نیویارک، 16 مئی (یواین آئی) چین کے اقوامِ متحدہ میں سفیر فو گونگ نے جمعہ کے روز آبنائے ہرمز سے متعلق امریکہ اور بحرین کی مجوزہ قرارداد پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مواد اور وقت درست نہیں اور اسے منظور کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔
قرارداد کے مسودے میں ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں حملے اور بارودی سرنگیں بچھانے کا عمل بند کرے، تاہم سفارت کاروں کے مطابق ووٹنگ کی صورت میں روس اور چین اس قرارداد کو ویٹو کر سکتے ہیں۔
دونوں ممالک گزشتہ ماہ بھی ایک امریکی حمایت یافتہ قرارداد کو ویٹو کر چکے ہیں، جسے انہوں نے ایران کے خلاف جانبدارانہ قرار دیا تھا۔
اقوامِ متحدہ کی خبروں سے متعلق نیوز پورٹل پاس بلیو کے شائع کردہ ایک مختصر انٹرویو میں فو گونگ نے کہا، ’’ہم نہیں سمجھتے کہ اس قرارداد کا مواد درست ہے اور نہ ہی اس کا وقت مناسب ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام فریقوں پر زور دیا جائے کہ وہ سنجیدگی اور نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کریں تاکہ مسئلے کا حل نکالا جا سکے۔
چینی سفیر نے مزید کہا کہ اگر فیصلہ چین پر منحصر ہوتا تو اس قرارداد کو ووٹنگ کیلئے پیش ہی نہ کیا جاتا۔
واضح رہے کہ چین اس وقت اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا موجودہ صدر ہے۔
چین کے اقوامِ متحدہ مشن کے مطابق اگر قرارداد پیش کرنے والے ممالک درخواست کرتے ہیں تو سلامتی کونسل کے صدر کی حیثیت سے ووٹنگ کرانا چین کی ذمہ داری ہوگی، تاہم اب تک ایسی کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی۔
یہ بیانات ڈونلڈ ٹرمپ اور شی جن پنگ کے دو روزہ سربراہی اجلاس کے بعد سامنے آئے ہیں، جس میں وائٹ ہاؤس کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ آبنائے ہرمز کھلی رہنی چاہیے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق شی جن پنگ نے آبنائے میں فوجی موجودگی بڑھانے یا وہاں سے گزرنے پر ٹول ٹیکس عائد کرنے کی مخالفت کا اظہار کیا تھا۔
تاہم چینی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں صرف یہ کہا کہ ایران جنگ کے جاری رہنے کی کوئی وجہ نہیں اور تنازع کا حل مذاکرات میں تلاش کیا جانا چاہیے۔








