے بھی زیادہ ملکوں سے خام تیل خرید رہا ہے۔ اس خریداری کی بنیاد ’ٹیکنو کمرشیل وائبلٹی‘ ہوتی ہے۔ اس میں کمپنی خام تیل کی خریداری سے پہلے یہ دیکھتی ہے کہ کس ملک کا خام تیل ہماری ریفائنری میں صاف (ریفائن) ہو سکتا ہے یا نہیں اور اس کی جو قیمت ہو وہ بھی قابل قبول ہونی چاہیے۔ اس کے علاوہ خام تیل کی سپلائی کی بھروسے مندی پر بھی غور کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں پیٹرول، ڈیژل، قدرتی گیس اور ایل پی جی کی سپلائی مستحکم ہے۔ ریفائنریاں اپنی پوری صلاحیت سے کام کر رہی ہیں اور ریٹیل آؤٹ لیٹس پر آپریشنز معمول کے مطابق بنے ہوئے ہیں، ساتھ ہی ایل پی جی بیک لاگ گھٹ کر 3.1 دن ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین دن میں 1.36 کروڑ بکنگ کے مقابلے میں 1.47 کروڑ سلنڈر ڈیلیور کیے گئے ہیں۔
بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت کی جانب سے بتایا گیا کہ ایل این جی سے لدا مالٹا کے جھنڈے والے جہاز ‘دشا’ نے 15 جون کو ہرمز آبنائے کو محفوظ طریقے سے پار کیا ہے۔ تقریباً 62,370 ٹن ایل این جی لے کر آ رہے اس جہاز کے جمعہ کو گجرات کے داہیج بندرگاہ پہنچنے کا امکان ہے۔ وزارت نے مغربی ایشیا کے بحران کے بعد سے 3,639 ہندوستانی ملاحوں کو خلیجی خطے سے وطن واپس لوٹنے میں مدد کی ہے۔










