ویب ڈیسک
سرینگر؍۱۹مارچ
جموں و کشمیر پولیس کی جانب سے پہاڑی اور جنگلاتی علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف اپنائی گئی پیشگی اور اختراعی حکمت عملی کے نتیجے میں جموں خطے کے بالائی علاقوں میں دہشت گردی سے متعلق واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے۔
ذرائع کے مطابق۲۰۲۳۔۲۴کے دوران سرحدی اضلاع پونچھ اور راجوری، ادھم پور کے بالائی علاقے اور کٹھوعہ کے کچھ حصے دہشت گردانہ حملوں کی زد میں رہے، جس سے سکیورٹی کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا ہوئے تھے۔
ذرائع نے بتایا’’اسی مشکل دور میں نلین پربھات نے جموں و کشمیر کے ڈی جی پی کا عہدہ سنبھالا اور دشوار گزار علاقوں پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے انسداد دہشت گردی کارروائیوں کی از سر نو تنظیم شروع کی‘‘۔
عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ڈی جی پی پربھات نے خطے کے منفرد جغرافیائی چیلنجز—گھنے جنگلات، دشوار گزار پہاڑ اور بلند و بالا علاقے—کو مدنظر رکھا۔ ذرائع نے بتایا’’انہوں نے اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی) کے اندر ایک خصوصی آپریشنل فریم ورک متعارف کرایا، جس کے تحت دو ایلیٹ یونٹس قائم کیے گئے:’سنو لیپرڈز‘ اور ’مارخور‘‘‘۔
ان کے مطابق’’سنو لیپرڈز یونٹ مرکزی سطح پر قائم ہے اور اس کی بنیادی ذمہ داری برف پوش علاقوں، بلند پہاڑی چوٹیوں اور دروں میں کارروائیاں انجام دینا ہے، جبکہ مارخور یونٹس پورے یونین ٹیریٹری میں پھیلے ہوئے ہیں اور انہیں جنگلاتی علاقوں اور پہاڑی خطوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے خصوصی تربیت دی گئی ہے—وہ علاقے جنہیں طویل عرصے سے دہشت گرد گروہ دراندازی اور پناہ گاہوں کے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں‘‘۔
آپریشنل صلاحیت بڑھانے کے لیے منتخب اہلکاروں کو آندھرا پردیش کے گری ہاؤنڈز اور فوج کے ایلیٹ یونٹس کے ساتھ جنگلاتی جنگ، برداشت اور خصوصی لڑاکا مہارتوں کی اعلیٰ تربیت دی گئی۔
اس صلاحیت سازی کے اقدام سے فورس کی مشکل اور خطرناک ماحول میں کارروائی کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس حکمت عملی کے نتائج واضح طور پر سامنے آئے ہیں۔’’۲۰۲۵ تک خطے میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی، جو بہتر انٹیلی جنس ہم آہنگی، مؤثر علاقے پر کنٹرول اور خطرات کے فوری خاتمے کی عکاسی کرتی ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ اس حکمت عملی نے نہ صرف دہشت گرد نیٹ ورکس کو متاثر کیا بلکہ دور دراز علاقوں میں مقامی آبادی کے اندر تحفظ کے احساس کو بھی بحال کیا۔
قابل ذکر ہے کہ حال ہی میں ایس ٹی سی تلوارہ میں پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی پی پربھات نے کہا تھا کہ جموں و کشمیر پولیس نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے اپنی حکمت عملی تبدیل کی ہے۔ ’’گزشتہ دو برسوں کے دوران پولیس نے اپنی آپریشنل حکمت عملی میں تبدیلی کرتے ہوئے دور دراز جنگلات اور پہاڑی علاقوں میں کارروائیاں تیز کی ہیں، جہاں دہشت گرد دوبارہ منظم ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ اب لڑائی کا رخ جنگلات اور بالائی علاقوں کی طرف منتقل ہو چکا ہے۔ ہم ان علاقوں میں جا کر دہشت گردوں کو ختم کر رہے ہیں اور ان کے ٹھکانے تباہ کر رہے ہیں‘‘۔
ڈی جی پی نے مزید کہا کہ پولیس اب جنگلات میں دہشت گردوں کے ساتھ براہِ راست مقابلہ کر رہی ہے۔’’ہماری کارروائیاں ان دہشت گردوں کے خلاف ہیں جنہیں ہمارا بدنیت ہمسایہ بھیجتا ہے۔ ہم انہیں اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے‘‘۔
گزشتہ سال کے ’آپریشن مہادیو‘کا ذکر کرتے ہوئے ڈی جی پی نے کہا کہ اس کارروائی میں سکیورٹی فورسز نے تین پاکستانی دہشت گردوں کو ہلاک کیا تھا۔’’یہ دہشت گرد پہلگام کے بیسرن علاقے میں۲۶شہریوں کے قتل میں ملوث تھے۔ پولیس نے انہیں جنگلات کے اندر گہرائی تک تعاقب کے بعد ہلاک کیا۔‘‘










