واشنگٹن، 6 جون (یو این آئی) امریکی صدر ٹرمپ نے وسکونسن ریاست کے زرعی علاقوں کے دورے کے دوران ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے موجودہ ایجنڈے کے اہم امور پر بات چیت کی۔
ٹرمپ نے موقف اپنایا کہ وہ ملک کی اقتصادی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے نکلے تھے، لیکن ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے انہوں نے اس ملک کے خلاف فوجی کارروائی کا آغاز کیا ہے۔ انہوں نے یہ پیغام بھی دیا کہ یہ صورتحال جلد ہی ختم ہو جائے گی۔
امریکی صدر نے کہا، "ہم بہت جلد ایران سے باہر نکل آئیں گے، چاہے یہ کسی معاہدے کے ذریعے ہو یا کسی بہت سخت طریقے سے، ہر صورت میں ایسا ہو کر رہے گا۔ شاید سب سے سخت طریقے ہی سبٹرمپ نے کہا کہ ہمیں ایران کے جوہری خطرے کو ختم کرنا تھا۔ ہم ایسا ہونے کی اجازت نہیں دے سکتے تھے۔ کوئی بھی ایسا ہوتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔ ہم نے اس کام کو بڑے پیمانے پر نمٹا دیا ہے۔ آپ دیکھیں گے، کسی نہ کسی طرح یہ معاملہ اب حل ہو چکا ہے۔” اس کے علاوہ، ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران سے متعلق عمل مکمل ہونے کے بعد امریکہ میں پٹرول اور گیس کی قیمتیں قلیل وقت میں نیچے آ جائیں گی، انہوں نے امریکی عوام سے تھوڑا صبر کرنے کی اپیل کی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کی انتظامیہ کو ایران معاملے پر زبردست کامیابی مل رہی ہے۔
ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز بحران حل ہونے میں زیادہ وقت نہیں لگنا چاہیے۔
امریکی صدر نے کہا کہ صورتحال معمول پر آنے کے بعد تیل کی قیمتیں کم ہو جائیں گی۔ دوسری جانب ایران نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے منجمد اثاثے بحال کر کے ایران امریکہ مذاکراتی ڈیڈلاک ختم کر سکتے ہیں۔ سے آسان راستے ہوں لیکن ہم وہاں سے نکل جائیں گے۔”









