’آن لائن خریداری کا رجحان پہلے ہی ہمارے لیے چیلنج تھا، مگر اب کچھ مقامی تاجر بڑی مقدار میں سامان خرید کر کم منافع پر فروخت کر رہے ہیں‘
(ویب ڈیسک )
سرینگر؍۱۷مارچ
عیدالفطر میں محض چند دن باقی رہ جانے کے باعث سرینگر سمیت وادی کے دیگر قصبوں کی منڈیاں خریداروں سے بھر گئی ہیں، جہاں لوگ عید کی تیاریوں کے لیے نئے کپڑے اور کھانے پینے کی اشیا خریدنے میں مصروف ہیں۔
ریڈی میڈ گارمنٹس کی دکانیں، بیکریاں، فروٹ اسٹالز اور گوشت و ڈیری مصنوعات فروخت کرنے والے مراکز پر خاصی چہل پہل دیکھی جا رہی ہے۔
تاہم دکانداروں کا کہنا ہے کہ ای کامرس پلیٹ فارمز اور نئے طرز کے کاروبار نے ان کی فروخت کو متاثر کیا ہے۔
سرینگر میں ریڈی میڈ ملبوسات کے دکاندار آصف احمد بٹ نے کہا’’آن لائن خریداری کا رجحان پہلے ہی ہمارے لیے چیلنج تھا، مگر اب کچھ مقامی تاجر بڑی مقدار میں سامان خرید کر کم منافع پر فروخت کر رہے ہیں، جس سے گاہک ان کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں‘‘۔
بٹ نے کہا کہ یہ’موسمی تاجر‘ سوشل میڈیا کے ذریعے کم قیمتوں پر اشیا پیش کر کے مارکیٹ میں ہلچل پیدا کر دیتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا’’رمضان سے قبل انہوں نے کھجوریں بڑی مقدار میں خرید کر آن لائن فروخت کیں، اور اب ریڈی میڈ کپڑوں کی طرف آ گئے ہیں۔ ہمارے جیسے دکانداروں کے لیے ان سے مقابلہ کرنا مشکل ہو رہا ہے‘‘۔
ادھر بیکری مالکان کا کہنا ہے کہ کاروبار تو بہتر ہے، مگر خدشات بھی موجود ہیں۔
اپ ٹاؤن سری نگر کے بیکری مالک جہانگیر خان نے کہا’’کلاؤڈ کچنز کی تعداد بڑھ رہی ہے جہاں لوگ گھروں سے بیکری آئٹمز بنا کر آن لائن فروخت کرتے ہیں۔ ان کے اخراجات کم ہوتے ہیں، اس لیے وہ سستی قیمت پر چیزیں فراہم کرتے ہیں اور گھر تک ڈیلیوری بھی دیتے ہیں‘‘۔
دوسری جانب کلاؤڈ کچن چلانے والے اس رجحان کا دفاع کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کامیابی کا فیصلہ صارفین کرتے ہیں۔
پرانے شہر سری نگر کی ایک گھریلو بیکری چلانے والی نور فاطمہ نے کہا’’ہماری کامیابی کا دارومدار ریپیٹ آرڈرز پر ہے۔ اگر صارفین کو ہماری مصنوعات پسند نہ آئیں تو وہ دوبارہ نہیں خریدیں گے۔ بار بار آرڈر آنا اس بات کی دلیل ہے کہ ہم مناسب قیمت پر معیاری اشیا فراہم کر رہے ہیں‘‘۔
وادی میں عید کی معیشت کا حجم تقریباً۱۵۰۰ کروڑ روپے بتایا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا اور کلاؤڈ کچنز کے آنے سے پہلے یہ مارکیٹ چند روایتی بڑے کاروباری ناموں تک محدود تھی، مگر اب نئے کھلاڑیوں کی آمد نے مسابقت کو بڑھا دیا ہے، جہاں جدت بقا کی کلید بن گئی ہے۔
عیدالفطر، جو ماہِ رمضان کے اختتام پر منائی جاتی ہے، چاند نظر آنے کے مطابق جمعہ یا ہفتہ کو منائی جائے گی۔
۔۔۔۔۔










