ریو ڈی جنیرو، 14 مئی (یواین آئی) ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران کے مسئلے کا کوئی فوجی حل موجود نہیں اور خطے کے بحرانوں کا حل صرف سفارتکاری کے ذریعے ممکن ہے۔برکس وزرائے خارجہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ گزشتہ ایک سال سے کم عرصے میں ایران کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے دو ”وحشیانہ اور غیر قانونی جارحیتوں” کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ ایران دیگر آزاد ممالک کی طرح غیر قانونی توسیع پسندی اور جنگی جنون کا نشانہ بنا ہے، جو آج کی دنیا کے بدترین مظاہر ہیں۔
عباس عراقچی نے کہا کہ وہ ایسے عوام کی نمائندگی کر رہے ہیں جنہوں نے شدید بمباری کے باوجود ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام دباؤ یا دھمکی کے سامنے نہیں جھکتے، تاہم احترام کا جواب احترام سے دیتے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق دنیا پر واضح ہو جانا چاہیے کہ ایران ناقابلِ شکست ہے اور ہر دباؤ کے بعد مزید مضبوط اور متحد ہو کر ابھرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اپنی آزادی اور خودمختاری کے دفاع کے لیے پوری طاقت سے لڑنے کے لیے تیار ہے، لیکن ساتھ ہی سفارتکاری کے تحفظ اور فروغ کے لیے بھی مکمل آمادہ ہے۔
عباس عراقچی نے دعویٰ کیا کہ ایران کی مسلح افواج بیرونی جارحیت کا ”تباہ کن جواب” دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں، تاہم ایرانی قوم امن پسند ہے اور جنگ نہیں چاہتی۔
انہوں نے برکس ممالک اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ایران کے خلاف مبینہ غیر قانونی جارحیت اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں کی مذمت کریں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے عالمی اداروں کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال ہونے سے روکنے پر بھی زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ ”امریکہ کی غنڈہ گردی” کو تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیا جائے اور گلوبل ساؤتھ مغربی برتری کے تصور کو مسترد کرے۔
عباس عراقچی نے مزید کہا کہ ایران کے نقطۂ نظر سے آبنائے ہرمز تمام تجارتی جہازوں کیلئے کھلی ہے، تاہم جہازوں کو ایرانی بحری افواج کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا۔








