تہران، 28 مارچ (یواین آئی) ایرانی مجلس شوریٰ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے دشمن ایک ایرانی جزیرے پر قبضے کی تیاری کر رہے ہیں، جبکہ امریکی ذرائع کے مطابق واشنگٹن میں ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے مختلف آپشنز زیر غور ہیں۔
اطلاعات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پیش کیے گئے عسکری آپشنز میں فیصلہ کن فضائی حملوں کے علاوہ محدود زمینی کارروائی کے ذریعے بعض ایرانی جزائر پر قبضہ بھی شامل ہے، جس کے بعد یہ سوال پیدا ہو گیا ہے کہ ممکنہ ہدف کون سا جزیرہ ہو سکتا ہے۔
خارگ جزیرہ
ماہرین کے مطابق خلیج فارس میں ایران کے ساحل سے تقریباً 30 کلومیٹر دور واقع جزیرہ خارگ اہم ترین ہدف سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہاں ایران کا سب سے بڑا تیل برآمدی مرکز موجود ہے۔ امریکی بینک جے پی مورگن کے مطابق ایران کی تقریباً 90 فیصد خام تیل برآمدات اسی جزیرے سے ہوتی ہیں۔
مارچ میں اس جزیرے پر فضائی حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، جن کے بارے میں امریکی صدر نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ مشرق وسطیٰ کی تاریخ کے طاقتور ترین حملوں میں شامل تھے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ صنعتی تنصیبات کو جان بوجھ کر نشانہ نہیں بنایا گیا۔
ماہرین کے مطابق خارگ ایران کی معیشت میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے اور قدس فورس کے لیے بھی اہم مالی ذریعہ سمجھا جاتا ہے، تاہم اس کے پیچیدہ تیل کے بنیادی ڈھانچے کے باعث اسے نشانہ بنانا آسان نہیں ہوگا۔
جزیرہ لارک
جزیرہ لارک، جزیرہ قشم کے مشرق اور جزیرہ ہرمز کے جنوب میں واقع ایک چھوٹا مگر اسٹریٹجک جزیرہ ہے۔ یہ آبنائے ہرمز کے تنگ ترین حصے کے قریب واقع ہے اور 1987 سے تیل برآمدات کے لیے اہم مقام سمجھا جاتا ہے۔ یہاں ایک ایرانی فوجی اڈہ بھی موجود ہے۔
ماہرین کے مطابق اس جزیرے کی اہمیت زیادہ تر سمندری راستوں اور جہاز رانی کے کنٹرول سے جڑی ہے۔
جزیرہ قشم خلیج فارس کا سب سے بڑا جزیرہ ہے جو آبنائے ہرمز میں تقریباً 100 کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ جزیرہ اپنے جغرافیائی ورثے اور سیاحتی مقامات کے باعث ایرانی سیاحوں میں مقبول ہے اور یہاں کی بندرگاہ متحدہ عرب امارات سے آنے والی تجارت کے لیے اہم راستہ سمجھی جاتی ہے۔
ایران تین دیگر جزائر—طنب الصغری، طنب الکبری اور ابو موسی—پر بھی قابض ہے جن پر متحدہ عرب امارات خود مختاری کا دعویٰ کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ان جزائر کو اب مضبوط دفاعی مقامات میں تبدیل کیا جا چکا ہے جہاں بحری جہازوں کو نشانہ بنانے والے میزائل نصب ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ ان جزائر پر کنٹرول حاصل کر لیتا ہے تو ایران کی جانب سے سمندری راستوں کے خلاف ممکنہ کارروائیوں کو محدود کیا جا سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے گزشتہ سال ان علاقوں میں قدس فورس کی بحری یونٹس بھی تعینات کی ہیں جو جدید میزائل نظام سے لیس ہیں اور قریبی فوجی اڈوں اور جہازوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔








