’وزیر اعظم جنگ کو ختم کرنے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں‘
ایجنسیز
جموں؍۲۷مارچ
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کے روز ایران پر مسلط کی گئی’ناجائز اور غیر قانونی جنگ‘ کی مذمت کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی سے اپیل کی کہ وہ انسانیت کے مفاد میں اس جنگ کے خاتمے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔
وزیر اعلیٰ نے یہ بیان قانون ساز اسمبلی میں بطور قائد ایوان دیا، جب کہ نیشنل کانفرنس کے کئی اراکین اسمبلی نے اس حوالے سے بیان دینے پر زور دیا، جبکہ بی جے پی کے اراکین کا موقف تھا کہ ایران کا بحران ایک بین الاقوامی معاملہ ہے اور یہ ایوان کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔
عمرعبداللہ نے کہا’’میں اپنی اور اپنے ساتھیوں کی جانب سے ایران پر مسلط کی گئی اس ناجائز اور غیر قانونی جنگ کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ اس تنازعے میں آیت اللہ علی خامنہ ای، ان کے رفقا اور دیگر تمام جاں بحق افراد کے لیے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتا ہوں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’میں اپنے وزیر اعظم سے مخلصانہ اپیل کرتا ہوں کہ وہ دستیاب تمام سفارتی ذرائع اور تعلقات کو بروئے کار لاتے ہوئے اس جنگ کو جلد از جلد ختم کرانے میں کردار ادا کریں۔ اس سے نہ صرف ہمیں بلکہ پوری انسانیت کو فائدہ ہوگا‘‘۔
جمعہ کے روز جموں و کشمیر اسمبلی میں اس وقت ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی جب پانچ ہفتوں کے وقفے کے بعد بجٹ اجلاس کا دوسرا مرحلہ شروع ہوا۔ نیشنل کانفرنس، سی پی آئی (ایم)، کانگریس، پی ڈی پی اور آزاد اراکین اسمبلی نے ایران کے حق میں نعرے بازی کی، جبکہ بی جے پی اراکین نے جموں میں نیشنل لا یونیورسٹی کے قیام کا مطالبہ کیا۔
ہنگامہ جاری رہنے پر اسپیکر عبدالرحیم راتھر نے ایوان کی کارروائی آدھے گھنٹے کے لیے ملتوی کر دی۔
وقفے کے بعد اجلاس دوبارہ شروع ہونے پر نیشنل کانفرنس کے رکن اسمبلی تنویر صادق نے قائد ایوان سے ایران کے خلاف جنگ پر بیان دینے کا مطالبہ کیا، جس کے بعد مختلف اراکین نے اس معاملے کے حق اور مخالفت میں مختصر تقاریر کیں۔
ابتدائی طور پر عمرعبداللہ نے کہا’’ایوان اس معاملے پر متحد نہیں ہے، کوئی ایک رائے موجود نہیں۔ اگر آپ چاہیں تو اس پر بحث ہو سکتی ہے تاکہ مختلف آراء سامنے آئیں۔ اگر میں مطالبے کے حق میں بات کروں اور بعد میں مخالفت سامنے آئے تو یہ مناسب نہیں ہوگا‘‘۔
دونوں جانب سے اراکین کی آراء سننے کے بعد اسپیکر نے وزیر اعلیٰ سے ایوان میں بیان دینے کی درخواست کی اور کہا کہ پارلیمنٹ بھی ایسا کر چکی ہے۔
عمرعبداللہ نے کہا’’مجھے نہیں لگتا کہ یہاں کوئی کھڑا ہو کر اس انداز میں ایران پر مسلط کی گئی ناجائز اور غیر قانونی جنگ کی حمایت کر سکتا ہے۔ انسانیت کو جس طرح کچلا گیا اور جس بے رحمی سے ایران کے سپریم لیڈر اور ان کے قریبی ساتھیوں اور رشتہ داروں کو قتل کیا گیا، اس کی مذمت کے لیے الفاظ ناکافی ہیں‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایک اسکول پر بمباری کی گئی جس میں درجنوں طالبات ہلاک ہوئیں، اور حالیہ ماضی میں ایسا ہولناک واقعہ یاد کرنا مشکل ہے۔
عمرعبداللہ نے مزید کہا’’اور مقصد کیا ہے؟ اب تک یہ واضح نہیں۔ اگر آپ امریکہ کے بیانات سنیں تو لگتا ہے کہ وہ خود بھی غیر یقینی کا شکار ہیں۔ صبح وہ حکومت کی تبدیلی کی بات کرتے ہیں، دوپہر کو سکیورٹی خدشات کا ذکر کرتے ہیں، اور شام تک تیل کی قیمتوں پر گفتگو شروع ہو جاتی ہے۔ شاید انہیں خود بھی معلوم نہیں کہ گزشتہ تین ہفتوں سے ایران کے عوام کو کیوں تکلیف دی جا رہی ہے‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بی جے پی اراکین کا ماننا ہے کہ ایوان کو ایسے معاملات پر بحث نہیں کرنی چاہیے جو براہ راست خطے کو متاثر نہیں کرتے۔
عمرعبداللہ نے کہا’’وہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ یہ ہمیں متاثر نہیں کرتا؟ ہمارے کئی شہری ایران میں موجود ہیں، اس لیے یہ ہمیں براہ راست متاثر کرتا ہے۔ آج پیٹرول پمپوں کے باہر لگی قطاریں کیا یہ ہمیں متاثر نہیں کر رہیں؟ اور سب سے بڑھ کر ہمارے لوگوں کا دکھ اور اضطراب، وہ بھی ایک اثر ہے‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’یہ درست ہے کہ ہم یہاں بیٹھ کر جنگ کو نہیں روک سکتے،‘‘ تاہم انہوں نے اراکین کو یاد دلایا کہ مرکزی حکومت بارہا کہہ چکی ہے کہ اس کے کئی ممالک کے ساتھ مضبوط تعلقات ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ہمارے تعلقات اچھے ہیں۔ ایران کے ساتھ بھی تاریخی طور پر مضبوط روابط رہے ہیں۔ میں نے خود اس کا مشاہدہ اس وقت کیا جب میں اٹل بہاری واجپائی کے دور میں وزیر مملکت برائے خارجہ امور تھا۔ بھارت کے ایران کے ہمسایہ ممالک کے ساتھ بھی اچھے تعلقات ہیں‘‘۔
عمرعبداللہ نے کہا’’لہٰذا اگر یہ ایوان اجتماعی طور پر وزیر اعظم نریندر مودی سے اپیل کرے کہ وہ اپنے عہدے اور ذاتی سفارتی تعلقات کو بروئے کار لا کر اس جنگ کے جلد خاتمے میں مدد کریں، تاکہ وہاں کے عوام کی تکالیف ختم ہوں اور ایران دوبارہ دنیا کے ساتھ پرامن طور پر جڑ سکے، تو اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔‘‘










