سیاحتی صنعت سے وابستہ افراد کیلئے ایک نئی شروعات ‘ انہیں نہایت مشکل دور سے گزرنا پڑا‘امید ہے صورتحال بہتر ہو گی :عمر
(ویب ڈیسک )
سرینگر؍۱۶مارچ
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کے روز یہاں ڈل جھیل کے کنارے واقع ایشیا کے سب سے بڑے ٹیولپ گارڈن کو سیاحوں کے لیے کھول دیا اور امید ظاہر کی کہ سیاحت کا شعبہ گزشتہ سال کے دھچکوں سے سنبھل کر دوبارہ فروغ پائے گا۔
حکام کے مطابق عبداللہ اپنے کابینہ ساتھیوں اور نیشنل کانفرنس کے ارکان اسمبلی کے ہمراہ چشمہ شاہی روڈ پر واقع اندرا گاندھی میموریل ٹیولپ گارڈن پہنچے۔
عبداللہ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا’’یہ سیاحتی صنعت سے وابستہ افراد کیلئے ایک نئی شروعات ہوگی۔ انہیں ایک نہایت مشکل دور سے گزرنا پڑا۔ تاہم حالات بدلتے رہتے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ صورتحال بہتر ہوگی تاکہ باہر سے آنے والے لوگ جموں و کشمیر کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہو سکیں‘‘۔
گزشتہ سال اپریل میں پہلگام میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے بعد، جس میں۲۶؍افراد ہلاک ہوئے تھے، ٹیولپ گارڈن بھی ان۴۴مقامات میں شامل تھا جنہیں سیاحوں کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔ سکیورٹی آڈٹ کے بعد اس سال اسے دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔
عمرعبداللہ نے کہا کہ مختلف متعلقہ فریق فلوری کلچر کو ایک تجارتی سرگرمی بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں تاکہ یہاں اگائے جانے والے پھول ملک کے دیگر حصوں کو برآمد کیے جا سکیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’زیادہ تر انتظامات مکمل ہیں۔ اس وقت قابلِ اعتماد کولڈ چین کا مسئلہ درپیش ہے۔ جب یہ سہولت میسر آ جائے گی، چاہے وہ ریل کے ذریعے ہو یا ہوائی راستے سے، تو یہ شعبہ مزید فروغ پا سکتا ہے‘‘۔
عمرعبداللہ نے یہ بھی کہا کہ ٹیولپ کے بلب مقامی سطح پر تیار کرنے کی کوششیں جاری ہیں تاکہ انہیں نیدرلینڈز سے درآمد کرنے پر آنے والے اخراجات کو کم کیا جا سکے۔انہوں نے کہا’’اس سے زرمبادلہ کی بھی بچت ہوگی‘‘۔
سیاحتی مقامات پر سکیورٹی کے حوالے سے عمرعبداللہ نے کہا کہ سکیورٹی کے ذمہ دار ادارے تمام سیاحتی مقامات پر اپنی موجودگی یقینی بنائیں گے۔
وادی میں درجہ حرارت میں اضافے کے باعث پھولوں کے جلد کھلنے کی وجہ سے باغ کو مقررہ وقت سے تقریباً دس دن پہلے ہی سیاحوں کے لیے کھول دیا گیا۔
یہ باغ، جسے۲۰۰۸میں کشمیر کے سیاحتی مقامات میں شامل کیا گیا تھا، عموماً مارچ کے آخری ہفتے میں سیاحوں کے لیے کھولا جاتا ہے۔تاہم چونکہ کشمیر میں دہائیوں کا گرم ترین فروری ریکارڈ کیا گیا، اس لیے ٹیولپ کے پھول معمول سے پہلے کھل گئے۔
فلوری کلچر محکمہ نے باغ میں بلب کی کثافت بڑھا دی ہے تاکہ باغ کو مزید خوبصورت اور بھرپور انداز دیا جا سکے۔ باغ میں۷۰سے زائد اقسام کے ٹیولپ نمائش کے لیے پیش کیے جائیں گے اور یہاں۱۸لاکھ سے زیادہ بلب لگائے گئے ہیں۔
سیاحوں کی دلچسپی بڑھانے کے لیے مختلف ثقافتی پروگرام بھی ترتیب دیے گئے ہیں۔
افتتاحی دن عوامی ردعمل حوصلہ افزا رہا اور بڑی تعداد میں سیاح اور مقامی لوگ باغ کے باضابطہ طور پر کھلنے سے پہلے ہی باہر انتظار کرتے ہوئے نظر آئے۔










