واشنگٹن، 17 جون (یو این آئی) امریکہ نے ایران کے ساتھ طے پانے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا متن جاری کر دیا جو 14 نکات پر مشتمل ہے امریکی حکام نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا متن میڈیا نمائندوں کے سامنے پڑھ کر سنایا جس میں آبنائے ہرمز کی بحالی، ایران پر بعض مالی پابندیوں میں نرمی اور ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق مستقبل کے مذاکرات کے بنیادی خدوخال بھی شامل ہیں متن کو امریکہ اور ایران کے عنوان سے جاری دستاویز کہا گیا۔
امریکی حکام نے متن کے بارے میں میڈیا نمائندوں کو بتایا کہ معاہدہ فوری طور پر آبنائے ہرمز کھولنے کیلیے ایران کو پابند کرتا ہے، یہ ایران کو جوہری مواد تلف کرنے کے عمل کا پابند بناتا ہے، یہ ایران کے مثبت اقدامات پر معاشی اور پابندیوں میں نرمی کا فریم ورک ہے۔
مفاہمتی یادداشت جمعہ کو باضابطہ طور پر دستخط کیلیے پیش کی جائے گی جس کے بعد حتمی معاہدے کی شرائط طے کرنے کیلیے 60 روزہ مذاکراتی مدت شروع ہوگی۔ اس کا پہلا نکتہ فوری اور مستقل جنگ بندی ہے۔
متن کے مطابق فریقین تمام محاذوں بشمول لبنان مستقل جنگ بندی پر اتفاق کر چکے ہیں، فریقین نے جنگ یا طاقت کے استعمال سے گریز اور لبنان کی خودمختاری کے احترام کا عہد کیا، امریکا اور ایران ایک دوسرے کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کریں گے، دونوں ممالک اندرونی معاملات میں مداخلت سے اجتناب کریں گے۔
فریقین 60 دن کے اندر حتمی معاہدے پر مذاکرات مکمل کرنے کی کوشش کریں گے، اس مدت میں باہمی رضامندی سے توسیع بھی ممکن ہوگی۔ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے 30 روز میں امریکہ بحری ناکہ بندی مکمل ختم کر دے گا، امریکی افواج بھی ایران کے اطراف سے ہٹا لی جائیں گی۔
متن کے مطابق ایران 60 دن کیلیے خلیج فارس اور بحیرہ عمان کے درمیان تجارتی جہازوں کی محفوظ بنائے گا، تہران 60 دن کیلیے آبنائے ہرمز سے بلا معاوضہ آمد و رفت یقینی بنائے گا، ایران بارودی سرنگوں و دیگر رکاوٹیں ہٹانے کے بعد 30 دن میں بحری ٹریفک مکمل بحال کرے گا، امریکا علاقائی شراکت داروں کے ساتھ ایران کی تعمیر نو اور اقتصادی ترقی پر کام کرے گا، تعمیر نو اور اقتصادی ترقی پلان کی مالیت 300 ارب ڈالر ہوگی جبکہ اس کی تفصیلات حتمی معاہدے میں طے کی جائیں گی۔
معاہدے کے تحت ایران پر عائد آئی اے ای اے، یو این اور یکطرفہ امریکی پابندیاں ختم کی جائیں گی، تہران پر عائد تمام پابندیاں متفقہ شیڈول کے مطابق ختم کی جائیں گی، ایران نے دوبارہ یقین دہانی کروائی کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل یا تیار نہیں کرے گا، افزودہ یورینیم ذخائر کے مستقبل کا فیصلہ آئی اے ای اے کی نگرانی میں باہمی اتفاق سے ہوگا، حتمی معاہدے تک ایران موجودہ جوہری پروگرام میں کوئی تبدیلی نہیں کرے گا۔
ایران کو خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات پر خصوصی مراعات اور مالی سہولت ملے گی
امریکا ایران پر نئی پابندیاں عائد نہیں کرے گا خطے میں مزید فوجی تعیناتی سے گریز کرے گا۔ معاہدے پر دستخط ہوتے ہی ایران کو خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات پر خصوصی مراعات اور مالی سہولت ملے گی۔ ایران کو خام تیل پیٹرومصنوعات پر خدمات کیلیے بھی خصوصی چھوٹ ملے گی۔
متن کے مطابق امریکا ایران کے منجمد یا محدود مالی اثاثوں کو قابل استعمال بنانے کیلیے اجازت نامے دے گا، امریکا منجمد فنڈز تک رسائی کیلیے ایران کو لائسنس جاری کرے گا، معاہدے پر عملدرآمد اور مستقبل کے حتمی معاہدے کی نگرانی کیلیے مشترکہ نظام قائم ہوگا، ابتدائی اقدامات پر عملدرآمد کے بعد دونوں ملک حتمی معاہدے پر باضابطہ مذاکرات شروع کریں گے، حتمی معاہدے کی توثیق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابند قرارداد کے ذریعے کی جائے گی۔








