نئی دہلی، 2 جون (یواین آئی )جموں و کشمیر کے تیز گیند باز عاقب نبی، جو افغانستان کے خلاف واحد ٹیسٹ میچ کے لیے حتمی اسکواڈ میں جگہ بنانے میں ناکام رہے تھے، ان چھ گیند بازوں میں شامل ہیں جنہیں بطور نیٹ بولر ہندوستانی ٹیم کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ یہ گیند باز 6 جون سے ملاں پور (نیو چنڈی گڑھ) میں شروع ہونے والے ٹیسٹ میچ کی تیاریوں میں ہندوستانی بلے بازوں کو پریکٹس فراہم کریں گے۔
ہندوستانی کرکٹ بورڈ کی جانب سے نیٹ پریکٹس کے لیے
عاقب نبی (تیز گیند باز)
گرجپنیت سنگھ (تیز گیند باز)
پرنس یادو (تیز گیند باز)
سارنش جین (آف اسپنر)
ذیشان انصاری (لیگ اسپنر)
شیوانگ کمار (اسپنر)
چھ گیند بازوں کا انتخاب کیا گیا ہے۔
عاقب نبی کے علاوہ تیز گیند بازی کے شعبے میں دو اور باصلاحیت بولرز شامل ہیں۔ ان میں نوجوان اور انتہائی متاثر کن فاسٹ بولر پرنس یادو اور تامل ناڈو کے گرجپنیت سنگھ شامل ہیں۔ پرنس یادو، جنہوں نے حال ہی میں آئی پی ایل میں اپنی تیز رفتار گیند بازی سے سب کو متاثر کیا ہے، اس واحد ٹیسٹ میچ کے بعد ہونے والی ون ڈے (محدود اوورز) سیریز کے لیے بھی بھارتی اسکواڈ کا حصہ ہیں۔
دوسری جانب، اتر پردیش کے لیگ اسپنر ذیشان انصاری اپنی لیگ بریک گیند بازی سے دوسری سمت کی موومنٹ کو کور کریں گے۔ شیوانگ اور ذیشان انصاری دونوں کے پاس اپنی گیند بازی میں خطرناک رانگ ون(گوگلی) پھینکنے کی بہترین صلاحیت موجود ہے، جس سے ہندوستانی بلے بازوں کو افغان اسپنرز کا سامنا کرنے کے لیے بہترین تیاری کا موقع ملے گا۔خواب سے تعبیر تک:ہدف 700 رنز کا تھا، بنا ڈالے 776 رنز! راجستھان رائلز کے ‘ونڈر بوائے ویبھو سوریہ ونشی کا حیران کن انکشاف
نئی دہلی، 2 جون (یواین آئی )راجستھان رائلز کے نوجوان اور ریکارڈ ساز بلے باز ویبھو سوریاونشی نے انکشاف کیا ہے کہ آئی پی ایل 2026 کے آغاز سے پہلے ہی انہوں نے اپنے لیے 700 رنز بنانے کا بڑا ہدف طے کر لیا تھا۔ محض 15 سال کی عمر میں ریکارڈز کے امبار لگانے والے اس نوجوان کھلاڑی نے بتایا کہ انہوں نے یہ ہدف اپنے فون کے ‘نوٹس’ میں لکھ کر محفوظ کیا تھا اور وہ ہر میچ کے بعد اپنی کارکردگی پر گہری نظر رکھتے تھے۔
اگرچہ رائل چیلنجرز بنگلورو (آر سی بی ) نے فائنل میں گجرات ٹائٹنز کو 5 وکٹوں سے ہرا کر اپنے اعزاز کا کامیابی سے دفاع کر لیا، لیکن ویبھو سوریہ ونشی انفرادی انعامات پر حاوی ہو کر اس سیزن کی سب سے بڑی کہانی بن کر ابھرے۔ اس نوجوان بلے باز نے ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ 776 رنز بنا کر ‘اورنج کیپ’ اپنے نام کی۔ اس کے علاوہ انہیں سیزن کا ‘موسٹ ویلیو ایبل پلیئر’ اور ‘ایمرجنگ پلیئر آف دی سیزن’ بھی چنا گیا۔ یہی نہیں، 237.31 کے طوفانی اسٹرائیک ریٹ کے لیے انہیں ‘سپر اسٹرائیکر’ اور پورے ٹورنامنٹ میں ریکارڈ 72 چھکے لگانے پر ‘سپر سکسز’ کے ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
آئی پی ایل کی جانب سے سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں، بہار سے تعلق رکھنے والے 15 سالہ ویبھو نے بتایا کہ انہوں نے سیزن کی منصوبہ بندی پہلے ہی کر لی تھی۔”سچ کہوں تو، میں نے اپنے فون کے نوٹس میں لکھا تھا کہ میں آئی پی ایل میں 700 رنز بنانا چاہتا ہوں۔ یہ نوٹ اب بھی میرے فون میں موجود ہے۔ ہر میچ کے بعد، میں نیچے اپنا اسکور اور اس ٹیم کا نام لکھتا تھا جس کے خلاف میں کھیل رہا تھا۔ یہ میرا ذاتی ہدف تھا، اور خدا کے کرم سے میں نے اسے حاصل کر لیا۔”نوجوان بلے باز نے جذباتی انداز میں کہا کہ اورنج کیپ جیتنا ایک ایسا خواب تھا جو وہ اکثر ٹیلی ویژن پر آئی پی ایل میچ دیکھتے ہوئے سچ ہوتے دیکھنا چاہتے تھے۔
جب میں ٹی وی پر میچ دیکھتا تھا، تو مجھے بہت اچھا لگتا تھا۔ میں کھلاڑیوں کو ‘اورنج کیپ’ پہنے دیکھ کر سوچتا تھا کہ کاش میں کم از کم اسے چھو کر دیکھوں کہ یہ کیسی لگتی ہے۔ لیکن اوپر والے نے میرے لیے اس سے بھی بڑا فیصلہ کر رکھا تھا اور مجھے اس سے نوازا۔ یہ میرے اور میرے خاندان کے لیے ایک انتہائی فخر کا لمحہ ہے۔
اپنی شاندار انفرادی کامیابی کے باوجود، ویبھو سوریہ ونشی کا اصل دھیان اگلے سیزن میں اپنی فرینچائز کو مزید بلندیوں پر لے جانے پر ہے۔ انہوں نے کہا”اس سال ہم نے بہت اچھی واپسی کی۔ امید ہے کہ اگلے سال ہم فائنل کھیلیں گے اور ٹرافی جیتیں گے۔ ذاتی طور پر میں بہت خوش ہوں کہ میں نے بہت کچھ سیکھا اور حاصل کیا۔ اگلے سال بھی میں اس کارکردگی کو برقرار رکھنے کی کوشش کروں گا۔”
ویبھو نے نوجوان اور ڈومیسٹک کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع فراہم کرنے پر آئی پی ایل اور بی سی سی آئی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ آئی پی ایل بلا شبہ دنیا کی نمبر ون کرکٹ لیگ ہے، جو نوجوانوں کو اپنی قابلیت ثابت کرنے کا بہترین پلیٹ فارم دیتی ہے۔مستقبل کے عزائم کا اظہار کرتے ہوئے اس نوجوان اسٹار نے کہا”میں جب تک ممکن ہو سکے، آئی پی ایل کھیلنا چاہتا ہوں اور طویل عرصے تک بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کی نمائندگی کرنے کا خواہش مند ہوں۔ میں چاہے ڈومیسٹک کرکٹ کھیلوں، آئی پی ایل یا ٹیم انڈیا کے لیے، میرا مقصد ہمیشہ اپنی ٹیم کی جیت میں بہترین تعاون فراہم کرنا ہے۔









