ایجبسٹن، 9 ستمبر (یو این آئی) پاکستان کے کپتان بابر اعظم نے کہا ہے کہ لارڈز ٹیسٹ کے بعد پاکستان کی ٹیم میں کیے گئے بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کے بارے میں نہ تو انہیں کوئی اطلاع تھی، نہ ہی ان سے کوئی رائے لی گئی اور نہ ہی ان کی منظوری حاصل کی گئی۔ ایجبسٹن میں تیسرے ٹیسٹ سے ایک روز قبل پریس کانفرنس کے دوران کئی مواقع پر ماحول قدرے کشیدہ دکھائی دیا۔ ٹیم میں ہونے والی تبدیلیوں پر بابر نے زیادہ بات نہیں کی اور کہا کہ ٹیم میں شامل کیے گئے نئے کھلاڑیوں کے لیے یہ ایک ’’سنہری موقع‘‘ ہے۔
بابر نے تسلیم کیا کہ ٹیم میں ہونے والی تبدیلیوں سے وہ بھی اتنے ہی حیران تھے جتنے باہر کے لوگ۔ انہیں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا علم اسی وقت ہوا جب اس سلسلے میں باضابطہ بیان جاری کیا گیا۔ بابر نے کہا، ’’یہ میرے لیے بھی نئی خبر تھی۔ مجھے بعد میں اس کا علم ہوا۔ یہ فیصلہ پی سی بی نے کیا ہے، اس لیے وہی اس بارے میں بہتر بتاسکتے ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’پی سی بی نے یہ فیصلہ کچھ سوچ سمجھ کر ہی کیا ہوگا۔ ایسا کیوں کیا گیا، یہ آپ انہی سے پوچھیں تو بہتر ہوگا۔‘‘ لارڈز میں پاکستان کی شکست کے اگلے ہی روز پی سی بی نے اعلان کیا تھا کہ ٹیم کے سات کھلاڑیوں کو واپس بھیج دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور گیندبازی کوچ عمر گل کو بھی عہدوں سے ہٹا دیا گیا۔ ان کی جگہ سات نئے کھلاڑیوں کو ٹیم میں شامل کیا گیا، جن میں سے پانچ نے اب تک ٹیسٹ کرکٹ نہیں کھیلی ہے۔
بابر نے اس بات کو زیادہ اہمیت نہیں دی کہ ان فیصلوں کی وجہ سے ان کے لیے یہ ہفتہ مشکل رہا، تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ وہ ’’حیران‘‘ ضرور تھے۔ پاکستان کے موجودہ انتخابی نظام کے مطابق، کم از کم اصولی طور پر، کپتان کو ایسے فیصلوں کی اطلاع ہونی چاہیے۔ اسی طرح پی سی بی نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ میڈیا میں کھلاڑیوں کے نظم و ضبط اور رویے سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات کے بعد وہ تحقیقات شروع کررہا ہے۔ بابر نے کہا کہ اس معاملے میں بھی ان کے پاس کوئی نئی اطلاع نہیں ہے۔
اس کے بجائے بابر نے وہی بات دہرائی جو ان کے نئے ٹیسٹ کوچ مائیک ہیسن اور ایشلے نوفکے گزشتہ چند دنوں سے کہتے آرہے ہیں۔ ان کی پوری توجہ اس ہفتے ہونے والے ٹیسٹ پر ہے، نہ کہ اس بات پر کہ پہلے کیا ہوا یا دورہ ختم ہونے کے بعد کیا ہوگا۔
بابر نے کہا، ’’ہم سیریز ہار چکے ہیں، لیکن اب ہمارے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ ہمیں کھل کر کھیلنا چاہیے اور ایک ٹیم کے طور پر خود پر اعتماد رکھنا چاہیے۔ ہم نے دو دن پریکٹس کی ہے اور نئے لڑکوں کو بھی چیزیں سمجھائی ہیں۔ جب کوئی نوجوان کھلاڑی ٹیم میں آتا ہے تو وہ کافی پُرجوش ہوتا ہے اور ان کا یہ جوش صاف دکھائی دے رہا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ میچ میں بھی یہ نظر آئے گا۔‘‘
لارڈز میں 194 رنز کی شکست کے بعد پاکستان کے ہائی پرفارمنس ڈائریکٹر عاقب جاوید نے اس سیریز میں پاکستان کے ٹیم انتخاب پر خاصی تنقید کی تھی۔ تاہم بابر نے پہلے دونوں ٹیسٹ میں ٹیم کے فیصلوں کا دفاع کیا۔
انہوں نے کہا، ’’ایک ٹیم کے طور پر ہم نے تینوں شعبوں میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ جب نتائج آپ کے حق میں نہیں آتے تو باہر سے کافی تنقید ہوتی ہے۔ لیکن اس وقت ہمیں جو سب سے بہتر لگا، ہم نے وہی کیا۔ ہم نے پچ اور حالات کو جس طرح سمجھا اور اس کے مطابق جن کھلاڑیوں کے ساتھ میدان میں اترنا بہتر سمجھا، انہیں ہی پلیئنگ الیون میں شامل کیا۔ لیکن نہ ہمیں نتائج ملے اور نہ ہی ویسی کارکردگی سامنے آئی جس کی ہم خود سے توقع کرتے ہیں۔‘‘
ٹیم میں اتنے نئے چہروں کی موجودگی کے باعث پاکستان کی پلیئنگ الیون کیا ہوگی، اس کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔ تاہم بابر نے کہا کہ ٹیم کے سینئر کھلاڑیوں پر کارکردگی دکھانے کی بڑی ذمہ داری ہوگی۔ ان میں خود بابر بھی شامل ہیں، جنہوں نے لارڈز میں 8 اور 6 رنز بنائے تھے۔ ہاتھ کی چوٹ کے باعث وہ ہیڈنگلے میں پہلا ٹیسٹ نہیں کھیل سکے تھے۔ اس ٹیم کے کسی بھی کھلاڑی نے اب تک ایجبسٹن میں ٹیسٹ میچ نہیں کھیلا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’جب بھی آپ کسی سیریز یا ٹورنامنٹ میں اترتے ہیں تو آپ کو خود پر اعتماد ہوتا ہے کہ آپ اچھی کارکردگی دکھائیں گے۔ ایک سینئر کھلاڑی کی حیثیت سے آپ کو زیادہ ذمہ داری لینی ہوتی ہے۔ میرا پورا یقین ہے کہ مشکل حالات میں ملنے والے مواقع سے فائدہ اٹھاکر کارکردگی دکھانی چاہیے۔ ہم کرکٹ ہی اس لیے کھیلتے ہیں کہ مشکل حالات میں کارکردگی دکھائیں اور اپنا غلبہ قائم کریں۔ ہمیں گزشتہ ناکامیوں کو بھول کر اب اپنی توجہ آنے والے میچ پر مرکوز کرنی ہوگی۔‘‘





