سرینگر: حکومتِ ہند نے پیر کے روز ملک کی پہلی جامع انسدادِ دہشت گردی پالیسی ’’پراہار‘‘ جاری کر دی، جس میں ’’زیرو ٹالرنس‘‘، خفیہ معلومات کی بنیاد پر پیشگی روک تھام اور شدت پسندانہ تشدد کے انسداد پر مبنی کثیر سطحی حکمتِ عملی پیش کی گئی ہے۔ اس پالیسی کا مقصد دہشت گردوں، ان کے مالی معاونین اور حامیوں کو مالی وسائل، اسلحہ اور محفوظ پناہ گاہوں تک رسائی سے محروم کرنا ہے۔
وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری اس دستاویز میں دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے سات بنیادی ستون وضع کیے گئے ہیں۔ ان میں پیشگی روک تھام، مؤثر ردِعمل، داخلی صلاحیتوں کا انضمام، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی پر مبنی طریقۂ کار، دہشت گردی کو فروغ دینے والے عوامل بشمول انتہا پسندی کا سدباب، عالمی سطح پر انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں سے ہم آہنگی، اور سماجی سطح پر بحالی و استحکام شامل ہیں۔
دستاویز میں کہا گیا ہے کہ بھارت کے قریبی خطے میں وقفے وقفے سے عدم استحکام کی تاریخ رہی ہے، جس کے نتیجے میں بعض اوقات غیر منظم اور بے نگرانی علاقے وجود میں آئے۔ مزید یہ کہ خطے کے چند ممالک نے بعض مواقع پر دہشت گردی کو ریاستی پالیسی کے آلے کے طور پر استعمال کیا، تاہم کسی ملک کا نام نہیں لیا گیا۔
اس کے ساتھ یہ بھی واضح کیا گیا کہ بھارت دہشت گردی کو کسی مخصوص مذہب، قومیت یا تہذیب سے منسوب نہیں کرتا اور ہر قسم کی دہشت گردی کی بلا امتیاز مذمت کرتا آیا ہے۔
پالیسی کے مطابق بھارت طویل عرصے سے سرحد پار سے سرپرستی یافتہ دہشت گردی کا شکار رہا ہے، جہاں جہادی تنظیمیں اور ان کے ذیلی نیٹ ورکس حملوں کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد میں ملوث رہے ہیں۔ عالمی دہشت گرد گروہ جیسے القاعدہ اور دولتِ اسلامیہ (داعش) بھی ملک میں تشدد بھڑکانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔
دستاویز میں کہا گیا ہے کہ بیرونی سرزمین سے سرگرم عناصر جدید ٹیکنالوجی، بشمول ڈرونز، کا استعمال کرتے ہوئے پنجاب اور جموں و کشمیر میں دہشت گردی سے متعلق سرگرمیوں کو تقویت دیتے رہے ہیں۔ مزید برآں، دہشت گرد تنظیمیں منظم جرائم پیشہ نیٹ ورکس سے روابط قائم کر کے لاجسٹک اور بھرتی کے معاملات کو آگے بڑھا رہی ہیں۔
پالیسی میں اس امر پر بھی روشنی ڈالی گئی کہ دہشت گرد گروہ سوشل میڈیا اور فوری پیغام رسانی کی ایپلی کیشنز کو پروپیگنڈا، رابطے اور فنڈنگ کے لیے استعمال کر رہے ہیں، جبکہ خفیہ کاری، ڈارک ویب اور کرپٹو والیٹس جیسی ٹیکنالوجی نے ان کی سرگرمیوں کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ کیمیائی، حیاتیاتی، شعاعی، جوہری، دھماکہ خیز اور ڈیجیٹل مواد تک رسائی کو روکنا انسدادِ دہشت گردی اداروں کے لیے ایک چیلنج قرار دیا گیا ہے۔
دستاویز میں بھارت کے طرزِ عمل کو ’فعال‘ اور ’’خفیہ معلومات کی رہنمائی میں‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ فضائی، زمینی اور آبی راستوں سے درپیش خطرات کے پیش نظر انٹیلی جنس اکٹھا کرنے اور اسے فوری طور پر متعلقہ ایجنسیوں تک پہنچانے کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ اس مقصد کے لیے ملٹی ایجنسی سینٹر اور انٹیلی جنس بیورو کے تحت جوائنٹ ٹاسک فورس آن انٹیلی جنس جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے مرکزی و ریاستی اداروں کے درمیان قریبی تعاون قائم کیا گیا ہے۔
قانون نافذ کرنے والے ادارے اوور گراؤنڈ ورکر نیٹ ورکس کے خلاف بھی کارروائی کرتے ہیں، جو دہشت گردوں کو مالی اور لاجسٹک معاونت فراہم کرتے ہیں۔ غیر قانونی اسلحہ نیٹ ورکس اور دہشت گرد گروہوں کے گٹھ جوڑ کے انسداد کے لیے مربوط اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
پالیسی کے مطابق دہشت گرد حملوں کے ردِعمل کے لیے مرکزی، ریاستی اور ضلعی سطح پر متعدد ادارے معیاری عملی طریقۂ کار کے تحت مشترکہ کارروائی کرتے ہیں، جبکہ انسدادِ دہشت گردی ایجنسیوں کی صلاحیتوں کو وسائل کی کمی کی نشاندہی اور ضروری اقدامات کے ذریعے مضبوط بنایا گیا ہے۔
دستاویز میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ بھارتی قوانین، بشمول انسدادِ دہشت گردی قوانین، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کے اصولوں کے مطابق نافذ کیے جاتے ہیں، اور ملزمان کو عدالتی نظام میں متعدد سطحوں پر قانونی چارہ جوئی کا حق حاصل ہے۔
مزید کہا گیا ہے کہ غربت اور بے روزگاری جیسے عوامل سے نمٹنے کے لیے حکومتی اسکیمیں نافذ کی جا رہی ہیں تاکہ شدت پسند عناصر ان حالات کا فائدہ نہ اٹھا سکیں۔ بین الاقوامی تعاون کے نتیجے میں متعدد دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیاں، حوالگی اور اقوام متحدہ میں نامزدگی جیسے اقدامات ممکن ہوئے ہیں۔
پالیسی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حکومت ڈاکٹروں، ماہرینِ نفسیات، وکلاء، سماجی کارکنوں اور مذہبی رہنماؤں کے تعاون سے متاثرہ طبقات کی بحالی اور سماجی انضمام کے لیے اقدامات کرتی ہے۔
دستاویز کے مطابق ابھرتے ہوئے چیلنجز کے پیش نظر ملکی قانونی ڈھانچے میں وقتاً فوقتاً ترامیم کی ضرورت ہوگی تاکہ دہشت گردی کے مقدمات کو مؤثر انداز میں منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔
پالیسی میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ قومی اقدامات کے ساتھ ساتھ علاقائی اور عالمی تعاون کو فروغ دے کر سرحد پار دہشت گردی کے چیلنج سے نمٹا جائے گا، جبکہ مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری اور نجی شعبے کے ساتھ شراکت داری کو بھی ترجیح دی جائے گی۔










