ایران کی صورتحال پر سول سوسائٹی ارکان سے بات چیت/’غم اور سوگ کے اظہار کو پُرامن اور ذمہ دارانہ رکھا جائے‘
’حالیہ گرفتاریوں اور مقدمات کے اندراج کا معاملہ متعلقین سے اٹھایا جائیگا تاکہ نرم اور ہمدردانہ رویہ اختیار کیا جائے‘
(ندائے مشرق خبر)
سرینگر؍۴مارچ
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بدھ کے روز یہاں مذہبی رہنماؤں اور سول سوسائٹی کے ارکان سے ملاقات کی اور مغربی ایشیا کی موجودہ صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا، جو ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملے میں ہلاکت کے بعد پیدا ہوئی ہے۔
وزیر اعلیٰ کے دفتر (سی ایم او) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا ’’وزیر اعلیٰ نے آج سرینگر میں مذہبی رہنماؤں اور سول سوسائٹی کے ارکان سے مغربی ایشیا میں حالیہ پیش رفت کے تناظر میں بات چیت کی۔ شرکاء نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور ایران میں جانی نقصان پر تعزیت پیش کی‘‘۔
ملاقات کے دوران عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر میں امن و ہم آہنگی برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ عوام کے غم کو تسلیم کرتے ہوئے انہوں نے اپیل کی کہ ’’غم اور سوگ کے اظہار کو پُرامن اور ذمہ دارانہ رکھا جائے‘‘۔
اجلاس میں آیت اللہ علی خامنہ ای اور حالیہ فوجی حملوں میں جان گنوانے والے دیگر افراد کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔ سی ایم او نے مزید کہا ’’شرکاء نے امن کے لیے دعا کی اور خطے میں استحکام کی امید ظاہر کی۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے شرکاء کی جانب سے پیش کی گئی تشویشات اور تجاویز کو بغور سنا اور اپنی حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ امن و امان برقرار رکھا جائے گا اور بنیادی خدمات کی بلا رکاوٹ فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے یاد دلایا کہ وہ بھارت کی حکومت میں وزیر مملکت برائے خارجہ امور اور بعد ازاں وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے خصوصی ایلچی کے طور پر دو مرتبہ ایران کا دورہ کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور ایران کے تعلقات ہمیشہ خوشگوار رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مرحوم ایرانی سپریم لیڈر بھارت کے دوست اور کشمیری عوام کے سچے ہمدرد تھے۔
حالیہ گرفتاریوں اور مقدمات کے اندراج کے حوالے سے وزیر اعلیٰ نے شرکاء کو یقین دلایا کہ وہ اس معاملے کو اعلیٰ سطح پر اٹھائیں گے تاکہ نرم اور ہمدردانہ رویہ اختیار کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ ان کے لوگ، خصوصاً نوجوان، خود کو کسی خطرے میں ڈالیں۔
ایران میں پھنسے کشمیری طلبہ کے انخلا کے مسئلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ ان کی سلامتی اور محفوظ واپسی کے سلسلے میں وزارت خارجہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ خطے میں پروازیں منسوخ ہونے کے باعث طلبہ کو زمینی راستے سے واپسی کے لیے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔
عمرعبداللہ نے کہا کہ پھنسے ہوئے طلبہ کے والدین ان سے ملے تھے اور بتایا تھا کہ کچھ طلبہ جو انٹرن شپ کر رہے ہیں وہ واپس آنے سے ہچکچا رہے ہیں، جبکہ بعض طلبہ کو میڈیکل کالجوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر وہ واپس چلے گئے تو ان کا ایک تعلیمی سال ضائع ہو سکتا ہے اور انہیں دوبارہ پورا تعلیمی سیشن پڑھنا پڑے گا۔ وزیر اعلیٰ نے یقین دلایا کہ ایران میں متعلقہ کالج حکام سے سفارتی ذرائع کے ذریعے درخواست کی جائے گی کہ جو طلبہ بھارت واپس آنا چاہتے ہیں انہیں کسی بھی طرح کی تعلیمی سزا نہ دی جائے۔
اجلاس کے دوران سول سوسائٹی کے بعض ارکان نے ضروری اشیاء اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا مسئلہ بھی اٹھایا اور سپلائی چین کی بلا تعطل فراہمی اور صحت و بجلی جیسے اہم شعبوں کے مؤثر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
ضروری اشیاء کی فراہمی کے حوالے سے وزیر اعلیٰ نے ڈپٹی کمشنروں کو ہدایت دی کہ وہ ذخیرہ اور رسد کی صورتحال پر گہری نظر رکھیں تاکہ زائد قیمت وصول کرنے یا ذخیرہ اندوزی کو روکا جا سکے۔ انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ کسی بھی شکایت کو فوری طور پر انتظامیہ کے علم میں لائیں۔
شرکاء نے مغربی ایشیا کی تازہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا، جہاں حالیہ پیش رفت کے نتیجے میں کئی ممالک متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے اپنے پیاروں کو کھونے والوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا، بالخصوص ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے خاندان کے متعدد افراد کے ٹارگٹڈ قتل پر افسوس کا اظہار کیا۔
اجلاس کے دوران شرکاء نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ احتجاج کرنے والوں اور سوگواروں کے ساتھ ہمدردی اور سمجھداری کا مظاہرہ کیا جائے اور لوگوں کو اپنے غم کے اظہار کے لیے پُرامن اجتماعات کی اجازت دی جائے، جبکہ عوامی نظم و نسق کو بھی برقرار رکھا جائے۔ انہوں نے حالیہ دنوں میں حراست میں لیے گئے افراد کی رہائی اور ان نوجوانوں کے خلاف درج ایف آئی آرز کو منسوخ کرنے کا بھی مطالبہ کیا جو اپنے روحانی رہنما کی وفات پر سوگ منانے کے لیے سڑکوں پر نکلے تھے۔
اس دوران جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے رکن آغا سید منتظر مہدی نے بدھ کے روز اس بات کا مطالبہ کیا کہ وادی بھر میں نکالے گئے ماتمی جلوسوں کے دوران حراست میں لیے گئے نوجوانوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور سوگواروں کے خلاف درج تمام ایف آئی آر واپس لی جائیں۔
یہ مطالبہ انہوں نے اُس اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران کیا جو جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی صدارت میں موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے منعقد ہوا۔ اجلاس میں آغا منتظر مہدی نے بطور نمائندہ جموں و کشمیر انجمنِ شرعی شیعان وادی کے مختلف اضلاع میں منعقدہ عزاداری پروگراموں کی تفصیلی رپورٹ پیش کی۔
مہدی نے کہا کہ ماتمی جلوس، مجالس اور دیگر سوگوارانہ اجتماعات مکمل طور پر مذہبی نوعیت کے تھے، اس لیے انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اقدامات کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے اجتماعات صدیوں پرانی مذہبی روایت کا حصہ ہیں، جنہیں قانون و امن کے دائرے میں رکھتے ہوئے احترام کے ساتھ نمٹایا جانا چاہیے۔
ممبر اسمبلی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کی گرفتاریوں اور مقدمات کے اندراج سے نہ صرف عوامی بے چینی میں اضافہ ہوتا ہے، بلکہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور عوامی اعتماد کو بھی ٹھیس پہنچتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ زمینی صورتحال کو مدِنظر رکھتے ہوئے ایسے اقدامات کرے جو حالات کو آسان بنانے میں مددگار ثابت ہوں، نہ کہ انہیں پیچیدہ کریں۔
اجلاس میں انہوں نے واضح کیا کہ سوگواروں کے خلاف درج مقدمات اور حراست میں لیے گئے افراد کی فوری رہائی ہی وہ راستہ ہے جو خطے میں اعتماد کی بحالی اور پرامن مذہبی سرگرمیوں کی ضمانت فراہم کرسکتا ہے۔
مہدی نے کہا کہ اگر انتظامیہ نرم رویّہ اختیار کرے تو وادی میں حالات مزید بہتر ہوسکتے ہیں اور مذہبی پروگرام بغیر کسی رکاوٹ کے پرامن ماحول میں جاری رہیں گے۔










