نئی دہلی 11 مئی (یو این آئی) ہندوستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ اب سیاسی کرتب دکھانے کے بجائے معاشی جوڑ توڑ کا معاملہ زیادہ بن گیا ہے گزشتہ کئی مہینوں سے دباؤ آہستہ آہستہ بڑھ رہا ہے اور اس کے پیچھے ایک بڑی وجہ خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ہیں ماہرین کا خیال ہے کہ اگر مغربی ایشیا میں جنگ نہ بھی ہو، تب بھی 2026 میں خام تیل کی قیمتیں 95 سے 105 ڈالر فی بیرل کے درمیان رہ سکتی ہیں۔ یہ گزشتہ سال کے 65-70 ڈالر کے اوسط کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔
ریزرو بینک نے اس سال کے لیے خام تیل کی قیمت 85 ڈالر رہنے کا تخمینہ لگایا تھا، لیکن گزشتہ ماہ ہندوستان کو اوسطاً 114.48 ڈالر فی بیرل کی قیمت پر تیل خریدنا پڑا۔ ماہرین کے مطابق اس سال کی پہلی ششماہی میں قیمتیں 100 ڈالر سے نیچے آنے کی امید بہت کم ہے۔
ہندوستان اپنی ضرورت کا 85 فیصد سے زیادہ خام تیل بیرون ملک سے درآمدکرتا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں ہر 10 ڈالر کے اضافے سے ہندوستان کے درآمدی بل پر تقریباً 1.5 سے 2 ارب ڈالر کا اضافی بوجھ پڑتا ہے۔ حکومت نے گزشتہ ماہ پیٹرول اور ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی (پیداواری محصول) میں 10 روپے کی کٹوتی کی تھی تاکہ قیمتیں نہ بڑھیں، لیکن یہ ریلیف زیادہ عرصے تک برقرار نہیں رہ سکتا کیونکہ تیل کمپنیاں پہلے ہی بھاری نقصان میں چل رہی ہیں۔
دانشوروں کا کہنا ہے کہ انتخابات ختم ہونے کے بعد اب تیل کی قیمتوں میں تبدیلی کو روکنا مشکل ہوگا، کیونکہ نہ تو کمپنیاں اتنا نقصان برداشت کر سکتی ہیں اور نہ ہی حکومت اپنے بجٹ سے اس کی تلافی کر سکتی ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی اس خطرے کو بھانپتے ہوئے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری چیزوں کی درآمد کم کریں اور توانائی کی بچت کریں۔ انہوں نے سونے کی خریداری ایک سال تک کے لیے روکنے کی اپیل کی ہے۔ ہندوستانیوں کو سونے سے اس قدر لگاؤ ہے کہ گزشتہ سال ہندوستان نے اس کی درآمد پر تقریباً 72 ارب ڈالر خرچ کر دیے۔
سونا ہندوستانیوں کے لیے صرف زیور نہیں بلکہ بچت کا ایک ذریعہ بھی ہے۔ ریزرو بینک بھی اپنے سونے کے ذخائر میں تیزی سے اضافہ کر رہا ہے، جو مارچ 2026 تک 880 ٹن تک پہنچ گیا ہے۔ اب ہندوستان کے کل غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر میں سونے کا حصہ بڑھ کر تقریباً 16.7 فیصد ہو گیا ہے۔
مجموعی طور پر ہندوستان کے سامنے دو بڑے چیلنجز ہیں- تیل اور سونا۔ تیل خریدنے میں غیر ملکی کرنسی خرچ ہوتی ہے اور سونے کی درآمد میں وہ بچائی جا سکتی ہے۔ مزید برآں، ڈالر کی مضبوطی نے مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ ایک سال پہلے جو ڈالر 85.41 روپے کا تھا، وہ اب 95.24 روپے پر پہنچ گیا ہے اور جلد ہی اس کے 100 روپے تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔










