تہران، 11 مئی (یواین آئی) ایران نے کہا ہے کہ مغربی ایشیا میں جنگ ختم کرنے کے لیے اُس کی تجویز "فیاض اور منطقی” تھی، جبکہ امریکہ اب بھی اسرائیلی سوچ سے متاثر "غیر حقیقی مطالبات” پر قائم ہے۔
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کے روز اپنی ہفتہ وار پریس کانفرنس میں کہا کہ امریکی تجویز کے جواب میں ایران کی جانب سے بھیجا گیا منصوبہ "حد سے زیادہ” نہیں تھا بلکہ اُس کا مقصد پورے خطے میں امن اور استحکام قائم کرنا تھا۔
انہوں نے کہاکہ "ہم نے کسی قسم کی رعایت کا مطالبہ نہیں کیا۔ ہم نے صرف ایران کے جائز حقوق کی بات کی ہے۔”
مسٹر بقائی نے سوال اٹھایا کہ کیا خطے میں جنگ ختم کرنے، ایرانی جہازوں کے خلاف "سمندری قزاقی” روکنے اور برسوں سے منجمد ایرانی اثاثے آزاد کرنے کا مطالبہ غیر مناسب کہا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ "کیا آبنائے ہرمز سے محفوظ آمدورفت یقینی بنانے کی ہماری تجویز غیر حقیقی ہے؟ کیا پورے خطے میں امن و سلامتی قائم کرنا غیر ذمہ دارانہ عمل ہے؟”
اس سے قبل امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہوں نے ایرانی نمائندوں کا جواب پڑھا اور اُسے "مکمل طور پر ناقابلِ قبول” قرار دیا۔ مسٹر ٹرمپ نے خبر رساں پورٹل ایکسیوس کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ انہوں نے ایران کے جواب پر بینجامن نیتن یاہو سے بھی بات چیت کی ہے۔
ایران نے اتوار کے روز امریکی تجویز کے جواب میں اپنا باضابطہ منصوبہ بھیجا تھا۔ ایران پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ موجودہ مرحلے میں مذاکرات کا مرکز صرف علاقائی جنگ کا خاتمہ ہوگا۔








