رادھا کرشنن کی آمدپر سرینگر اور اس کے گر و نواح میں سکیورٹی کے سخت انتظامات ‘حساس علاقوں میں فورسز کی تلاشی مہم
سرینگر: نائب صدر سی پی رادھا کرشنن بدھ کے روز دو روزہ دورے پر سرینگر پہنچ گئے ۔
بزنس بوئنگ جیٹ کے ذریعے نائب صدر بدھ کی شام سرینگر ہوائی اڈے پر پہنچے۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا، وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، چیف سیکریٹری اٹل ڈلو، سرینگر میں قائم فوج کی۱۵ویںکور کے جنرل آفیسر کمانڈنگ (جی او سی) اور جموں و کشمیر کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) نے ہوائی اڈے پر نائب صدر کا استقبال کیا۔
بعد ازاں وہ سخت سکیورٹی میں قافلے کی صورت میں چشمہ شاہی علاقے میں واقع لوک نواس روانہ ہوئے، جہاں وہ اپنے دورے کے دوران قیام کریں گے۔
عہدہ سنبھالنے کے بعد نائب صدر رادھا کرشنن کا یہ جموں و کشمیر کا پہلا دورہ ہے۔
وہ جمعرات کو کشمیر یونیورسٹی کے حضرت بل کیمپس میں منعقد ہونے والی۲۱ویں کانووکیشن تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کریں گے۔لیفٹیننٹ گورنر کشمیر یونیورسٹی کے چانسلر جبکہ وزیر اعلیٰ پرو چانسلر ہیں۔
نائب صدرِ جمہوریہ کی آمد سے قبل مشترکہ فورسز نے بدھ کی صبح شہر کے متعدد حساس علاقوں میں بڑے پیمانے پر تلاشی کارروائیاں انجام دیں۔ یہ کارروائیاں بطورِ احتیاط اور سکیورٹی کی مجموعی فضا کو مستحکم رکھنے کے لیے کی گئیں۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ پولیس اور پیرا ملٹری فورسز کی مشترکہ ٹیموں نے آبی گزرکے علاقوں میں ہاؤس بوٹس اور رہائشی ڈھانچوں کی باریک بینی سے تلاشی لی۔ اس دوران علاقے کی مکمل ڈومینیشن، راستوں کی صفائی، مشکوک افراد کی شناخت اور گلی کوچوں میں اچانک چیکنگ بھی عمل میں لائی گئی۔
ذرائع کے مطابق نائب صدر کل جمعرات کو کشمیر یونیورسٹی میں منعقدہ کانووکیشن میں شرکت کے لیے سری نگر پہنچ رہے ہیں۔ اس سلسلے میں انتظامیہ نے شہر بھر، بالخصوص ڈل جھیل اور اس سے متصل مقامات پر سیکورٹی حصار مزید سخت کر دیا ہے۔
عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ڈل کے اطراف میں واقع ہاؤس بوٹس، گلی کوچوں اور جھیل کے ارد گرد علاقوں پر خصوصی نگرانی رکھی گئی ہے، جبکہ اہم پوائنٹس پر تعینات سی آر پی ایف اہلکاروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ شہر میں نئے چیکنگ پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں جہاں گاڑیوں کی تلاشی، دستاویزی جانچ اور فریسکنگ کا عمل شدت اختیار کر گیا ہے۔
ادھر کشمیر یونیورسٹی کی طرف جانے والے تمام اہم راستوں حضرت بل، نشاط، شالیمار اور فور شو روڈ—پر بھی سیکورٹی فورسز نے ایک محفوظ کوریڈور قائم کیا ہے۔ متعدد مقامات پر ٹریفک کی رفتار کم کی گئی ہے تاکہ باریکی سے نگرانی کی جاسکے۔ ڈرونز، سی سی ٹی وی نیٹ ورک اور اسنیفر ڈاگز کی مدد سے بھی علاقے کی نگرانی جاری ہے۔
ایک سینئر پولیس افسر نے یو این آئی کو بتایا:’نائب صدر کی آمد ایک اہم سرکاری پروگرام ہے، لہٰذا شہریوں کے تحفظ اور پُرامن ماحول کے لیے تمام احتیاطی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔‘
شہریوں نے بھی بڑے پیمانے کی چیکنگ اور تلاشی کے باوجود تعاون کا یقین دلایا ہے۔ ڈل جھیل پر ایک ہاؤس بوٹ مالک نے کہا:’ایسے دوروں کے وقت سیکیورٹی بڑھانا ضروری ہوتا ہے۔ ہمیں بس یہ امید ہے کہ چیکنگ کے باوجود روزمرہ کی سرگرمیوں میں غیر ضروری رکاوٹ نہ آئے۔‘
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات صرف نائب صدر کے دورے تک محدود رہیں گے، اور صورتِ حال معمول پر آتے ہی تمام اضافی بندوبست ہٹا دیے جائیں گے۔
دریں اثنا ایک سرکاری ترجمان نے بتایا کہ نائب صدر جمہوریہ جمعرات کو کشمیر یونیورسٹی کے سالانہ جلسہ تقسیم اسناد میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کریں گے۔
حکام نے بتایا کہ حضرت بل میں واقع یونیورسٹی کیمپس کے گرد و پیش نگرانی میں اضافہ کیا گیا ہے اور تقریب کے پر امن انعقاد کو یقینی بنانے کے لئے کثیر سطحی سیکورٹی نظام قائم کیا گیا ہے۔
سری نگر کے حساس علاقوں میں اضافی سیکورٹی فورسز کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے تاکہ کڑی نگرانی کو برقرار رکھا جاسکے۔حکام کے مطابق شہری اور دیہی علاقوں میں بھی سیکورٹی کو مزید سخت کر دیا گیا ہے جبکہ اہم داخلی اور خارجی راستوں پر چوبیس گھنٹے گشت اور نگرانی میں اضافہ کیا گیا ہے۔
گذشتہ دنوں کے دوران حفاظتی اقدام کے طور پر سری نگر کے بعض علاقوں میں تلاشی کارروائیاں بھی انجام دی گئیں۔حکام کا کہنا ہے کہ تقریب کے لئے تمام ضروری انتظامات مکمل کئے گئے ہیں۔
ٹریفک پولیس نے بھی وی وی آئی پی دورے کے پیش نظر۲۶فروری کو شہر کے کئی اہم راستوں پر عارضی پابندیوں اور متبادل راستوں کا اعلان کیا ہے۔کشمیر یونیورسٹی میں منعقد ہونے والے ۲۱ویں سالانہ جلسہ تقیسم اسناد میں نائب صدر ہند بطور مہمان خصوصی شرکت کر رہے ہیں۔
یونیورسٹی حکام کے مطابق پروگام کا آغاز نائب صدر کی آمد اور شجر کاری کی رسمی تقریب سے ہوگا جس کے بعد لیفٹیینٹ گورنر منوج سنہا، جو یونیورسٹی کے چانسلر بھی ہیں، کی طرف سے کنوکیشن کا باقاعدہ افتتاح کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ تعلیمی سیشن۲۰۲۳تا۲۰۲۵کے لئے انڈر گریجویٹ، پوسٹ گریجویٹ، پروفیشنل اور ریسرچ اسکالرز کو ڈگریاں تفویض کی جائیں گی جبکہ نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ کو گولڈ میڈلز سے نوازا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور دیگر معززین بھی تقریب سے خطاب کریں گے جس کے بعد نائب سدر اپنا خطبہ پیش کریں گے۔










