بیروت،9 مارچ (یو این آئی) مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران اسرائیلی زمینی فوج مشرقی لبنان کے علاقے میں داخل ہوگئی ہے، جہاں اسرائیلی فوج اور لبنانی افواج کے درمیان شدید جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق اسرائیلی فوج کے دستے ہیلی کاپٹرز کے ذریعے مشرقی لبنان کے سرحدی علاقوں میں اترے، جس کے فوری بعد وہاں پہلے سے موجود لبنانی افواج کے ساتھ ان کا آمنا سامنا ہوا اور دونوں اطراف سے بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔
عینی شاہدین اور مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس دوران مزاحمتی تحریک حزب اللہ نے اسرائیلی فوج کی پیش قدمی روکنے کے لیے کارروائی کی اور فائرنگ کے تبادلے کے دوران ایک اسرائیلی ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔
اسرائیلی فوج کے مشرقی لبنان میں داخلے کے بعد خطے میں صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی ہے اور بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ فی الحال اسرائیلی دفاعی حکام کی جانب سے ہیلی کاپٹر کی تباہی اور زمینی دستوں کے جانی نقصان کے حوالے سے کوئی باقاعدہ تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔
دوسری جانب امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ ایران کے ایٹمی مواد پر قبضہ کرنے کے لیے اسپیشل فورسز بھیجنے کا جائزہ لے رہا ہے۔
ایگزیوس ویب سائٹ کے مطابق امریکہ اور اسرائیل نے ایران میں موجود انتہائی افزودہ یورینیئم کے ذخیرے کو محفوظ بنانے کے لیے اسپیشل فورسز بھیجنے کے امکان پر بات چیت کی ہے۔
اس سے قبل امریکی میڈیا نے جمعےکو دعویٰ کیا تھا کی امریکی صدر مخصوص اہداف کے لیے فوجی ایران بھیجنے پر غور کر رہے ہیں۔
امریکی ویب سائٹ کے مطابق ٹرمپ کے اعلان کردہ جنگی مقاصد میں سے ایک یہ ہے کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے دیا جائے۔ اس مقصد کے لیے ایران کے پاس موجود تقریباً 450 کلو گرام 60 فیصد افزودہ یورینیئم ایک اہم عنصر سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اسے چند ہفتوں میں ہتھیاروں کے درجے تک افزودہ کیا جاسکتا ہے۔
اس مواد کو قبضے میں لینے کے لیے ممکنہ کارروائی میں امریکی یا اسرائیلی فوجیوں کو ایرانی سرزمین پر جانا پڑے گا اور جنگ کے دوران مضبوط زیر زمین تنصیبات تک پہنچنا ہوگا۔








