سرینگر: وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو کہا کہ یونیورسٹی آف کشمیر کے فارغ التحصیل طلبہ محض ڈگری ہولڈرز نہیں بلکہ ’’نئے جموں و کشمیر کے معمار‘‘ ہیں، اور اُن پر زور دیا کہ وہ مستقبل کے خود تعین کنندہ بنیں، اس کے خود بخود سامنے آنے کا انتظار نہ کریں۔
یونیورسٹی آف کشمیر کے۲۱ویں کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے نسیم باغ کے تاریخی کیمپس کو ’’دانش کا آستانہ‘‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ اجتماع نسلی انتقال کا ایک اہم لمحہ ہے۔ انہوں نے کہا، ’’آپ اُن لوگوں کے جانشین ہیں جنہوں نے سخت ترین حالات میں علم کی شمع روشن رکھی۔ آپ ہی مشعل بردار ہیں‘‘۔
اس موقع کو ’’یومِ جانشینی‘‘ قرار دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے طلبہ کو ترغیب دی کہ وہ جموں و کشمیر کے مستقبل کی تشکیل میں اپنی شناخت اور ذمہ داری پر غور کریں۔ کشمیری صوفی شاعرہ للیشوری کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ باطن کی تعلیم رسمی تعلیم کے اختتام کے بعد شروع ہوتی ہے، اور فارغ التحصیل طلبہ سے کہا کہ وہ۲۰۲۶کی کہانی میں اپنے کردار کا تعین کریں۔
ایک جذباتی اپیل میں عمر عبداللہ نے والدین اور خاندانوں کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ حضرت محمد ؐکا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے طلبہ کو یاد دلایا، ’’تمہاری جنت تمہاری ماں کے قدموں تلے ہے،‘‘ اور کہا کہ دی جانے والی ہر ڈگری اُن والدین کی بھی ہے جنہوں نے مشکلات کے باوجود اپنے بچوں کا ساتھ دیا۔
وزیر اعلیٰ نے یونیورسٹی کے اساتذہ کو نصاب سے آگے بڑھ کر طلبہ کی رہنمائی کرنے پر سراہا اور کہا کہ انہوں نے معلومات کے ہجوم کے دور میں طلبہ میں تمیز پیدا کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر کی حکومت اور عوام مستقبل کے قائدین کی تشکیل پر ان کے شکر گزار ہیں۔
حال ہی میں پیش کیے گئے۲۰۲۶۔۲۰۲۷ کے بجٹ کا حوالہ دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے اسے ’’مالیاتی قطب نما‘‘ قرار دیا جو جموں و کشمیر کو معاشی فعالیت اور شراکتی طرزِ حکمرانی کی جانب لے جانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’یہ محض اعداد و شمار کی کتاب نہیں بلکہ ایک ترقی پسند اور جدید خطے کی تعمیر کے عزم کا اعلان ہے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے اس بات کو نمایاں کیا کہ تقریباً۶۰ ہزار ڈگریوں اور تمغوں میں سے۶۰فیصد سے زائد خواتین نے حاصل کیے، جسے انہوں نے ایک انقلابی سنگِ میل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ خواتین کی فلاح سے آگے بڑھ کر خواتین کی قیادت میں ترقی کی جانب منتقل ہو چکی ہے، اور لاکھوں خواتین کو خود امدادی گروپوں میں منظم کرنے اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کا حوالہ دیا۔
سیاحت کے حوالے سے عمر عبداللہ نے کہا کہ اگرچہ گلمرگ اور پہلگام بدستور اہم مقامات ہیں، تاہم حکومت کی توجہ اب کیرن، گریز اور تیتوال جیسے سرحدی علاقوں تک وسیع کی جا رہی ہے۔ انہوں نے پائیدار ترقی پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا کہ گلیشیئرز کے سکڑنے اور بدلتے موسمِ سرما جیسے ماحولیاتی چیلنجز ذمہ دارانہ منصوبہ بندی کے متقاضی ہیں۔
زراعت اور ٹیکنالوجی پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے باغبانی میں ’’ہائی ڈینسٹی انقلاب‘‘ کا ذکر کیا اور کہا کہ آئی ٹی حل جیسے حقیقی وقت میں کیڑوں کی نشاندہی اور ٹریسیبلٹی سسٹمز کو اپنانا ہوگا تاکہ کشمیری پیداوار کو عالمی منڈیوں سے جوڑا جا سکے۔ انہوں نے اسے ’’زعفران اور سلیکون‘‘ کے امتزاج کا وژن قرار دیا۔
وزیر اعلیٰ نے ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کی صلاحیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی آب و ہوا اسے گرین ڈیٹا سینٹرز اور علم پر مبنی صنعتوں کے لیے موزوں بناتی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے نوجوان محض ملازمت کے متلاشی نہیں بلکہ ملازمت فراہم کرنے والے بنیں،‘‘ اور مزید کہا کہ صنعتی پالیسی اصلاحات کو تحقیق اور جدت کی حمایت کے لیے ہم آہنگ کیا جا رہا ہے۔
ذہنی صحت کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے نوجوانوں کو درپیش دباؤ کو تسلیم کیا اور نفسیات اور سماجی خدمت کے شعبوں سے فارغ التحصیل طلبہ پر زور دیا کہ وہ جذباتی بہبود سے متعلق گفتگو کو معمول بنائیں۔ انہوں نے کہا، ’’کامیابی صرف آمدنی کا نام نہیں؛ یہ پُرسکون ذہن اور مضبوط دل کا نام بھی ہے۔‘‘
شفاف حکمرانی کے عزم کو دہراتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے تقرریوں اور مواقع میں میرٹ کی بالادستی پر زور دیا۔ انہوں نے کہا، ’’چاہے آپ کسی مزدور کے بیٹے ہوں یا کسی وزیر کے، آپ کی اہلیت ہی آپ کی واحد کرنسی ہونی چاہیے۔‘‘
اپنے خطاب کے اختتام پر عمر عبداللہ نے طلبہ سے کہا کہ وہ جہاں بھی جائیں کشمیر کی روح کو ساتھ لے کر جائیں۔ انہوں نے کہا، ’’دنیا میں کہیں بھی جائیں، مگر اپنے دل میں ان چناروں کی خوشبو بسائے رکھیں۔ آج آپ وہ روشنی ہیں جو جموں و کشمیر کو آگے لے جائے گی۔‘‘










