(ویب ڈسیک )
سرینگر؍۲۸فروری
ایران کی اعلیٰ قیادت کو ایک بڑے دھچکے کے طور پر امریکی اور اسرائیلی مشترکہ حملوں میں ایران کے وزیر دفاع امیر ناصر زادہ اور اسلامی انقلابی گارڈ کور کے کمانڈر محمد پاکپور کے ہلاک ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ اطلاع اسرائیلی فوجی آپریشنز سے واقف ذرائع اور ایک علاقائی ذریعے نے دی ہے۔
امیر ناصر زادہ وزیر دفاع کا منصب سنبھالنے سے قبل ایرانی مسلح افواج کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف رہ چکے تھے۔ انہوں نے اپنے فوجی کیریئر کا آغاز بطور فائٹر پائلٹ کیا تھا۔
محمد پاکپور نے۲۰۲۵ میں آئی آر جی سی کی قیادت سنبھالی تھی، جب سابق کمانڈر حسین سلامی اسرائیلی حملوں میں مارے گئے تھے۔
دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی حملے میں ایران کے جنوب میں واقع ایک گرلز پرائمری اسکول کو نشانہ بنایا گیا، جس میں درجنوں طالبات ہلاک ہوئیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ’’یہ عمارت ایک گرلز پرائمری اسکول تھی جسے دن دہاڑے اس وقت بمباری کا نشانہ بنایا گیا جب وہاں معصوم بچیاں موجود تھیں۔ ان جرائم کا جواب دیا جائے گا‘‘۔
عراقچی نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی۹؍ اکتوبر۲۰۱۲کی ایک پرانی پوسٹ کا حوالہ بھی دیا، جس میں انہوں نے اس وقت کے صدر براک اوباما پر ایران پر حملے کے حوالے سے تنقید کی تھی۔
اسرائیل ڈیفنس فورسز نے ایک بیان میں کہا کہ’آپریشن روئرنگ لائن‘ کے تحت اسرائیلی اور امریکی افواج نے مشترکہ کارروائی شروع کی ہے، جس کا مقصد ایرانی نظام کو کمزور کرنا اور اسرائیل کے خلاف مبینہ وجودی خطرات کو ختم کرنا ہے۔
بیان میں الزام لگایا گیا کہ ایران اسرائیل کی تباہی کے منصوبے سے دستبردار نہیں ہوا اور وہ سرحدوں پر موجود اپنے اتحادی گروہوں کی مالی، عسکری اور تربیتی معاونت جاری رکھے ہوئے ہے۔
ادھر خطے کے کئی ممالک نے کشیدگی کم کرنے اور امن کی اپیل کی ہے۔
ایران نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل اور خلیجی ممالک میں موجود امریکی اثاثوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ تہران سمیت ملک کے مختلف حصوں میں متعدد دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔










