ویب ڈیسک
سرینگر؍۲۶فروری//
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان عمان کی ثالثی میں ہونے والے تیسرے دور کے مذاکرات سے قبل کہا ہے کہ ایران ہتھیار بنانے کا خواہشمند نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’جب کسی معاشرے کا مذہبی رہنما اعلان کرتا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیار کے پیچھے نہیں جائیں گے، تو یہ موقف اعتقادی اور فقہی بنیاد پر ہے، نہ کہ کوئی سیاسی حکمتِ عملی جو بدل سکتی ہو۔‘
ان کے مطابق ’ایک سیاستدان مصلحت کے مطابق کچھ کہہ سکتا ہے، لیکن مذہبی رہنما اپنے عقیدے اور شرعی حکم کے خلاف بات نہیں کر سکتا۔‘
انھوں نے امریکی حکام کے حالیہ بیانات پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’دشمن کہتے ہیں کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار کے پیچھے نہیں جانا چاہیے، یہ وہی بات ہے جو ہم بارہا خود کہہ چکے ہیں کہ ہم ایٹمی ہتھیار کے پیچھے نہیں ہیں۔‘
دوسری جانب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کل کانگریس میں اپنی سالانہ تقریر میں ایران کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’انھوں نے اپنے شیطانی ایٹمی پروگرام میں دوبارہ اپنی بلند پروازیاں شروع کر دی ہیں۔‘
’ہم ان سے مذاکرات کر رہے ہیں اور وہ معاہدہ چاہتے ہیں، لیکن ہم نے یہ الفاظ نہیں سنے کہ وہ کہیں ’ہم ایٹمی ہتھیار نہیں رکھیں گے‘۔‘
اس دوران ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ آج جنیوا میں امریکی فریق کو پیش کی گئی تجویز ’امریکہ کے ان تمام بہانوں کو، جو ایران کے پُرامن جوہری پروگرام سے متعلق ہیں، دور کر دیے گی۔‘
ارنا کے مطابق اگر وائٹ ہاؤس اس تجویز کو قبول نہ کرے تو یہ ابتدائی بدگمانی کی تصدیق ہوگی کہ امریکہ سفارت کاری میں سنجیدہ نہیں ہے اور ان کی سفارت کاری کی خواہش محض ایک ’نمائش‘ ہے۔
تاحال یہ واضح نہیں ہی کہ ایران کی جانب سے کیا پیشکش کی گئی ہے تاہم اس سے پہلے عمان کی وزارتِ خارجہ نے اعلان کیا تھا کہ بدر بوسعیدی، عمان کے وزیرِ خارجہ، آج ایران کے نقطہ نظر کو امریکی فریق تک پہنچائیں گے۔
عباس عراقچی، ایران کے وزیرِ خارجہ، گذشتہ شب جنیوا پہنچے تاکہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان تیسرے دور کے مذاکرات میں شرکت کریں اور انھوں نے عمانی وزیرِ خارجہ سے ملاقات بھی کی۔
اسی دوران امریکہ کے وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے زور دیا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات اس کے جوہری پروگرام سے آگے کے مسائل پر بھی ہونے چاہیں۔
یاد رہے کہ امریکی اور ایرانی حکام جمعرات کو جنیوا میں بالواسطہ مذاکرات کے تیسرے دور کے لیے ملاقات کررہے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دے رکھی ہے کہ اگر جوہری معاہدہ نہ ہوا تو وہ ایران پر حملہ کریں گے۔









