ایجنسیز
سرینگر؍۱۰جون
نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) ایکٹ کے تحت نامزد خصوصی عدالت، سری نگر نے بدھ کے روز حزب المجاہدین کے سربراہ محمد یوسف شاہ المعروف سید صلاح الدین اور تین دیگر ملزمان کے خلاف۱۹۹۶کے ایک دہشت گردی سے متعلق مقدمے میں اشتہار جاری کرنے کا حکم دیا۔
ایڈیشنل سیشنز جج (ٹاڈا/پوٹا) اور این آئی اے ایکٹ کے تحت نامزد خصوصی جج منجیت رائے نے بھارتیہ شہری تحفظ سنہتا(بی این ایس ایس)۲۰۲۳کی دفعہ۸۴کے تحت اشتہار جاری کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ملزمان مفرور ہیں اور جان بوجھ کر گرفتاری سے بچ رہے ہیں۔
یہ اشتہار سید صلاح الدین، غلام نبی خان، شیر محمد اور ناصر یوسف قادری کے خلاف ایک ایف آئی آر کے سلسلے میں جاری کیا گیا ہے، جو پولیس اسٹیشن سی آئی کے، سری نگر میں درج کی گئی تھی۔ مقدمہ رنبیر پینل کوڈ کی متعلقہ دفعات غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ایکٹ (یو پی اے پی) کی متعلقہ دفعہ کے تحت درج کیا گیا تھا۔
استغاثہ کے مطابق یہ مقدمہ۵؍ اپریل۱۹۹۶ کو اس اطلاع کے بعد درج کیا گیا تھا کہ پاکستانی خفیہ ایجنسیاں مبینہ طور پر کشمیری نوجوانوں کو عسکری تنظیموں میں شامل ہونے اور سرحد پار تربیت حاصل کرکے بھارت کے خلاف جنگ چھیڑنے کے لیے ترغیب دے رہی تھیں۔
تفتیشی ایجنسی کے مطابق سید صلاح الدین اس عمل میں اہم کردار ادا کر رہے تھے اور نوجوانوں کو اشتعال انگیز تقاریر کے ذریعے متاثر کر رہے تھے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ۲۶فروری۲۰۲۶ کو ملزمان کے خلاف پہلے ہی وارنٹِ گرفتاری جاری کیے جا چکے تھے۔ پولیس، فیلڈ افسران، دیہی حکام اور مقامی نمائندوں کی رپورٹس سے ظاہر ہوا کہ ملزمان اپنے معلوم پتوں پر موجود نہیں ہیں اور گرفتاری سے بچنے کیلئے روپوش ہیں۔
عدالت نے ریکارڈ پر موجود مواد کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ اشتہار جاری کرنے کے لیے قانونی تقاضے پورے ہو چکے ہیں، اور چاروں ملزمان کو ہدایت دی کہ وہ۱۴ جولائی۲۰۲۶ تک یا اس سے قبل عدالت میں پیش ہوں۔
عدالت نے مزید حکم دیا کہ تفتیشی افسر اور ایس ایچ او پولیس اسٹیشن سی آئی کے، سری نگر اشتہار کی قانونی تقاضوں کے مطابق تشہیر کو یقینی بنائیں، جس میں عوامی طور پر اشتہار پڑھنا، ملزمان کی رہائش گاہوں اور عدالتی احاطے میں اس کی نقول چسپاں کرنا، اور ان علاقوں میں شائع ہونے والے اخبارات میں اشتہار کی اشاعت شامل ہے جہاں ملزمان عام طور پر رہائش پذیر رہے ہیں۔
عدالت نے تفتیشی ایجنسی کو اشتہاری کارروائی مکمل ہونے کے بعد عمل درآمد رپورٹ بھی پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔










