ہم متعلقہ ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ ہماری توانائی کی سلامتی کی ضروریات پوری کی جا سکیں:جیسوال
’گیس تنصیبات پر حملے ناقابل قبول‘ بند ہونے چاہئیں‘بھارتی تارکین وطن کی سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے کوشاں ہیں‘
(ویب ڈیسک )
سرینگر؍۱۹مارچ
مغربی ایشیا میں جاری تنازع کے عالمی اثرات کے ساتھ پھیلنے کے درمیان، بھارت نے جمعرات کو کہا کہ یہ صورتحال نہ صرف ملک بلکہ پوری عالمی برادری کے لیے ایک ’آزمائش‘ ثابت ہوئی ہے۔
یہاں مغربی ایشیا کی صورتحال پر ایک بین الوزارتی بریفنگ کے دوران وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا’’ہم متعلقہ ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ ہماری توانائی کی سلامتی کی ضروریات پوری کی جا سکیں‘‘۔
خطے میں جاری شدید تنازع جمعرات کو اپنے بیسویں دن میں داخل ہو گیا۔
مغربی ایشیا میں یہ تنازع۲۸فروری کو اس وقت شروع ہوا جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر فوجی حملے کیے۔ اس کے جواب میں تہران نے ان خلیجی ممالک کو نشانہ بنایا جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں۔
جیسوال نے کہا’’جی ہاں، یہ نہ صرف ہمارے لیے بلکہ پوری عالمی برادری کے لیے ایک آزمائش کا وقت رہا ہے۔ ہمارے رہنما اپنے ہم منصبوں کے ساتھ رابطے میں رہے ہیں، جیسا کہ میں نے ابھی ہمارے وزیر اعظم اور کویت کے ولی عہد کے درمیان ہونے والی بات چیت کا ذکر کیا۔ اسی طرح ہم کئی دیگر رہنماؤں سے بھی رابطے میں ہیں‘‘۔
ان سے پوچھا گیا تھا کہ کیا مغربی ایشیا کی صورتحال نے مشکل عالمی حالات میں نئی دہلی کے سفارتی رویے کا امتحان لیا ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا’’چند روز قبل آپ نے دیکھا کہ ہماری کوششوں اور مختلف فریقین کے ساتھ بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے ہم اپنے ایل پی جی کے دو جہاز آبنائے ہرمز سے گزارنے میں کامیاب ہوئے‘‘۔
جیسوال نے کہا کہ بھارت اس معاملے میں متعدد فریقین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ نہ صرف توانائی کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے بلکہ اس خطے میں بڑی تعداد میں موجود بھارتی شہریوں اور تارکینِ وطن کی فلاح و بہبود اور سلامتی بھی یقینی بنائی جا سکے۔
ترجمان وزارتِ خارجہ نے زور دیتے ہوئے کہا’’ہماری سفارتی کوششیں جاری ہیں اور ہم اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہیں‘‘۔
مغربی ایشیا میں گیس تنصیبات پر تازہ حملوں کے بعد پیدا ہونے والی تشویش پر جیسوال نے کہا کہ ایسے حملے ’’ناقابل قبول ہیں اور انہیں فوری طور پر بند ہونا چاہیے‘‘۔انہوںنے ان حملوں کو ’انتہائی تشویشناک‘قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پہلے سے غیر یقینی عالمی توانائی صورتحال کو مزید غیر مستحکم کر رہے ہیں۔
ایران نے اسرائیل کی جانب سے اپنے ساؤتھ پارس گیس فیلڈز پر حملوں کے جواب میں مغربی ایشیا میں توانائی کے متعدد بنیادی ڈھانچوں کو نشانہ بنایا، جن میں قطر کا ایل این جی حب راس لفان بھی شامل ہے۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا’’بھارت اس سے پہلے بھی خطے میں شہری بنیادی ڈھانچے، بشمول توانائی کے ڈھانچے، کو نشانہ بنانے سے گریز کی اپیل کر چکا ہے‘‘۔
جیسوال نے کہا’’خطے کے مختلف مقامات پر توانائی تنصیبات پر حالیہ حملے نہایت تشویشناک ہیں اور یہ پوری دنیا کے لیے پہلے سے غیر یقینی توانائی صورتحال کو مزید عدم استحکام کا شکار بنا رہے ہیں‘‘۔انہوں نے واضح کیا’’ایسے حملے ناقابل قبول ہیں اور انہیں بند ہونا چاہیے‘‘۔
وزارتِ خارجہ کے ایڈیشنل سیکرٹری (خلیج) عاصم آر مہاجن نے کہا کہ وزارتِ خارجہ خلیج اور مغربی ایشیا کے خطے میں ہونے والی پیش رفت پر مسلسل گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ (ایجنسیاں










