نئی دہلی، 9 مارچ (یو این آئی) وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے پیر کو راجیہ سبھا کو بتایا کہ ہندوستان کا ماننا ہے کہ اسرائیل، امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تنازع کے تناظر میں مغربی ایشیا میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ’مذاکرات اور سفارت کاری‘ کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔‘‘راجیہ سبھا میں ازخود بیان دیتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ حکومت خطے میں بگڑتی ہوئی صورتحال پر قریب سے نظر رکھے ہوئے ہے اور بڑی تعداد میں وہاں مقیم برادری کی حفاظت کے حوالے سے فکر مند ہے۔
جے شنکر نے کہا، ’’حکومتِ ہند کا یہ ماننا تھا اور اب بھی ہے کہ کشیدگی کو کم کرنے اور بنیادی مسائل کو حل کرنے کے لیے ’مذاکرات اور سفارت کاری‘ کا سہارا لینا چاہیے۔‘‘ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ’’یہ امر ناگزیر ہے کہ خطے کے تمام ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کیا جائے۔‘‘
جے شنکر نے ایوان کو مطلع کیا کہ ایران میں فضائی حملوں اور اس کے بعد کئی خلیجی ممالک میں ہونے والے حملوں کے بعد صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے یکم مارچ کو وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں کابینہ کی کمیٹی برائے سلامتی کی میٹنگ منعقد ہوئی ۔










