’بیک وقت انتخابات سے وقت اور وسائل کی بچت، حکمرانی بہتر ہوگی‘
(ایجنسیاں)
نئی دہلی؍۹مارچ
سابق کانگریس رہنما اور جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد نے پیر کے روز لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں کے بیک وقت انتخابات یعنی ’ون نیشن، ون الیکشن‘ کی تجویز کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام ملک کے مفاد میں ہوگا اور اس سے وقت کی بچت کے ساتھ حکمرانی اور ترقی کے عمل کو تقویت ملے گی۔
پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی کے روبرو پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آزاد نے کہا کہ وہ۱۹۸۳ سے اس خیال کے حامی رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت اندرا گاندھی کی حکومت کے دوران الیکشن کمیشن نے بیک وقت انتخابات کے امکان پر غور کرنے کی تجویز پیش کی تھی جس کی انہوں نے بھی حمایت کی تھی۔
آزاد نے کہا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ملک میں انتخابات کی تعداد میں بہت اضافہ ہوا ہے اور کانگریس کے جنرل سیکریٹری کی حیثیت سے مختلف ریاستوں کے انتخابات میں مصروف رہنے کے باعث انہیں اکثر مسلسل انتخابی عمل سے گزرنا پڑتا تھا۔
سابق کانگریسی لیڈر نے کہا، ’’اکثر ایسا ہوتا تھا کہ ایک انتخاب ختم ہوتا تو دوسرا شروع ہو جاتا تھا۔ انتخابی عمل تقریباً مسلسل جاری رہتا تھا جو بہت مشکل صورتحال ہوتی تھی۔‘‘
آزاد کے مطابق بیک وقت انتخابات سے ملک کو کئی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لاکھوں سرکاری ملازمین انتخابی عمل میں مصروف رہتے ہیں اور اگر ایک ساتھ انتخابات ہوں تو سرکاری دفاتر معمول کے مطابق کام کر سکیں گے، وقت کی بچت ہوگی اور ترقیاتی سرگرمیوں کو رفتار ملے گی۔
پارلیمانی مشترکہ کمیٹی کے چیئرمین اور بی جے پی رکن پارلیمنٹ پی پی چودھری نے بھی آزاد کے خیالات کو ’’ملکی مفاد میں‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر سبھی جماعتوں کو ایک ساتھ آنا چاہیے۔
کانگریسی لیڈر نے کہا کہ اگر لوک سبھا اور اسمبلی کے انتخابات ایک ہی وقت پر ایک مشترکہ ووٹر فہرست کے ساتھ منعقد ہوں تو نہ صرف وقت بلکہ سرکاری وسائل کی بھی بڑی بچت ہوگی۔
چودھری نے کہا کہ مختلف اوقات میں انتخابات ہونے کی صورت میں سرکاری ملازمین اور اساتذہ کو انتخابی ڈیوٹی پر تعینات کیا جاتا ہے، جس کے باعث تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں کیونکہ اساتذہ طلبہ کو پڑھانے کے لیے دستیاب نہیں رہتے۔
آزاد نے بتایا کہ آج کی میٹنگ خوشگوار ماحول میں منعقد ہوئی اور آزاد نے اپنے طویل سیاسی اور قانونی تجربے کی بنیاد پر کمیٹی کے ارکان کے کئی سوالات کے جوابات دیے۔انہوں نے کہا کہ آزاد نے بتایا کہ اپنے سیاسی کیریئر کے دوران وہ کئی سال تک مسلسل انتخابی مہم میں مصروف رہے کیونکہ ملک کے مختلف حصوں میں الگ الگ وقت پر انتخابات ہوتے رہے۔
واضح رہے کہ لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں کے بیک وقت انتخابات سے متعلق آئینی ترمیمی بل۲۰۲۴؍اور یونین ٹیریٹریز قوانین ترمیمی بل۲۰۲۴کے جائزے کے لیے پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ یہ کمیٹی دسمبر۲۰۲۴میں ان بلوں کے لوک سبھا میں پیش کیے جانے کے بعد قائم کی گئی تھی۔
یہ بل سابق صدر رام ناتھ کووند کی سربراہی میں قائم اعلیٰ سطحی کمیٹی کی رپورٹ کے بعد پیش کیے گئے تھے۔ حکومت ہند نے۲ستمبر۲۰۲۳کو اس کمیٹی کو تشکیل دیا تھا جس کا مقصد لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں کے بیک وقت انتخابات کے امکان اور اس کے اثرات کا جائزہ لینا تھا۔
کمیٹی نے اس سلسلے میں ماہرین، ماہر معاشیات، آئینی ماہرین اور لا کمیشن کے چیئرمین سمیت مختلف حلقوں سے مشاورت کی اور عوامی و سیاسی آراء بھی حاصل کیں۔ رپورٹ میں بیک وقت انتخابات کے ممکنہ فوائد، آئینی ترامیم کی ضرورت اور اس کے انتظامی و سیاسی اثرات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔










