نئی دہلی، 07 مئی (یو این آئی) نیتی آیوگ نے ملک کے اسکولی تعلیمی نظام پر ایک اہم رپورٹ جاری کرتے ہوئے تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے ایک جامع پالیسی فریم ورک پیش کیا ہے۔
’ہندوستان میں اسکولی تعلیمی نظام: معیار میں اضافے کے لیے بروقت تجزیہ اور پالیسی فریم ورک‘ کے عنوان سے یہ رپورٹ نیتی آیوگ کے وائس چیئرمین سمن بیری اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ندھی چھبر نے آج جاری کی۔
رپورٹ میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران ہندوستان کے اسکولی تعلیمی نظام کا جامع تجزیہ کیا گیا ہے۔ اس میں اسکولوں تک رسائی، داخلہ، بنیادی ڈھانچہ، مساوات، شمولیت اور سیکھنے کے نتائج جیسے اہم پہلوؤں کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ یہ مطالعہ مختلف ڈیٹا ذرائع جیسے یوڈی آئی ایس ای 2024-25، ‘پَرَکھ’ قومی سروے 2024،این ایس اے 2017 اور 2021 اور اے ایس ای آر 2024 پر مبنی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ملک میں اس وقت 14.71 لاکھ اسکول کام کر رہے ہیں جن میں 24.69 کروڑ سے زائد طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ اسے دنیا کا سب سے بڑا اسکولی تعلیمی نظام قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ برسوں میں اسکولوں میں بجلی، صفائی کی سہولیات، کمپیوٹر، انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی اور اسمارٹ کلاس رومز جیسی سہولیات میں نمایاں بہتری آئی ہے، جس سے ڈیجیٹل تعلیمی نظام کو تقویت ملی ہے۔
مطالعہ میں لڑکیوں کی تعلیم اور درج فہرست ذات (ایس سی ) و درج فہرست قبائل (ایس ٹی ) کے طلبہ کے داخلوں میں بہتری کو بھی مثبت اشارہ قرار دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی کووڈ وبا کے بعد سیکھنے کے نتائج میں بہتری کے آثار ملے ہیں، خاص طور پر بنیادی خواندگی اور اعداد کے علم (نومریسی) کے شعبے میں۔ رپورٹ میں اس کا سہرا قومی تعلیمی پالیسی 2020، ‘نِپن بھارت مشن’ اور ‘سمگر شکشا ابھیان’ جیسے اقدامات کے سر باندھا گیا ہے۔
رپورٹ میں تعلیمی نظام کو درپیش 11 بڑے چیلنجوں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے 13 جامع سفارشات پیش کی گئی ہیں۔ ان میں اسکولوں کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا، اساتذہ کی تعیناتی اور تربیت میں بہتری، ڈیجیٹل اور نشریات پر مبنی تعلیم کی توسیع، اسکول مینجمنٹ کمیٹیوں کو بااختیار بنانا اور مساوات و شمولیت کو فروغ دینا شامل ہے۔
رپورٹ میں تدریسی طریقہ کار اور تشخیص میں بہتری، ابتدائی بچپن کی تعلیم کو مضبوط بنانے، پیشہ ورانہ تعلیم اور ہنرمندی کو فروغ دینے اور تعلیم میں مصنوعی ذہانت (اے آئی ) کے استعمال پر بھی خصوصی زور دیا گیا ہے۔










