ماسکو، 3 جون (اسپوتنک/یو این آئی) جارج ٹاؤن یونیورسٹی قطر میں گورنمنٹ کے پروفیسر مہران کامروا نے اسپوتنک کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ خلیج فارس میں کسی بھی وقت جنگ کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو سکتا ہے۔
ایرانی اثاثوں کو منجمد کرنے اور ایران مخالف پابندیاں ہٹانے کا مسئلہ اب بھی مذاکرات میں تعطل کا سبب بنا ہوا ہے۔
اگرچہ معاہدے کے وسیع خاکہ پر اتفاق ہو چکا ہے، لیکن ڈونلڈ ٹرمپ نئی ترامیم کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں، جسے ایران کی جانب سے ناقابل اعتبار تصور کیا جا سکتا ہے۔
مثال کے طور پر ایران امریکی پابندیوں کا خاتمہ چاہتا ہے، جب کہ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ پابندیوں میں ریلیف "ایرانی رویے پر مبنی” ہو۔ وہ اس بات پر بھی اصرار کر رہے ہیں کہ معاہدے کے حصے کے طور پر ایران کے منجمد فنڈز کا کوئی بھی حصہ رہا نہیں کیا جائے گا، حالانکہ معاہدے کے مسودے میں ان اثاثوں کے نصف حصے کو رہا کرنے کی شرط رکھی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، معاہدے کے فارمیٹ کا مسئلہ بھی موجود ہے۔
مسٹر کامروا نے وضاحت کرتے ہوئے کہا، "ایرانیوں اور امریکیوں کے پاس اس بات کے دو بالکل مختلف تصورات ہیں کہ معاہدہ کیسا ہونا چاہیے۔ ایرانی بہت سست رفتار معاہدہ چاہتے ہیں، وہ معاہدے کے لیے اپنا وقت لینا چاہتے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ کوئی تیز رفتار اور فوری معاہدہ چاہیں۔ جب کہ امریکی ایک تیز رفتار اور فوری معاہدہ چاہتے ہیں۔”
اسرائیل، جس نے امریکہ اور ایران کے درمیان تعلقات کی بحالی پر بارہا اپنے اعتراضات کا اظہار کیا ہے، ایک ‘وائلڈ کارڈ’ بنا ہوا ہے جو امن معاہدے کو ناکام بنا سکتا ہے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ اب کسی نہ کسی طریقے سے معاہدہ کرنے کا وقت آ گیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان بات چیت رکنے کی خبریں غلط اور بے بنیاد ہیں، ایران سے گفتگو مسلسل جاری ہے، تاہم یہ بات چیت کس سمت جائے گی، یہ کوئی نہیں جانتا۔
انھوں نے کہا ایران سے کہا ہے کہ وقت آ گیا ہے کسی نہ کسی طرح معاہدہ کر لیں، 47 سال سے ایران جو کر رہا ہے اسے مزید ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انھوں نے بتایا کہ ایران کے ساتھ 4 دن پہلے، کل اور آج بھی رابطے ہوئے ہیں، مذاکرات کہاں تک پہنچتے ہیں یہ کہنا قبل از وقت ہے۔ لبنان میں جزوی جنگ بندی؛ حزب اللہ نے اسرائیل پر واضح کر دیا دوسری طرف ایرانی پاسداران انقلاب نے امریکی اہداف پر میزائل اور ڈرون حملوں کا دعویٰ کیا ہے، ایرانی میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب نے امریکی ففتھ فلیٹ ہیڈکوارٹر، ایئر بیس اور ہیلی کاپٹروں کو نشانہ بنایا، یہ کارروائی امریکی حملوں کے جواب میں کی گئی۔







