رانجی ٹرافی ائنل میں جموں و کشمیر نے وہ کارنامہ انجام دیا جس کا برسوں سے انتظار تھا۔جموں و کشمیر کی کرکٹ ٹیم نے پہلی بار ٹورنامنٹ اپنے نام کر کے نہ صرف تاریخ رقم کی بلکہ ریاست کی کرکٹ روایت میں ایک سنہرا باب بھی جوڑ دیا۔کرناٹکا جیسی مضبوط اور تجربہ کار ٹیم کو پہلی اننگز کی برتری کی بنیاد پر شکست دینا اس کامیابی کی وقعت کو مزید بڑھا دیتا ہے۔
یہ کامیابی اس لحاظ سے بھی غیر معمولی ہے کہ جموں و کشمیر کی ٹیم نے ایک طویل عرصے تک محدود وسائل اور چیلنجز کے باوجود اپنی شناخت بنائی۔ وادی اور جموں کے نوجوان کرکٹرز اکثر مشکل حالات میں تربیت پاتے رہے ہیں۔ انفراسٹرکچر کی کمی، موسمی رکاوٹیں اور مواقع کی محدودیت کے باوجود اس ٹیم نے ثابت کیا کہ صلاحیت کسی جغرافیے کی محتاج نہیں ہوتی۔ آج کی فتح ان تمام نوجوانوں کے لیے امید کا پیغام ہے جو خواب دیکھتے ہیں مگر وسائل کی کمی سے گھبرا جاتے ہیں۔
کرکٹ برصغیر میں محض کھیل نہیں، ایک جذبہ ہے۔ ایسے میں جب جموں و کشمیر جیسا خطہ، جو اکثر سیاسی اور سیکورٹی خبروں کی زد میں رہتا ہے، کھیل کے میدان میں مثبت شناخت حاصل کرے تو اس کی معنویت دوچند ہو جاتی ہے۔ یہ فتح ایک نئے بیانیے کو جنم دیتی ہے—ایسا بیانیہ جو نوجوانوں کو بیٹ اور گیند کے ذریعے اپنی شناخت بنانے کی ترغیب دیتا ہے، نہ کہ مایوسی یا انتشار کے راستے پر چلنے کی۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی ایک ٹائٹل سے تاریخ مکمل نہیں ہوتی، مگر تاریخ کا رخ ضرور بدل جاتا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کامیابی کو ایک پائیدار نظام میں ڈھالا جائے۔ اکیڈمیوں کو مضبوط کیا جائے، گراس روٹ سطح پر سرمایہ کاری کی جائے اور باصلاحیت کھلاڑیوں کو مسلسل مواقع فراہم کیے جائیں۔ اگر اس فتح کو ایک سنگ میل سمجھ کر آگے بڑھا جائے تو جموں و کشمیر مستقبل میں قومی ٹیم کو بھی نمایاں کھلاڑی دے سکتا ہے۔
آج جب رانجی ٹرافی کا تاج جموں و کشمیر کے سر سجا ہے تو یہ صرف ایک کپ نہیں بلکہ اعتماد کی علامت ہے۔ یہ اس یقین کی علامت ہے کہ محنت اور اتحاد سے ناممکن کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ اس تاریخی جیت نے ثابت کیا کہ جموں و کشمیر کی کرکٹ محض شرکت کے لیے نہیں کھیلتی، بلکہ جیتنے کے لیے میدان میں اترتی ہے۔
یہ لمحہ تاریخ میں محفوظ ہو چکا ہے۔ آنے والی نسلیں اسے یاد رکھیں گی کہ ۲۰۲۵۔۲۶ کا سیزن وہ تھا جب جموں و کشمیر نے پہلی بار ملک کے سب سے بڑے فرسٹ کلاس اعزاز کو اپنے نام کیااور دنیا کو بتایا کہ اس خطے کی پہچان صرف اس کی وادیاں نہیں، اس کے فاتح بیٹسمین اور تیز رفتار گیند باز بھی ہیں۔










