بدھ, جولائی 22, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

جنگل راج کی طرف لوٹتی دنیا:

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-03-01
in اداریہ
A A
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

 

جب طاقت مکالمے پر حاوی ہو جائے

جنگوں کے بارے میں ایک پرانا مقولہ ہے کہ ان کا انجام بالآخر مذاکرات کی میز پر ہوتا ہے، میدانِ جنگ میں نہیں۔ مگر موجودہ عالمی منظرنامہ اس مقولے کا مذاق اڑاتا دکھائی دیتا ہے۔ ہم خود کو اکیسویں صدی کی ’مہذب دنیا‘کہتے ہیں، انسانی حقوق، بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے منشور کی بات کرتے ہیں، لیکن جب مفادات ٹکراتے ہیں تو مکالمہ پسِ پشت چلا جاتا ہے اور بندوق بولنے لگتی ہے۔ طاقتور اپنی مرضی مسلط کرتا ہے، اور پھر اسی کو انصاف کا نام دے دیتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ عالمی سیاست میں اصول نہیں، صرف قوت فیصلہ کن ہے۔

متعلقہ

۲۰۱۴ سے کوئی سبق کیوں نہیں سیکھا گیا؟

سمارٹ سٹی جو بالکل بھی سمارٹ نہیں ہے

روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کو چار برس گزر چکے ہیں۔ یہ تنازع محض دو ممالک کی سرحدی کشمکش نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے مفادات کا تصادم ہے۔ روس ایک بڑی فوجی طاقت ہے، ایٹمی ہتھیار رکھتا ہے اور اپنی سلامتی کے نام پر یوکرین کی خودمختاری کو چیلنج کرتا رہا ہے۔ یوکرین نے مغربی دنیا کی حمایت حاصل کی، مگر میدانِ جنگ میں اسے بے پناہ جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ لاکھوں افراد بے گھر ہوئے، شہر ملبے کا ڈھیر بن گئے اور معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس جنگ کا کوئی فوجی حل ممکن ہے؟ چار سال کی خونریزی نے ثابت کیا کہ بندوق سے سرحدیں شاید بدلی جا سکتی ہیں، مگر دلوں میں نفرت اور عدم استحکام کی جو دیوار کھڑی ہو جاتی ہے، وہ نسلوں تک باقی رہتی ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اس سے مختلف نہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کوئی نئی بات نہیں، لیکن حالیہ برسوں میں اس نے ایک خطرناک رخ اختیار کیا۔ جب مذاکرات کی بات ہو رہی تھی، تب بھی فوجی کارروائیوں کا سایہ منڈلا رہا تھا۔ امریکہ اور اسرائیل کے اتحاد نے خطے میں طاقت کے توازن کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ تہران پر حملوں نے یہ پیغام دیا کہ مذاکرات کا عمل کتنا نازک اور غیر یقینی ہے۔ ایران اپنی علاقائی حیثیت اور خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتا، جبکہ امریکہ اور اسرائیل اسے اپنی سلامتی کیلئے خطرہ قرار دیتے ہیں۔ اس کشمکش میں سب سے زیادہ متاثر عام شہری ہوتے ہیں، جو نہ جوہری پروگرام کے معمار ہیں اور نہ ہی جغرافیائی سیاست کے کھلاڑی۔

اسی طرح جنوبی ایشیا میں پاکستان اور افغانستان کے تعلقات ایک بار پھر تناؤ کا شکار ہیں۔ سرحد پار حملے، میزائل کارروائیاں اور ایک دوسرے پر الزامات کا سلسلہ خطے کے امن کیلئے نیک شگون نہیں۔ دونوں ممالک دہشت گردی اور عدم استحکام کا شکار رہے ہیں، مگر مسائل کے حل کیلئے عسکری راستہ اختیار کرنا آگ پر تیل ڈالنے کے مترادف ہے۔ افغانستان دہائیوں کی جنگ کے بعد سنبھلنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ پاکستان خود داخلی اور خارجی چیلنجز سے نبرد آزما ہے۔ ایسے میں طاقت کا استعمال وقتی برتری تو دے سکتا ہے، لیکن پائیدار امن کی ضمانت نہیں بن سکتا۔

یہ تمام مثالیں اس بڑے المیے کی نشاندہی کرتی ہیں کہ عالمی نظام میں طاقت کا عدم توازن کس طرح انصاف کی تعریف بدل دیتا ہے۔ جس کے پاس فوجی قوت زیادہ ہے، وہ اپنی کارروائی کو’دفاع‘ یا’قومی سلامتی‘ کا نام دے دیتا ہے، جبکہ کمزور ملک کے پاس احتجاج کے سوا کچھ نہیں بچتا۔ بین الاقوامی قوانین اور ادارے اکثر بے بس دکھائی دیتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی قراردادیں فائلوں میں دب جاتی ہیں، سلامتی کونسل ویٹو پاور کی سیاست میں الجھ جاتی ہے، اور انسانی حقوق کے علمبردار بھی مفادات کے ترازو میں انصاف تولتے ہیں۔

یہ کہنا آسان ہے کہ دنیا’جنگل راج‘ کی طرف لوٹ رہی ہے، جہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا اصول چلتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس صورتحال کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا صرف بڑی طاقتیں؟ یا وہ عالمی نظام بھی جو طاقتور کو جواب دہ بنانے میں ناکام رہا؟ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ عالمی ڈھانچہ دوسری عالمی جنگ کے بعد تشکیل دیا گیا تھا، جب طاقت کا توازن مختلف تھا۔ آج دنیا کثیر القطبی ہو رہی ہے، نئی طاقتیں ابھر رہی ہیں، مگر قوانین اور ادارے اسی پرانے سانچے میں ڈھلے ہوئے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ جب بھی کوئی تنازع پیدا ہوتا ہے، قانون کمزور اور قوت غالب دکھائی دیتی ہے۔

جنگ کا ایک پہلو اور بھی ہے جسے اکثر نظرانداز کیا جاتا ہے: معیشت۔ جدید جنگیں صرف گولیاں نہیں چلاتیں، وہ معیشتوں کو مفلوج کر دیتی ہیں۔ روس-یوکرین جنگ نے عالمی توانائی اور خوراک کے بحران کو جنم دیا۔ ایران پر پابندیوں نے خطے کی معیشت کو متاثر کیا۔ جنوبی ایشیا میں کشیدگی سرمایہ کاری اور ترقی کی رفتار کو سست کر دیتی ہے۔ یوں جنگ صرف محاذ پر نہیں لڑی جاتی، اس کے اثرات عام آدمی کی روزمرہ زندگی تک پہنچتے ہیں۔ مہنگائی بڑھتی ہے، روزگار کے مواقع کم ہوتے ہیں اور غربت میں اضافہ ہوتا ہے۔

اس تناظر میں مکالمے کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بالآخر فریقین کو مذاکرات کی میز پر آنا ہی پڑتا ہے۔ ویتنام، افغانستان، بوسنیا—ہر تنازع کا اختتام بات چیت پر ہوا، خواہ وہ کتنا ہی دیر سے کیوں نہ ہو۔ اگر انجام مذاکرات ہی ہے تو پھر آغاز بھی وہیں سے کیوں نہیں کیا جاتا؟ شاید اس لیے کہ طاقت کا مظاہرہ سیاسی قیادت کو فوری مقبولیت دیتا ہے، جبکہ مذاکرات صبر، برداشت اور لچک کا تقاضا کرتے ہیں۔ جنگ میں ’فتح‘ کا بیانیہ بنانا آسان ہے، مگر امن کی تعمیر خاموش اور طویل عمل ہے۔

موجودہ عالمی صورتحال ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ کیا ہم واقعی مہذب دنیا میں رہ رہے ہیں، یا محض تہذیب کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہیں؟ اگر عالمی برادری طاقت کے استعمال کو ہی مسائل کا حل سمجھے گی تو عدم استحکام بڑھتا جائے گا۔ ایٹمی ہتھیاروں کی موجودگی میں کسی بڑی جنگ کا تصور ہی انسانیت کیلئے تباہ کن ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ عالمی اداروں کو مضبوط بنایا جائے، طاقتور ممالک کو جواب دہ ٹھہرایا جائے اور تنازعات کے حل کیلئے سفارتی راستوں کو ترجیح دی جائے۔

اداریہ کا مقصد کسی ایک ملک کو موردِ الزام ٹھہرانا نہیں بلکہ اس عمومی رجحان کی نشاندہی کرنا ہے جو خطرناک حد تک بڑھ رہا ہے۔ طاقت کا نشہ وقتی ہو سکتا ہے، مگر اس کے اثرات دیرپا ہوتے ہیں۔ اگر دنیا نے مکالمے، انصاف اور برابری کے اصولوں کو سنجیدگی سے نہ لیا تو ’جنگل راج‘ کا استعارہ محض محاورہ نہیں رہے گا بلکہ حقیقت بن جائے گا۔

وقت کا تقاضا ہے کہ عالمی قیادت اپنی ترجیحات پر نظرِ ثانی کرے۔ طاقت کے استعمال کو آخری حربہ بنایا جائے، پہلا نہیں۔ ورنہ تاریخ ایک بار پھر گواہ ہوگی کہ انسان نے اپنی عقل اور تہذیب کے باوجود وہی راستہ چنا جو تباہی کی طرف لے جاتا ہے۔ جنگیں شاید وقتی فیصلے مسلط کر دیں، مگر پائیدار امن صرف مکالمے، انصاف اور باہمی احترام سے ہی ممکن ہے۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

دس روپے نوٹ کی بھیک!

Next Post

ہندوستان کی نظریں ناک آؤٹ کوارٹر فائنل پر2

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

۲۰۱۴ سے کوئی سبق کیوں نہیں سیکھا گیا؟

2026-07-22
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

سمارٹ سٹی جو بالکل بھی سمارٹ نہیں ہے

2026-07-21
کشمیر یونیورسٹی کانووکیشن سے نائب صدر کا خطاب
اداریہ

کچرے کے ڈھیر پر کھڑی سیاحت

2026-07-19
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

سرینگر میں آبی ٹرانسپورٹ:

2026-07-18
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

پاکستان کے زیرِ قبضہ جموںکشمیر میں جبر

2026-07-16
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

لداخ میں تازہ پیش رفت کا پیغام

2026-07-15
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

ریاستی درجے کی بحالی:

2026-07-12
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

پائیدار سیاحت :

2026-07-11
Next Post
فائنل سیٹ کنفرم کرنے اترے گی ٹیم انڈیا

ہندوستان کی نظریں ناک آؤٹ کوارٹر فائنل پر2

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.