سالانہ ایک کروڑ مسافروں کو ہینڈل کرنے کی گنجائش ‘طیاروں کی پارکنگ کی گنجائش موجودہ ۹ سے بڑھ کر ۱۵ ہو گی
سرینگر: وزیرِ اعظم نریندر مودی کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے اقتصادی امور نے منگل کے روز سری نگر بین الاقوامی ہوائی اڈے پر سول انکلیو کی تعمیر کی منظوری دے دی، جس کی مجوزہ لاگت ایک ہزار۶۷۷کروڑ روپے ہے۔
فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے مرکزی وزیر اشونی ویشنو نے کہا’’نیا سول انکلیو منصوبہ۷۳ء۱۸ ایکڑ رقبے پر محیط ہوگا، جس میں۷۱ہزار۵۰۰مربع میٹر پر مشتمل جدید ترین ٹرمینل عمارت شامل ہوگی، جس میں۲۰ہزار۶۵۹مربع میٹر موجودہ ڈھانچہ بھی شامل ہے۔ یہ عمارت مصروف اوقات میں۲۹۰۰مسافروں کی خدمت کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے اور سالانہ۱۰ملین مسافروں کی گنجائش رکھے گی‘‘۔
کابینہ کے اعلان کے مطابق توسیع شدہ ایپرن میں۱۵طیاروں کی پارکنگ کی سہولت ہوگی، جن میں ایک وائیڈ باڈی (کوڈ E) شامل ہے (۹موجودہ اور۶مجوزہ)، جبکہ۳۶۵۸میٹر × ۴۵میٹر رن وے بدستور بھارتی فضائیہ(آئی اے ایف)کے زیرِ انتظام رہے گا۔ منصوبے میں ایک ہزار گاڑیوں کے لیے کثیر سطحی پارکنگ کی تعمیر بھی شامل ہے۔
سکیورٹی اہلکاروں کے لیے بیرکس کی تعمیر بھی منصوبے کا حصہ ہے۔ یہ ہوائی اڈہ، جسے۲۰۰۵میں بین الاقوامی ہوائی اڈے کا درجہ دیا گیا تھا، بھارتی فضائیہ کے بڈگام ایئربیس کے اندر واقع ہے اور ایئرپورٹس اتھارٹی آف انڈیا کے زیرِ انتظام ہے۔ یہ سری نگر شہر سے تقریباً۱۲کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
کابینہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، نئی ٹرمینل عمارت کا طرزِ تعمیر جدید ڈیزائن اور کشمیر کی ثقافتی وراثت کے حسین امتزاج کی عکاسی کرے گا، جس میں روایتی عناصر جیسے نفیس لکڑی کا کام اور مقامی طرزِ دستکاری شامل ہوں گے، جبکہ مسافروں کی سہولت کے لیے منظم پراسیسنگ ایریاز، کشادہ لاؤنجز اور جدید سکیورٹی و چیک اِن سہولیات فراہم کی جائیں گی تاکہ عملی کارکردگی برقرار رہے۔
پائیداری اس منصوبے کا بنیادی ستون رہے گی، جس میں جدید واٹر ہارویسٹنگ نظام، توانائی کی بچت کے لیے قدرتی روشنی کا زیادہ سے زیادہ استعمال، اور کاربن فُٹ پرنٹ کم کرنے کے لیے مقامی اور ماحول دوست مواد کا استعمال شامل ہوگا۔
اس منصوبے کا ہدف ممتاز۵ اسٹار GRIHA ریٹنگ حاصل کرنا ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے علاوہ، اس منصوبے سے سیاحت اور اقتصادی ترقی کو نمایاں فروغ ملنے کی توقع ہے، کیونکہ اس سے ڈل جھیل، شنکراچاریہ مندر اور مغل گارڈنز جیسے مشہور سیاحتی مقامات تک رسائی بہتر ہوگی۔ اس کے نتیجے میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا اور سری نگر کی حیثیت ایک ممتاز سیاحتی اور اقتصادی مرکز کے طور پر مزید مستحکم ہوگی۔
یوں سول انکلیو کی ترقی عالمی معیار کا بنیادی ڈھانچہ فراہم کرنے، مسافروں کو بہتر سہولیات دینے اور رابطہ کاری کو مضبوط بنانے کی سمت ایک انقلابی قدم ثابت ہوگی، جو کشمیر کی ثقافتی اور قدرتی خوبصورتی کو دنیا کے سامنے پیش کرے گی۔










