سیاسی جماعتوں کی واقعہ کی مذمت‘مکمل تحقیقات کا مطالبہ
ایجنسیز
جموں؍۱۲مارچ
جموں کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کی صبح یہاں اپنے والد اور نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات اس واقعے کے چند گھنٹوں بعد ہوئی جب سکیورٹی اہلکاروں نے شہر میں ایک شادی کی تقریب کے دوران بزرگ رہنما پر قاتلانہ حملے کی کوشش کو ناکام بنا دیا تھا۔
مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما بھی سابق وزیر اعلیٰ کی خیریت دریافت کرنے کے لیے یہاں بھٹنڈی میں ان کی رہائش گاہ پر جمع ہوئے اور اس واقعے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
بدھ کی رات جموں کے مضافات میں گریٹر کیلاش میں ایک تقریب سے واپسی کے دوران فاروق عبداللہ بال بال بچ گئے جب ایک مسلح شخص نے پیچھے سے ان پر فائرنگ کر دی۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ آج صبح دہلی سے جموں پہنچنے کے بعد سیدھا نیشنل کانفرنس کے صدر کی رہائش گاہ پہنچے۔ انہوں نے اپنے والد کے ساتھ تقریباً ایک گھنٹہ گزارا۔ اس دوران بی جے پی، کانگریس اور سماجی کارکنوں سمیت مختلف افراد ان کی خیریت معلوم کرنے کے لیے آتے رہے۔
عمر عبداللہ کے بیٹے ضمیر اور ظاہر بھی سرینگر سے بھٹنڈی پہنچے اور اپنے دادا سے ملاقات کی۔
نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری، جنہوں نے فاروق عبداللہ سے ملاقات کی، نے کہا کہ سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج سے واضح طور پر نظر آتا ہے کہ ملزم نے نیشنل کانفرنس کے صدر پر بندوق تان رکھی تھی۔ انہوں نے اس قیاس آرائی کو مسترد کیا کہ فائرنگ جشن کے طور پر کی گئی تھی۔
چودھری نے کہا کہ سکیورٹی اہلکاروں کی بروقت کارروائی نے ایک بڑے سانحے کو ٹال دیا اور اس واقعے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اتنی سخت سکیورٹی رکھنے والے رہنما پر حملہ سنگین سکیورٹی خدشات کو جنم دیتا ہے۔
فاروق عبداللہ سے ملاقات کرنے والوں میں وزراء سکینہ ایتو اور جاوید ڈار بھی شامل تھے، جبکہ پارٹی کے سینئر عہدیداروں اور کارکنوں نے بھی اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے انتہائی تشویشناک قرار دیا۔
بی جے پی کے رکن اسمبلی وکرم رندھاوا نے بھی فاروق عبداللہ سے ملاقات کی اور اس واقعے کو’قابل مذمت اور افسوسناک‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جموں ہمیشہ امن پسند رہا ہے۔انہوں نے عبداللہ سے ملاقات کے بعد صحافیوں کو بتایا’’ایسے واقعات کی جموں میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ عسکریت پسندی کے عروج کے دوران بھی جموں نے اپنی فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھی‘‘۔
ملزم کے متضاد بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے بی جے پی رہنما نے کہا کہ حملے کے پیچھے محرکات ابھی تک واضح نہیں ہیں۔انہوں نے کہا’’ہم نہیں جانتے کہ وہ کس قسم کی رنجش رکھتا تھا اور اس کے ذہن میں کیا چل رہا تھا، یا اس نے ایسا کیوں کیا۔ ایجنسیوں کو اس کی تحقیقات کرنی چاہیے اور اس سے پوچھ گچھ کرنی چاہیے‘‘۔
انہوں نے مزید کہا’’وہ خود کہہ رہا ہے کہ وہ گزشتہ۲۰برسوں سے ان کی تلاش میں تھا… یہ واضح طور پر تحقیقات کا معاملہ ہے اور ایجنسیوں کو اس کی مکمل جانچ کرنی چاہیے‘‘۔
کانگریس کے کئی رہنماؤں نے بھی فاروق عبداللہ سے ملاقات کر کے ان کی خیریت دریافت کی۔
ادھر ملزم‘ کمل سنگھ جموال ‘جو جموں کے پرانی منڈی علاقے کا رہائشی ہے، نے مبینہ طور پر پولیس کو بتایا کہ وہ گزشتہ۲۰برسوں سے فاروق عبداللہ کو نشانہ بنانے کے موقع کا انتظار کر رہا تھا۔
حکام کے مطابق پولیس نے اس شخص کمل سنگھ جموال کے پس منظر کی تفصیلی تحقیقات شروع کر دی ہیں جس نے مبینہ طور پر یہاں ایک شادی کی تقریب میں سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ کو قتل کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے بتایا کہ پولیس۶۳سالہ جموال کے پس منظر کا جائزہ لے رہی ہے، جس میں اس کی ذاتی، سماجی اور ممکنہ تنظیمی روابط شامل ہیں تاکہ فائرنگ کے واقعے کے محرکات کا پتہ چلایا جا سکے۔
نیشنل کانفرنس کے لیڈروں اور کارکنوں نے جمعرات کے روز یہاں پارٹی کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ پر ہوئے قاتلانہ حملے کے خلاف احتجاج درج کرکے اس واقعے میں مکمل تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا۔
احتجاجیوں نے ہاتھوں میں پارٹی کے جھنڈے اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے اور وہ جم کر نعرہ بازی کر رہے تھے۔
اس موقع پر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر اجے سدھوترا نے میڈیا کو بتایا’’بدقسمتی سے گذشتہ شام جو واقعہ پیش آیا اس میں ڈاکٹر فاروق عبداللہ صاحب پر حملہ ہوا جو ایک بڑی پارٹی کے لیڈر ہیں، شکر ہے کہ وہ اس حملے میں بچ گئے‘‘۔
این سی لیڈر نے کہا’’اس واقعے کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئے کہ اس کے پیچھے کیا سازش تھی اور اس کی بھی تحقیقات ہونی چاہئے کہ پولیس وہاں کیوں موجود نہیں تھی‘‘۔
ان کا کہنا تھا’’ہمارے ارکان پارلیمان صاحبان اور کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے بھی اس واقعے کی مذمت کی ہے جس پر ہم ان کے شکر گذار ہیں‘‘۔
سدھوترا نے کہا کہ اگر ایسا ہی سلسلہ جاری رہا تو سیاسی لیڈروں کا باہر نکلنا مشکل ہوجائے گا۔انہوں نے کہا کہ مستقبل میں اس قسم کے واقعے پیش نہ آئیں سرکار کو اس کے لئے ٹھوس اقدام کرنے چاہئے










