نئی دہلی، 30 مئی (یو این آئی) سپریم کورٹ نے جنگلاتی حیات کے بچاؤ، بازابادکاری اور تحفظ سے متعلق ایک معاملے میں ونتارا کے خلاف دائر نئی درخواست کو خارج کر دیا ہے عدالت نے کہا کہدوبارہ اٹھائے جانے والے الزامات کی سپریم کورٹ کی تشکیل کردہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کی طرف سے پہلے ہی اچھی طرح سے جانچ کی جاچکی ہے اور آخر کار ان پر غور کیا جا چکا ہےجسٹس پرشانت کمار مشرا اور این وی انجاریا کی بنچ نے کہا کہ ایس آئی ٹی کی طرف سے تحقیقات کی گئی اور جن پر عدالت پہلے ہی فیصلہ دے چکی ہے انہیں بار بار نہیں کھولا جا سکتا۔ عدالت نے ونتارا کے خلاف تحقیقات، ضبطی یا مقدمہ چلانے کے مطالبات کو مسترد کر دیا۔
حکم نامے میں عدالت نے کہا کہ متحدہ عرب امارات، وینزویلا، برازیل، جمہوریہ چیک، جنوبی افریقہ اور دیگر ممالک سے جانوروں کی منتقلی درست دستاویزات، سی آئی ٹی ای ایس پرمٹ اور سینٹرل زو اتھارٹی کی منظوری کی بنیاد پر کی گئی۔ عدالت نے ان منتقلیوں کو غیر تجارتی اور چڑیا گھر سے چڑیا گھر منتقلی سمجھا۔
سپریم کورٹ نے بھی جام نگر میں ونتارا کے کام کی اہمیت کو تسلیم کیا۔ ارڈر میں خطرے سے دوچار مکاو پرندوں کے تحفظ اور افزائش کے پروگرام کا ذکر کیا گیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ جن جانوروں کو قانونی طور پر لایا گیا ہے اور انہیں محفوظ ماحول اور دیکھ بھال فراہم کی گئی ہے انہیں ہٹانا ان کے بہترین مفاد میں نہیں ہوگا اور یہ ظلم ہوگا۔
ونتارا کے سی ای او ویوان کارانی نے کہا، یہ فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ ہمارا کام درست سمت میں ہے۔ ونتارا میں انے والا ہر جانور قانونی عمل کے ذریعے ایا ہے، انتہائی حساسیت کے ساتھ اس کی دیکھ بھال کی گئی ہے اور اس کی زندگی بھر حفاظت کی گئی ہے۔ ہمارے لیے تحفظ صرف الفاظ کا معاملہ نہیں ہے بلکہ ایک ذمہ داری ہے جسے ہم ہر روز پورا کرتے ہیں۔










